Learning & Growing
کہا جاتا ہے کہ خلیجی ممالک اور گرد و نواح میں بارشوں کو روکنے اور مصنوعی خشک سالی پیدا کرنے کے لئے HAARP ٹیکنالوجی بطور جنگی ہتھیار استعمال ہوئی تھی جو اس جنگ میں ڈسٹرب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ جاری چل پڑا ہے اس میں کہاں تک صداقت ہے ؟ اسی HAARP ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا میں خشک برف کے چڑکاو سے مصنوعی برف باری اور بارش بھی برسائی جاسکتی ہے۔
احباب کا کیا خیال ہے؟
امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے پر پہنچے ختم ہوگئے
🇮🇷 🇺🇸
02/04/2026
ایک تلخ حقیقت !!!!
اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے اربوں ڈالر بطور امانت موجود ہیں، جبکہ ہمارے اپنے سیاستدان، بڑے تاجر اور بیوروکریسی اپنے اربوں کھربوں ڈالرز لندن، سوئٹزرلینڈ ، دبئی اور دیگر مغربی ممالک کے بینکوں میں محفوظ کیے بیٹھے ہیں۔ یہ تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔
آج جب تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، اور غریب و متوسط طبقہ بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے، ایسے میں حب الوطنی کا تقاضا صرف نعروں سے پورا نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات مانگتا ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، جنگ کے بادل ہمارے سروں پر بھی منڈلا رہے ہیں، اور ایسے نازک وقت میں ہر صاحبِ حیثیت فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک کے ساتھ کھڑا ہو۔ملک کی خراب معاشی صورتحال ملک کی سلامتی کے لئے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔
اگر بیرونِ ملک بنکوں میں پڑے ہوئے ڈالرز کا صرف 50 فیصد بھی پاکستان کے بینکوں میں منتقل کر دیا جائے تو روپے کی قدر مستحکم ہو گی بلکہ نہ صرف ڈالر 50 روپے کا ہوگا اور تیل بھی 50 روپے فی لیٹر ہوجائے گا اسے مہنگائی میں بھی واضح کمی آ سکتی ہے۔ اور معیشت کو فوری سہارا ملے گا، اعتماد بحال ہوگا، اور ملک ایک بڑے مالی بحران سے بھی آسانی سے نکل سکتا ہے۔ یہ قدم صرف معیشت نہیں بلکہ قوم کے حوصلے کو بھی بلند اور مضبوط کرے گا۔
یاد رکھیں، آپ لوگوں نے یہ دولت اسی سرزمین سے کمائی ہے۔ آج ملک کے لئے مشکل وقت آیا ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ اس مٹی کا قرض اتارا جائے۔ اگر اس وقت بھی ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی تو آنے والی نسلیں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔ آئیں، مشکل کی اس گھڑی میں صرف باتیں نہیں بلکہ عملی قربانی دے کر ثابت کریں کہ ہم واقعی ہم سب اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔
مشکل فیصلہ غریب کی سوکھی روٹی کو آدھا کرنا نہیں بلکہ امیر کے پراٹھے پے لگے گھی کی مقدار کو کم کرنا ہوتا ہے۔۔۔
منقول
قوم کو عصبیت اور تکفیریت سے نکالنے کے لئے نصاب سے نفرت آمیز مواد، سوشل میڈیا سے نفرت آمیز تقاریر اور ماضی کے جنگجوں کے قصے کہانیاں نکال کے رومی کی مثنوی معنوی اور دیوان شمس، ابن عربی کی فصوص الحاکم اور فتوحات المکیہ جیسے تصوف کی کتابوں کو پڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ قوم فرقہ واریت کی عفریت سے نکل کر پہلے اچھے انسان بنے اور پھر انسانیت کا سبق سیکھ سکے اور دوسرے فرقے، مذہب اور دین کے بنی نوع انسان سے نفرت کی بجائے محبت شروع کرے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100