Markhor Times
24/07/2026
دیامر کے عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کب ملیں گی؟
"سونے کی قیمت لوہار کیا جانے"—یہ محاورہ آج آر ایچ کیو ہسپتال چلاس کی موجودہ صورتحال پر صادق آتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ اہم ضلعی ہسپتال اس وقت انتظامی بدحالی کا شکار ہے۔ عوام کو نہ مطلوبہ طبی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی تمام ضروری اسپیشلسٹ ڈاکٹر دستیاب ہیں۔ ایسے حالات میں موجود وسائل کو مزید مضبوط بنانے کے بجائے قابل اور محنتی ڈاکٹروں کو یہاں سے منتقل کرنے کی کوششیں عوام کے مفاد کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔
چند ماہ قبل ڈاکٹر محمد اقبال کی پوسٹنگ ختم ہونے سے صرف دیامر کے عوام ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ پوسٹ گریجویٹ (PG) ٹرینی ڈاکٹرز کی تربیت بھی شدید متاثر ہوئی۔ آر ایچ کیو ہسپتال چلاس میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ پروگرام کے آغاز کا سب سے بڑا سہرا پروفیسر ڈاکٹر سارہ جمیل کے سر جاتا ہے۔ ان کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور لگن کی بدولت چلاس جیسے دور افتادہ علاقے میں یہ ٹریننگ پروگرام شروع ہوا، جو یہاں کے عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سارہ جمیل کسی تعارف، شہرت یا دولت کی محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت دی ہے اور انہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیا ہے۔ ان کی خدمات ہر شخص کے سامنے ہیں۔ گائنی وارڈ کی جدید تزئین و آرائش، بہترین آپریشن تھیٹر، معیاری ڈلیوری روم، مریضوں کے لواحقین کے لیے شیلٹر ہوم اور گائنی سروسز کی بہتری ان کی عملی کاوشوں کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ تمام کام محدود وسائل میں، ذاتی دلچسپی اور مسلسل محنت سے ممکن ہوئے۔
صوبائی سطح پر ہونے والی ہیلتھ مینجمنٹ کانفرنس میں جب دیامر کے ایم ایس اور ڈائریکٹر ہیلتھ کو ایوارڈ ملا تو اس کامیابی کے پیچھے بھی ڈاکٹر سارہ جمیل کی عملی محنت اور کارکردگی شامل تھی۔ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، نہ کہ انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈاکٹر سارہ جمیل دیامر میں ایک جدید بلڈ بینک کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی تھیں تاکہ خون کی عدم دستیابی کے باعث کسی مریض، خصوصاً ماؤں اور بہنوں، کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بدقسمتی سے یہ منصوبہ بھی مکمل ہونے سے پہلے رک گیا۔
آج سوال یہ ہے کہ آر ایچ کیو ہسپتال چلاس میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کے بجائے، یہاں کام کرنے والے قابل ڈاکٹرز اور ٹرینیز کو کیوں منتقل کیا جا رہا ہے؟ سرجیکل پی جی ٹرینیز کی منتقلی کے بعد اب گائنی پی جی ٹرینیز کو بھی منتقل کرنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو چلاس جیسا واحد ٹیچنگ ہسپتال پروفیسرز اور پی جی ٹرینیز کے بغیر رہ جائے گا، جس کا براہ راست نقصان عوام اور طبی تعلیم دونوں کو ہوگا۔
لہٰذا سیکرٹری ہیلتھ گلگت بلتستان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے پرزور اپیل ہے کہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے آر ایچ کیو ہسپتال چلاس کے انتظامی اور طبی مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
پروفیسر ڈاکٹر سارہ جمیل کو گائناکولوجسٹ کی ذمہ داریوں کے ساتھ آر ایچ کیو ہسپتال چلاس کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) مقرر کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تاکہ ان کی انتظامی صلاحیتوں سے ہسپتال کو فائدہ پہنچ سکے۔
اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تمام خالی آسامیوں کو فوری پُر کیا جائے۔
ڈاکٹر محمد اقبال اور ان کے زیر تربیت پی جی ڈاکٹرز کی واپسی پر غور کیا جائے تاکہ سرجیکل سروسز اور تربیتی نظام دوبارہ فعال ہو سکے۔
گائنی پی جی ٹرینیز کے لیے سپروائزر پرفیسر سارہ جمیل کی تعیناتی یقینی بنائی جائے تاکہ تربیت اور مریضوں کی سہولیات دونوں متاثر نہ ہوں۔
چلاس ہسپتال کو ذاتی اختلافات یا انتظامی تجربات کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے عوامی فلاح کا مرکز بنایا جائے۔
دیامر کے عوام بھی پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح معیاری صحت کی سہولیات پر برابر کا حق رکھتے ہیں۔ جب کوئی ڈاکٹر یا افسر اخلاص کے ساتھ عوام کی خدمت کرتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، نہ کہ اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ اگر ہم اپنے مخلص اور محنتی افراد کی عزت نہیں کریں گے تو ترقی کی امید بھی نہیں رکھ سکتے۔
دیامر کے عوام کو ان کا آئینی اور بنیادی حق، یعنی معیاری صحت کی سہولیات، فراہم کی جائیں۔ آر ایچ کیو ہسپتال چلاس میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے اور ہسپتال کے تدریسی و طبی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ نہ عوام متاثر ہوں اور نہ ہی مستقبل کے ڈاکٹر۔
وزیر اعلیٰ اور حریت رہنماؤں کی ملاقات: مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت پر اتفاق
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ ایڈووکیٹ امجد حسین کا اسلام آباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے دفتر کا دورہ، حریت قیادت سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال۔
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ ایڈووکیٹ امجد حسین نے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حریت رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں جانب سے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت اور حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خوفناک مناظر سیلاب نے دریا کا رخ تبدیل کروا دیا
گلگت میں بارش کے بعد گرمی کا ذور ٹوٹ گیا موسم خوشگوار
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Shop No 101 Near Pso Pump Jutyial Gilgit
Gilgit
05811