Expose HQ

Expose HQ

Share

02/06/2026

لاہور میں انسانیت سوز واقعہ بے نقاب 😢

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی کم عمر گھریلو ملازمہ عائشہ کے ساتھ پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ بن گیا۔ متاثرہ لڑکی کے آخری بیان کے مطابق اسے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے مکان نمبر G/175 میں ملازمت کے دوران مبینہ طور پر ظلم، زیادتی، تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایف آئی آر کے مطابق نومبر 2025 میں گھر کے حالات خراب ہونے کے بعد مالکن کے شوہر سید عون علی نقوی اور اس کے ڈرائیور حسن نے مبینہ طور پر عائشہ کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق بعد ازاں وہ حاملہ ہوگئی، جس کا انکشاف طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جانے کے دوران ہوا۔

لڑکی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے دباؤ ڈال کر رائیونڈ کے ایک سرجیکل سینٹر سے اس کا حمل ضائع کروایا۔ اس کے بعد بھی اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

ویڈیو انٹرویو کمنٹس میں ہے

ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو کئی روز تک مختلف مقامات پر رکھا گیا جبکہ اس کی حالت بگڑنے پر سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکی۔

متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نامزد ملزمان سید عون علی نقوی، ڈرائیور حسن اور دیگر افراد کو فوری گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مظلوم لڑکی کو انصاف مل سکے۔

اگر یہ الزامات سچ ہیں تو یہ صرف ایک لڑکی پر ظلم نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

06/05/2026

افسوس صد افسوس

روهڑی کے قریب جہانگڑو تھانے کی حدود میں گُلان بھارو اپنے شوہر کے مظالم سے تنگ آکر گھر سے نکل کر تھانے پہنچی اور تحفظ کے لیے درخواست دی۔ پولیس نے اسے عدالت میں پیش کیا جہاں اس نے دارالامان جانے کی درخواست کی، لیکن اس کے باپ نے پگڑی اتار کر سامنے رکھی تو گُلان نے کہا:
"مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن میرے والد نے پگڑی اتار کر رکھی ہے اسلیئے والد کی عزت کی خاطر موت بھی قبول ہے، میں اپنے والد امداد بھارو کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔"
ہفتہ قبل سکھر کی عدالت میں ایسا بیان دے کر اپنے باپ کے ساتھ گھر واپس جانے والی یہ خاتون گُلان بھارو کو کاری قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔

21/04/2026

💔 سوال ریٹنگ کا یا عزت کا؟
کبھی کبھی ٹی وی اسکرین پر ہونے والی گفتگو
انسان کے دل کو چوٹ پہنچا دیتی ہے۔
ایک اداکارہ، جو اپنے کام کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی…
اپنی نئی فلم “سائیکو” کے بارے میں، اپنے مستقبل کے بارے میں…
مگر اس سے بار بار اس کے ماضی کے ذاتی سوالات پوچھے گئے۔
اس نے نرمی سے کہا:
“براہِ مہربانی ذاتی سوال نہ کریں… مجھے ڈر لگتا ہے، یہ میرا ماضی ہے…”
لیکن شاید یہ الفاظ سننے کے لیے نہیں تھے،
کیونکہ ریٹنگ زیادہ اہم تھی… یا انسان کی عزت؟
💔 کیا ایک عورت کا ماضی ہی اس کی پہچان ہے؟
کیا اس کی محنت، اس کا کام، اس کا حال کوئی معنی نہیں رکھتا؟
اور ایک اور سوال…
کیا یہی سوالات ہر طاقتور شخصیت سے بھی پوچھے جاتے ہیں؟
یا صرف کمزور کو آسان ہدف سمجھا جاتا ہے؟
میڈیا کی طاقت بہت بڑی ہے…
لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔
🎭 کسی کی زندگی کو تماشا بنانا آسان ہے…
لیکن کسی کی عزت کو سمجھنا اصل انسانیت ہے۔

14/04/2026

مشال خان — ایک خاموش چیخ، جو آج بھی فضا میں گونجتی ہے
مشال خان… ایک نام نہیں، ایک سوچ تھی۔ ایک خواب تھا جو تعلیم، سوال اور سچائی کے گرد گھومتا تھا۔ وہ ایک یونیورسٹی کا طالب علم تھا، جو کتابوں سے محبت کرتا تھا، جو سوال پوچھنے سے نہیں ڈرتا تھا، جو دنیا کو اندھیرے میں نہیں بلکہ روشنی میں دیکھنا چاہتا تھا۔
لیکن اس روشنی کو اندھی نفرت نے نگل لیا۔
ایک دن اس پر الزام لگا… ایک ایسا الزام جس کی حقیقت آج تک مکمل طور پر واضح نہ ہو سکی۔ لفظ “توہین” کو ایک ہجوم نے اپنی عدالت بنا لیا۔ سوال کرنے والے کو مجرم بنا دیا گیا، اور دلیل کی جگہ شور، اور انصاف کی جگہ ہجوم نے لے لی۔
وہ چیختا رہا ہوگا… شاید کہتا ہوگا کہ “مجھے سنو، میں بے قصور ہوں”
لیکن وہاں سننے والا کوئی نہیں تھا۔
وہ ہجوم، جو انصاف کے لیے نہیں بلکہ جذبات کے طوفان میں بہہ رہا تھا، اس نے ایک نوجوان زندگی کو اس طرح ختم کر دیا جیسے وہ انسان نہیں تھا۔ اس کی ہڈیاں ٹوٹی ہوں گی، اس کا جسم زخمی ہوا ہوگا، لیکن اس سے پہلے اس کا خواب ٹوٹا — سوچنے کا حق۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ وہ مارا گیا…
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اسے سننے والا کوئی نہیں تھا۔
اور پھر ایک اور زخم — یہ فیصلہ کہ اس کا جنازہ بھی شاید عام طریقے سے نہ پڑھا جائے۔ جیسے ایک انسان کی زندگی ختم ہونے کے بعد بھی اس کی انسانیت پر سوال باقی رکھا جائے۔
مشال خان کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں تھا، یہ سوال کرنے والی سوچ پر حملہ تھا۔ یہ اس معاشرے کا آئینہ تھا جہاں کبھی کبھی دلیل کمزور پڑ جاتی ہے اور ہجوم طاقت بن جاتا ہے۔
آج بھی سوال باقی ہے…
اگر کوئی نوجوان سوچنا چاہے، سوال کرے، اختلاف کرے — تو کیا وہ محفوظ ہے؟
کیا ہم نے کبھی رک کر سوچا کہ سچائی تحقیق سے آتی ہے یا الزام سے؟
مشال خان اب اس دنیا میں نہیں، لیکن وہ آج بھی ہر اس دل میں زندہ ہے جو انصاف چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کہ کسی اور مشال کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
وہ ایک سوال چھوڑ گیا ہے:
کیا ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں، یا صرف وہ سچ جو ہمیں پسند ہو؟

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Dipalpur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Punjab
Dipalpur