MM TV-GB

MM TV-GB

Share

27/12/2025

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی خاتون نے جرات، بصیرت اور عوامی طاقت کی علامت بن کر ابھرنا تھا تو وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو تھیں۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک مزاحمت اور ایک امید کا نام تھیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بینظیر واقعی بینظیر تھی۔ بینظیر بھٹو کو بجا طور پر “لال قلندر” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے آمریت، جبر اور خوف کے خلاف سرخ پرچم اٹھائے رکھا۔ قید و بند، جلاوطنی اور جان لیوا خطرات کے باوجود وہ عوام کے درمیان رہیں۔ ایک آمرانہ دور میں نوجوان خاتون کا اقتدار میں آنا صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک انقلاب تھا۔ دفاعی میدان میں بینظیر بھٹو کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کی جدید میزائل ٹیکنالوجی کو بنیاد فراہم کی گئی۔ شاہین اور غوری جیسے دفاعی پروگراموں کی سیاسی سرپرستی نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یوں بینظیر بھٹو نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے بینظیر بھٹو کا دور ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا۔ 1994 میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد انہی کا ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا۔ اس سے قبل یہ خطہ سیاسی حقوق اور جمہوری عمل سے بڑی حد تک محروم تھا۔ بینظیر بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف ووٹ کا حق دیا بلکہ انہیں سیاسی شعور، نمائندگی اور آواز دی۔ بینظیر بھٹو سمجھتی تھیں کہ جمہوریت کا اصل حسن عوام کی شمولیت میں ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی سرگرمیوں کے فروغ نے عوام میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا کیا۔ آج اگر گلگت بلتستان کا عوام سیاسی طور پر باشعور ہے تو اس کی بنیاد بینظیر بھٹو کے اسی تاریخی اقدام میں ملتی ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو خواتین، نوجوانوں اور پسے ہوئے طبقات کی امید تھیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت صنف کی محتاج نہیں بلکہ سوچ، جرات اور قربانی کی متقاضی ہوتی ہے۔ ملک دشمن عناصر کو یہ لال قلندر نے اس قدر بے بس کیا کہ بلآخر 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک عظیم الشان جلسے سے واپسی پر خود کش حملہ کر کے عوام سے دور کر دیا ان کی شہادت نے پاکستان کو غم میں ڈبو دیا، مگر ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ بینظیر بھٹو صرف ایک نام نہیں، ایک تاریخ تھی۔ وہ لال قلندر تھی، وہ مزاحمت کی علامت تھی، وہ جمہوریت کی آواز تھی، اور واقعی وہ بینظیر تھی۔

‎تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجاہد منصوری گلگت

23/12/2025

"وقت کا خدا کی ذات کی موجودگی سے تعلق"
(سائنسی اصول کی روشنی میں ایک مختصر دلیل)

کیا ہر چیز کی موجودگی اور کسی عمل کے ہونے کے لیے وقت کا ہونا لازمی ہے؟

سٹیفن ہاکینگز اپنی کتاب " وقت کی مختصر تاریخ" میں اس المیہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ؛

جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خدا نے اس کائنات“
کو بنایا ہے، تو میں کہتا ہو یہ سوال اپنے اصل میں ہی بے معنی ہے کیونکہ وقت کا 'بک بینگ' سے قبل وجود نہیں تھا، اس لیے خدا کے پاس کوئی وقت نہیں تھا کہ وہ کائنات کو وجود دے سکے، لہیذا خدا کا کوئی وجود ہی
" نہیں

اس پچیدہ موضوع پہ تحقیق سے قبل چند مقدمات کو خاطر بحث لانا رازم ہے جیسے؛

جو جیز ہے وہی دوسری چیز کو بنا سکتی ہے یا اس میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
جو 'نہیں ہے' وہ 'ہے' کو بنا نہیں سکتی۔

مثال: اگر کچھ بھی پہلے سے ہے ہی نہیں وہ کسی چیز(کرسی،قلم، وغیرہ) کو بنا نہیں سکتا، البتہ اگر مادہ کسی بھی ہال میں پہلے سے موجود ہے اگرچہ انسان اس کو محسوس نہ بھی کرسکے مگر ایسی صورت میں بھی کوئی چیز بن سکتی ہے۔
یعنی مادہ کو نہ بنایا جاسکتا ہے نہ ختم کیا جاسکتا البتہ ایک صورت سے دوسرے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے(قانون بقائے کیمت)

کیا بک بینگ سے قبل وقت کا وجود تھا؟ اگر نہیں تو بک بینگ کا مادہ بغیر وقت کے آیا کہاں سے اور اس کی پیدائش ہوئی کیسے جبکہ وقت موجود نہیں تھا اور سائنس کے قوانین کے مطابق عمل وقت کا پابند ہے۔ اس مقام پہ یا تو سائنس کے مطلق قوانین سے منحرف ہونا ہے یا پھر اس بات کو ماننا ہے کہ عمل کے ہونے کے لیے ہمیشہ وقت کا ہونا لازمی نہیں۔۔۔

ہم اس چیز کا انکار نہیں کرسکتے کہ بک بنگ سے قبل مادہ کسی بھی شکل میں موجود نہیں تھا کیونکہ سائنس اس بات کو مانتی ہے کہ مادہ کو بنایا نہیں جاسکتا بلکہ اس کی شکل کو دوسرے مادہ میں تبدیل کیا جاسکتا،اس کا مطلب یہ ہے کہ بک بیگ سے قبل
مادہ تھا جو کسی بھی طریقہ سے بن گیا مگر وقت نہیں تھا۔

اسی لیے ہم کہتے ہیں خدا وقت کا محتاج نہیں، خدا نے اس کائنات کو وقت سے بالا تر تخلیق کیا ہے

یعنی اگر مادہ وقت سے بالاتر موجود ہو سکتا ہے تو پھر خدا بھی وقت
سے بالا تر وجود رکھ سکتا ہے

‎تحریر؛ علی حیدر

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Gilgit
15100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 14:00
Sunday 09:45 - 14:00