Peaceful Ghizer
Phander valley Ghizer GB.
.
Captured by
04/06/2025
تحریر wali
نوٹ:
یہ تحریر کسی فردِ واحد کے متعلق نہیں، نہ ہی یہ تنقید پر مبنی ہے۔ یہ نہایت خلوص اور دردِ دل کے ساتھ ایک عمومی مشاہدے اور ذاتی سوچ کا اظہار ہے، جس کا مقصد صرف غور و فکر کی دعوت دینا ہے۔
۔
"شہرت کی قیمت، عزت؟"
آج کے دور میں دکھائی دینا، قابلِ قدر ہونے کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔
تو سوال یہ ہے:
کیا ہماری بچیوں کے لیے مشہور ہونے کا واحد راستہ اب صرف ٹک ٹاک یا انسٹاگرام ہی رہ گیا ہے؟
جی ہاں، سوال بہت ہیں، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے:
سوشل میڈیا ہی کیوں؟ کیا عزت کا تصور صرف ویوز، لائکس اور فالوورز تک محدود ہو چکا ہے؟
اسلام نے عورت کو عزت دی، پردہ دیا، وقار دیا۔
عورت کی اصل خوبصورتی اسی پردے میں ہے، نا کہ اس سکرین پر جہاں عزت کو نیلام کر کے شہرت خریدی جائے۔
یہ صرف بچیوں کے لیے نہیں،
یہ ہر ماں باپ کے لیے پیغام ہے:
اپنی بیٹیوں کو سمجھائیں کہ وہ قیمتی ہیں، اُن کا وقار ان کی پہچان ہے۔
بیٹیوں کو سوشل میڈیا پر آنے کی ضرورت نہیں اگر ہم انھیں گھر میں عزت دیں، اعتماد دیں اور وقت دیں۔
یاد رکھیں،
عزت وہ زیور ہے جو سستا نہیں، اور شہرت وہ سودا ہے جو اکثر عزت کی قیمت پر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے—والدین کو بھی، بچوں کو بھی۔
سوشل میڈیا پر نہیں، عزت میں زندہ رہیں۔
والسلام
معراج والی ۔۔
سابق ڈی سی دیامر کا تبادلہ رکوانے کے لئے وزیر اعلی سمیت سیکرٹریز کا ایک گروپ سرگرم !
کیا چیف سیکرٹری دباؤ میں اجائیں گے ؟
" فیاض احمد کو سیکرٹریز اور وزیر اعلی " کو ڈپٹی کمشنر دیامر کی کرسی سے اتنی دلچسپی کیوں ؟
تبادلے کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے باوجود کرسی چھوڑنے سے انکاری
نو تعینات ڈی سی کو کام کرنے نہیں دیا گیا !
ڈی سی کا آفیشل پیج ہائی جیک ، فیاض احمد کی پرانی سرگرمیوں کو مسلسل شئیر کیا جارہا
ایسا کیوں ؟
کیا پوسٹنگ ٹرانسفر سروس کا حصہ نہیں ؟
چیف سیکرٹری بمقابلہ وزیر اعلی
10/05/2025
ملک کو جب بھی ضرورت ہو جوانوں کی تو غذر، گلگت بلتستان کے سپوت صف اول میں کھڑے ہوتے۔
حالیہ انڈیا پاکستان کی کشیدگی میں غذر پھنڈر کے سپوت شمس اللہ رسالپور اٹیکینگ اسکارڈ جس میں پاکستان کی طرف سے 40 سے زائد جہازوں نے حصہ لیا۔ جی ڈی پائلٹ شمس اللہ بھی اسی اسکارڈ میں شامل تھا۔
بھارتی پائلٹس جدید جنگی جہازوں کی ٹریننگ لینے کےلئے روس گئے، روس کا انسٹرکٹر دوران ٹریننگ بتا رہا تھا کہ "اس بٹن کو دبانے سے طیارہ اوپر جائے گا اور اس بٹن کو دبانے سے طیارہ دائیں مڑے گا اور اس بٹن کو دبانے سے طیارہ بائیں مڑے گا"۔
ٹریننگ کے اختتام پر بھارتی پائلٹس نے سوال پوچھنے کےلئے ہاتھ کھڑے کیے اور سب نے مشترکہ طور پر ایک ہی سوال پوچھا کہ "طیارہ نیچے کیسے لایا جائے گا۔؟"
روسی انسٹرکٹر نے لمبا سانس لیا اور بھارتی پائلٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "اس بات کی تمہیں فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، یہ پاکستانی پائلٹس پر چھوڑ دو وہ تمہیں جہاز سمیت نیچے لے آئیں گے۔"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Post Office Phander
Gilgit