Media Lens

Media Lens

Share

04/05/2026

نزاکت خان ولد نزیر خان (ضلع غذر) کا بٹوا وہاب شہید پولوں گراؤنڈ میں گم ہو گیا ہے۔
بٹوے کے اندر موجود اشیاء:
تقریباً 20 ہزار روپے نقد
ATM کارڈ
شناختی کارڈ (CNIC)
سروس کارڈ
اگر کسی بھائی کو یہ بٹوا ملا ہو تو براہِ کرم درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں:
📞 0355-4140048
شناختی نمبر: 71402-6789397-7
براہِ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ بٹوا اپنے اصل مالک تک پہنچ سکے۔

17/01/2026

سوشل میڈیا بدتمیزی کا طوفان
تحریر امان بونجوی ۔۔

سوشل میڈیا میں اس وقت گروہ واریت کے نام پر ایک بدتمیزی کا طوفان برپا ہے ۔ ہر دن کوئی نہ کوئی ایسی پوسٹ نظر سے گزر رہی ہے جس میں فرقہ واریت کے نام پر بدتمیزی کا طوفان ہوتا ہے ۔ موجودہ عالمی حالات کا سارا کے سارا سسٹم چلانے کا حق صرف گلگت بلتستان کے حصے میں آ گیا ہے ملک کے کسی بھی حصہ میں مذہب کے نام پر کوئی قتل ہو یا عالمی سطح پر دو ممالک کی لڑائی ہو کی زمہ داری گلگت بلتستان کے لوگوں کو ملی ہے ۔ اپنے بنیادی حقوق سے بے خبر ہم گلگت بلتستان کے نوجوان کو ہمارے علماء کو شیخ مشایخ کو یہ ٹھیکہ ملا ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرے دنیا کے کسی بھی ہونے والی فساد کا ذکر گلگت بلتستان میں کرے اور یہاں فرقہ ورانہ نفرت کو پروان چڑھانے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اس وقت تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں ، نوجوان اعلی تعلیم یافتہ ہیں مگر جاہلیت کی انتہا گلگت بلتستان میں ہے۔ گلگت بلتستان کو کب تک فرقہ ورانہ نفرت اور تقیسم میں رہنا ہوگا ۔ آخر ہمارے اندر کا مردہ ضمیر کب ذندہ ہوگا کب ہم اسلام اور انسانیت کو سمجھ جائیںگے کب ہم انسانی حقوق کو سمجھ جائیںگے کب ہم ہمسایہ کی حقوق کو سمجھ جائیںگے۔ گلگت بلتستان میں نوجوان کے نام فیس بک میں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھرمار ہے ہزاروں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں جن کا کام نفرت پیدا کرنا ہے یہ فیک اکاؤنٹس پاکستان دشمن لوگوں کے بھی ہو سکتے ہیں ہمیں ان فیک اکاؤنٹس کا الزام ایک دوسروں پر نہیں لگانا چاہیے ان فیک اکاؤنٹس کو شکست ہم تب دے سکتے ہیں جب ہمارے علماء کرام ، شیخ مشایخ اور نوجوان کو شعور بیدار ہو۔ آج فرقہ واریت کے نام پر گلگت بلتستان میں سیاست کی جاتی ہے ، فرقہ واریت کے نام پر کاروبار کیا جاتا ہے اور عوام کو لوٹا جاتا ہے ، فرقہ واریت کے نام پر ملازمت کی جاتی ہے جس میں میرٹ کا قتل عام کیا جاتا ہے ، ترقیاتی منصوبوں کو بھی فرقہ واریت کے نظر کیا جاتا ہے جس سے علاقے میں ترقی کا سفر مکمل تباہ ہے۔ یہاں دنیا چاند پر جانے کا سوچ ہے وہی پر گلگت بلتستان کے نوجوان مناور جیل جانے کا سوچ رہے ہیں ۔ کافی دنوں سے میں غور سے سوشل میڈیا کو دیکھ رہا ہوں تمام دنیا کا ٹھیکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو ملا ہے۔ گلگت بلتستان میں ایسا لگتا ہے کہ بڑے ایماندار دین دار لوگ ہیں مگر سود کا کاروبار ہم کرتے ہیں ، میرٹ کا قتل عام ہم کرتے ہیں کسی بے گناہ کا گھر ہمیشہ کیلئے تباہ ہم کرتے ہیں وہ بھی بڑے ناز سے کہ ہم تو بڑے مسلمان ہیں ارے بھائی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا کیسے دشمن ہو سکتا ہے ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے کیسے نفرت کر سکتا ہے ۔ ایک مسلمان کیسے اہلبیت علیہ السّلام اور صحابہ کرام کا توہین کر سکتا ہے ۔ عیجب کہانی یہ ہے کہ سب اپنے اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں پھر اسلام اور مسلمان کے نام پر ایک دوسروں سے نفرت بھی کرتے ہیں۔ اب نوجوان اس نفرت کو ختم کر سکتے ہیں اب نوجوان اس تقیسم اور فساد کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتے ہیں کیونکہ اب نوجوان کے ہاتھوں میں ٹیکنالوجی ہے اب نوجوان کے ہاتھ میں بہت کچھ ہے وہ غلط کا غلط بول سکتے ہیں وہ فساد کی جگہ امن کا پیغام دے سکتے ہیں۔ پوری دنیا کی لڑائی لڑنے کے بجائے اپنے حقوق کی لڑائی سوشل میڈیا میں لڑ سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے نوجوان کو اب سمجھ جانا ہوگا دادا سے ترقی نہیں ہوگا ، فساد سے آپ کا مستقبل روشن نہیں ہوگا ۔ لہذا آپ لوگ مل کر مذاحمت کرو ان تمام لوگوں کو جو آپ کو لڑا رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہی ہے فرقہ واریت کے نام مرنے والوں کے بال بچے آج اپنے والدین کے لیے ترس رہے ہیں۔ نظام زندگی کو معاشرے کے مطابق گزارنے کیلئے ترس رہے ہیں لہذا ہمیں ان لوگوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور مزید نوجوان کا مستقبل برباد نہیں کرنا چاہیے ۔ ملک میں قانون ریاست موجود ہے مجرموں کو سزا دینے کا کام ریاست کا ہگ لہذا ریاست کا کام کسی کو اپنے ہاتھوں سے کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ نوجوان اگر ایماندار ہیں تو خود کو گناہ سے دور کرے خود کو سود حرام خوری سے دوری کرے ۔ نماز پڑھنے کو ترجیح دیں زندگی میں کبھی مسجد نہیں جانے والے افراد بھی سوشل میڈیا میں فرقہ ورانہ ماحول کو گرم کر رہے ہیں لہذا ایسے لوگوں کی باتوں میں نہ آ جائے اور کسی کی گھر اور زندگی کو بر بادی کی طرف لیکر جائے ۔ اللہ پاک گلگت بلتستان کو امن کا گہوارہ بنا دیں آمین ۔

Photos from Media Lens's post 26/12/2025

27 دسمبر: دخترِ مشرق، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت — ملک غلام علی شاہ کا خراجِ تحسین
گلگت
27 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جب دخترِ مشرق، مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور جمہوریت کی بے خوف علمبردار محترمہ بے نظیر بھٹو نے راولپنڈی میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے سینئر نائب صدر گلگت ڈویژن اور سابق مشیر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ملک غلام علی شاہ نے انہیں زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے بیان میں ملک غلام علی شاہ نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہادت سے قبل قوم کو یہ تاریخی پیغام دیا تھا:
"جمہوریت بہترین انتقام ہے"
یہ الفاظ آج بھی پاکستان کے کروڑوں عوام کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور آمریت، جبر اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا استعارہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت صرف ایک سیاسی رہنما کا نقصان نہیں بلکہ یہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقِ حکمرانی پر حملہ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی پوری زندگی عوامی حقوق، آئین کی بالادستی اور وفاقِ پاکستان کے استحکام کے لیے وقف کر دی۔ قید و بند، جلاوطنی اور جان کے خطرات کے باوجود انہوں نے وطن واپس آ کر عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
ملک غلام علی شاہ نے کہا کہ دخترِ مشرق ہونے کے ناتے محترمہ بے نظیر بھٹو نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا میں خواتین کے لیے قیادت، حوصلے اور خود اعتمادی کی نئی تاریخ رقم کی۔ وہ مظلوموں، محنت کشوں، کسانوں اور نوجوانوں کی آواز تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نظریے اور فلسفے پر قائم ہے اور ان کا مشن آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پوری قوت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری شہید بی بی کے اس پیغام کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں کہ عوامی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔
آخر میں ملک غلام علی شاہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ محترمہ بے نظیر بھٹو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے سنہری اصولوں، جمہوری سوچ اور قربانی کے فلسفے پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں عوامی مسائل کے حل اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

22/12/2025

جب تک حافظ حفیظ الرحمان اقتدار میں آکے مناور سے بسین تک ایک دو ایکسپریس ویز اور ہائی ویز نہیں بنواتا گلگت شہر کے ٹریفک کے مسائل کبھی حل نہیں ہونے باقی گاڈیوں ہر پابندی لگانا یہ کوئی حل نہیں حل صرف حافظ حفیظ الرحمان ہے عوام کی امیدیں بھی اس وقت حافظ حفیظ الرحمان صاحب سے جڑی ہوئی ہیں وہ آئنگے گلگت میں کشادہ سڑکیں بنوائنگے الیکٹرک بسیں بھی لائنگے جس سے جی بی کی عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہونگی
ایمان انصار

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

http://formalpost.com/

Address


Media Lens, Sadpara Chowk, Naveed Shaheed Road, Zulfiqar Abad
Gilgit
15100