Foroug-e-Azadari Forum GB
12/07/2025
علامہ سید کاظم عباس نقوی کا فکری افق
صحافت کی وادی پرخار میں سفر کرتے ہوئے کبھی کبھار ایسی ہستیوں سے شناسائی کا شرف حاصل ہوتا ہے جن کی شخصیت کی تابندگی نہ صرف مشاہدہ کرنے والے کی بصیرت کو منور کرتی ہے بلکہ ایک دیرپا تاثیر چھوڑ جاتی ہے۔ بعض افراد اپنے فن، عمل اور فہم سے زمانے پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں، اور بعض ایسی نابغۂ روزگار ہستیاں بھی ہوتی ہیں جو معاشرے کے کسی گوشے میں انفرادی خوبیوں اور اوصاف کی ایسی درخشندہ مثال پیش کرتی ہیں کہ وہ نہ صرف قابلِ تحسین ٹھہرتی ہیں بلکہ رشک و فخر کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔
ایسی ہی ایک متین، متواضع اور پرجمال شخصیت علامہ سید کاظم عباس نقوی سے حالیہ ایام میں سکردو کے علمی افق پر ملاقات کا اتفاق ہوا۔
معلوم ہوا کہ موصوف ان دنوں سکردو میں قیام پذیر ہیں اور نوجوان نسل کی فکری آبیاری کے لیے نہایت سنجیدہ اجتماعات سے خطاب فرما رہے ہیں۔ ان کے مقامی میزبان، نے پُرخلوص لہجے میں مشورہ دیا کہ اس فکری و روحانی شخصیت کا انٹرویو لیا جائے تاکہ عامۃ الناس بھی اُن کی فہم و فراست، قربانیوں اور خدمات سے روشناس ہو سکیں۔
اگرچہ علامہ موصوف کی شخصیت، خدمات اور علمی مقام کا شہرہ ملک گیر سطح پر ہے اور ان کے خطابات سے ہزاروں اذہان منور ہو چکے ہیں، تاہم سایچن ٹائمز کے ناظرین کی دلچسپی کے پیش نظر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس غرض سے ادارے کے دفتر میں ہونے والی ملاقات، محض ایک انٹرویو نہ رہی، بلکہ ایک فکری و روحانی تجربہ بن گئی جس میں ان کی زندگی کے کئی گوشے پہلی بار اس شدت سے منکشف ہوئے۔
علامہ کاظم عباس نقوی کا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے ہے۔ ان کے والد محترم ایک اعلیٰ سرکاری ادارے میں ڈائریکٹر جنرل کے منصب پر فائز تھے۔ آپ نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر ملک کے باوقار امتحان سی ایس ایس میں پہلی ہی کوشش میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے سول سروس کے اعلیٰ ادارے میں شمولیت اختیار کی۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد کوئٹہ میں بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے اور چار برس تک فرض شناسی، دیانت اور فہم و فراست سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
مگر یہ وہ منزل نہ تھی جس کی تلاش میں آپ کا دل مضطرب تھا۔ دلی تڑپ کچھ اور ہی تقاضا کر رہی تھی کہ دینِ مبین کی سچائیوں سے قرب، محمد و آلِ محمدؑ کے دَر کی نسبت اور علومِ اہلِ بیتؑ سے قلبی وابستگی۔ چنانچہ وہ لمحہ آیا جب دنیاوی جاہ و حشمت، منصب و مرتبہ، سب کچھ پس پشت ڈال کر، آپ نے علمی و روحانی سر زمین قم مقدسہ کی جانب رخ کیا تاکہ علم دین کے بحرِ ذخار سے سیراب ہو سکیں۔
علمِ معاشیات میں عصری مہارت پہلے ہی حاصل تھی، اب اسی علم کے دینی جہات کو سمجھنے اور شرعی معاشیات کی گہرائیوں تک رسائی کا عزم کیا۔ یہ کوئی آسان راستہ نہ تھا۔ یہ ایک خشک، پیچیدہ اور عمیق میدان تھا جس میں آپ نے شب و روز کی ریاضت سے چودہ برس صرف کیے۔ اور جب واپس وطن لوٹے تو دل دنیا کی حرص و ہوا سے پاک اور روح محض ایک ہی تمنا سے سرشار تھی: کہ زندگی کو پیشۂ انبیا میں ڈھالا جائے اور تعلیماتِ محمد و آلِ محمدؑ کو عام کر کے معاشرے کو ہدایت و حکمت کا چراغ عطا کیا جائے۔
تب سے لے کر آج تک، آپ نہ صرف اپنے آبائی شہر کراچی بلکہ ملک کے کونے کونے، شمال سے جنوب، گلگت بلتستان سے اندرونِ سندھ، پنجاب و بلوچستان تک تشریف لے جا چکے ہیں، اور ہر مقام پر مجالسِ عزا کے ذریعے جہاں دردِ کربلا کی تفسیر بیان کرتے ہیں، وہیں نوجوانوں کی فکری تربیت اور عصری چیلنجز کا شعور دینے کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔
یہ چھٹی بار ہے کہ آپ نے وادی بلتستان کا سفر اختیار کیا ہے، اور اس دفعہ بھی مقصد وہی ہے جو ہمیشہ رہا ،نوجوانوں کی فکر کی آبیاری، دلوں کی اصلاح اور امت کو وحدت، رواداری، امن، محبت اور اخوت کا پیغام دینا۔ آپ کی گفتگو میں نفرت کا شائبہ نہیں، تفریق کا کوئی رنگ نہیں۔ بلکہ اتحادِ امت، مشترکہ اقدار، اور دینی شعور کو اجاگر کرنا آپ کی علمی دعوت کا مرکزی محور ہے۔
سایچن ٹائمز پہ ان کا تفصیلی انٹرویو بہت جلد ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ امید ہے کہ قارئین و سامعین اس علمی و فکری ضیافت سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
22/02/2025
*سلام بر بازو ولایت قائد مقاومت*
(تجدید عہد شہداۓ مقاومت)
شھدائے مقاومت باالخصوص قائد مقاومت سید حسن نصراللہ(رح) شہید صفی الدین(رح) کی تشیع جنازہ کی مناسب سے۔ *طاغوت شکن اجتماع* کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ *پروگرام انشاءاللہ* 23 فروری 2025ء بروز اتوار بمقام مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت. (بوقت 3PP تا 6MP ) نوٹ بڑی اسکرین کے ذریعے بیروت سے براہ راست تشیع جنازہ کے عظیم الشان پروگرام کو دیکھایا جائے گا۔ تمام مسلمانوں سے باالخصوص نوجوانوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
امامیہ آرگنائزیشن پاکستان گلگت ریجن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Gilgit
15100