khunjrav Media Network
ہنزہ ،، گزشتہ حالیہ بارشوں کے بعد التر نالے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے اعلیٰ نمبردار اسلم میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
23/04/2026
گلگت بلتستان میں کینسر کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ — ماہرین کی تشویش
گلگت بلتستان میں کینسر کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر معدہ، جگر، چھوٹی اور بڑی آنت، اور خوراک کی نالی (Esophagus) کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
معروف ماہر امراض معدہ و جگر، ڈاکٹر شان عالم نے حالیہ میڈیا بریفنگ میں اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ کئی اہم عوامل کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جن میں ناقص خوراک، آلودہ پانی، غیر صحت بخش طرزِ زندگی، تمباکو نوشی، اور بروقت تشخیص کی کمی شامل ہیں۔
ڈاکٹر شان عالم نے کہا:
“ہمیں فوری طور پر آگاہی مہمات شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ابتدائی علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی معائنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا جا سکے۔ بدقسمتی سے زیادہ تر مریض اس وقت سامنے آتے ہیں جب بیماری آخری مراحل میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔”
ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے:
• مسلسل پیٹ درد یا بدہضمی
• کھانے نگلنے میں دشواری
• بغیر وجہ وزن میں کمی
• خون کی کمی یا کمزوری
• قے یا پاخانے میں خون
عوام کے لیے اہم ہدایات:
• صاف پانی کا استعمال یقینی بنائیں
• تازہ اور متوازن غذا کھائیں
• تمباکو اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں
• سالانہ میڈیکل چیک اپ کروائیں
• کسی بھی غیر معمولی علامت پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ حکومت، طبی اداروں اور عوام کو مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
20/04/2026
پیپلز پارٹی ہنزہ کے سینئر رہنما، حبیب الرحمٰن نے گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ GBA-6 ہنزہ سے ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی باضابطہ طور پر جمع کرا دیے ہیں۔
ان کی یہ پیش رفت بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حبیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ ہنزہ اور گلگت بلتستان کے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔
گوجال کے علاقے میں حالیہ دنوں میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں غلاپن سے رات کے وقت ایک کار چوری ہونے کی واردات پیش آئی۔ اسی دوران سوست میں ایک دکان کو بھی نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق ملزمان چوری شدہ گاڑی کو مورخون کے علاقے میں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ تاہم علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی کے باعث ملزمان کی شناخت اور ان تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس بات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بین الاقوامی سرحد کے قریب اہم مقامات پر سی سی ٹی وی نظام کا نہ ہونا ایک سنگین سیکیورٹی خلا کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
پرامن سمجھے جانے والے گوجال میں اس طرح کی وارداتوں نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی نظام کو فوری طور پر مضبوط بنایا جائے، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب یقینی بنائی جائے اور گشت کے نظام کو مؤثر کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
#
ہنزہ: آنے والے انتخابات نے ایک دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بار عوام سے زیادہ وفاقی جماعتوں کے کارکنان نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں، جو ایک طرح سے “سیاسی ریکارڈ” قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار پاکستان مسلم لیگ کے 8 امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے 8 امیدوار میدان میں اترنے کے لئے تیار۔ جبکہ آزاد امیدوار ، عوامی ورکرز پارٹی ، تحریک استحکم پارٹی اور خواتین امیدوار اس سے الگ تیاری کے ساتھ آنے والے الیکشن میں میدان میں اترنے کی تیاری میں مصروف عمل ھے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس عمل کو تنقیدی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ عام رائے یہ ہے کہ یہ سب دراصل اصل سیاسی حقائق پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، جہاں نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو پسِ پشت ڈال کر بااثر اور نئے چہروں کو ٹکٹ دینے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
ہنزہ کے عوام کا ماننا ہے کہ مختلف وفاقی جماعتوں کے اندر اب بھی ایسے مخلص، وفادار اور عوام دوست کارکن موجود ہیں جو اپنی عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی اور وفاقی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرے گی؟
فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اس بار ٹکٹ واقعی نظریاتی کارکنوں کو ملتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح گروپ بندی اور سیاسی مصلحتوں کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ ایک بڑا امتحان بھی ہے، کیونکہ ماضی میں وہ اسی طرزِ عمل پر سخت تنقید کر چکی ہیں جو آج خود ان کے سامنے ایک چیلنج بن کر کھڑا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Gilgit