Hasnain Abbas
31/10/2022
Thank you 🙏
یکم نومبر کے حوالے آج فیسبک اور واٹسیپ پے ہر کوئی سٹیٹس لگا راہا ہے
بڑی مشکل سےآذادی ملی ہے
مگر آئین سے خالی ملی ہے
یہ تو ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان میں آئیںن سے خالی ہے لیکن بات غور کرنے کی ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں آئین کیلیے اور کیا ایسے سٹیٹس لگانے سے ملتے ہیں آئین یا آذادی قوموں کو۔
کل یکم نومبر کے دن بہت گلگت بلتستان کا ہر ایک فرد، ہر سکول، ہر کالج اور یونیورسٹی میں یعقینأ گلگت بلتستان کی آذادی کے حوالے سے پروگرام رکھے جائینگے پر کہی بھی گلگت بلتستان کا جھنڈا نظر نہیں آئیگا۔ پر جب اسی سرذمین گلگت بلتستان میں کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی پروگرام ہو خواہ وہ یوم یکجہتی کا ہو یا پھر بلیک ڈے کے نام سے ہو یہی لوگ کشمیر کا جھنڈا لے کے ریلیاں نکالتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا گلگت بلتستان میں صرف آئین کی کمی ہے؟
بلکل بھی نہیں گلگت بلتستان میں شعور رکھنے والے لوگوں کی کمی ہے، اپنے حقوق کے لیے آواذ اٹھانے والوں کی کمی ہے، گلگت بلتستان اسمبلی میں عوام کیلے آواذ اٹھانے والوں کی کمی ہے۔ تبھی تو اس اسمبلی سے کبھی ارکان اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے والی بل کبھی واپس نہیں ہوئی، اس اسمبلی میں اسلامی پارٹیوں کے نمائندوں کے ہوتے ہوے شراب بل پاس ہو گی لیکن آج تک کبھی گلگت بلتستان کے آذاد حیثیت کیلیے یا پھر آئینی صوبے کیلیے کوئی بل کسی حکومت میں پاس نہیں ہوئی۔ اگر آج گلگت میں شعور رکھنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہوتی تو ایک جیسے چہرے (جن کو اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا ہے) کو باربار نہیں آزماتے۔
اس لیے کہہ رہا ہوں گلگت بلتستان میں صرف آئین کی نہیں بلکہ وطن عزیز میں شعور رکھنے والے لوگوں کی کمی ہے، اپنے حقوق کیلیے لڑنے والوں کی کمی ہے اور عوام کے ساتھ حقوق کیلیے آواز اٹھانے والے لیڈروں کی کمی ہے۔
تحریر : حسنین عباس نگری
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Gilgit