NAGAR YOUTH Organization
25/10/2024
یہ افسر شاہی منڈی ہے
آہ سیر کریں اس منڈی کی
وہ دیکھ یہاں پنجاب سے کچھ تاجر آئے بیٹھے ہیں
جو اس منڈی میں مدت سے دکان سجائے بیٹھے ہیں
کچھ جاگیروں کے مالک ہیں کچھ ملیں بنائیں بیٹھے ہیں
اس افسر شاہی منڈی میں فرعون بھی ہیں نمرود بھی ہیں
کچھ ان میں پرانے گھاک بھی ہیں کچھ ان میں نومولود بھی ہیں
کچھ لوگ یہاں سے بھاگ گئے کچھ لوگ ابھی موجود بھی ہیں
یہ لوگ خریدا کرتے ہیں اس دیس کے کچھ فنکاروں کو
منہ مانگی قیمت دیتے ہیں ان سب ذہنی بیماروں کو
دیتے ہیں سہارا یہ تاجران گرتی ہوئی دیواروں کو
اس افسر شاہی منڈی میں ہر اہل قلم بک جاتا ہے
خوشیوں کی تمنا دل میں لیے ہر کشتہ غم بک جاتا ہے
آہ دیکھ ذرا اس منڈی میں کس کس کا بھرم بک جاتا ہے
شائر کا خیال آسانی سے اس منڈی میں بک جاتا ہے
جو اس منڈی میں بک جائے فنکار بڑا کہلاتا ہے
اس افسر شاہی منڈی میں لگتے ہیں زبانوں پر پہرے
یہ روز لگایا کرتے ہیں ہم سوختہ جانوں پر پہرے
آخر یہ لگائیں گے کب تک اب اپنے خزانوں پر پہرے
یہ رات بھی اب کچھ دیر کی ہیں یہ رات بھی اب کٹ جائے گی
جب صبح کی سورج نکلے گا
سب تاریخی چھٹ جائے گی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Gilgit