Urdu Likhari

Urdu Likhari

Share

25/08/2025

تمہارے فتن کی مثال اوج پر ہے
ثنا خوانوں کا بھی اچھال اوج پر ہے
تو مانے نہ مانے تری اپنی مرضی
مگر سچ ہے تیرا زوال اوج پر ہے
تُو بیٹھا ہے رتبہ برہمن کا لے کر
ستارہ تو دلال کا اوج پر ہے
ہے سیکھا پرندوں نے بھی اب بہت کچھ
لگایا ہے جو تو نے جال اوج پر ہے
کسی کو بھی ساقی نہ مے کی ہے چاہت
کہ مے خانے میں اب دھمال اوج پر ہے
تمہارے جوابوں کی شنوائی مشکل
کہ تم پر اٹھا ہر سوال اوج پر ہے
اسے کہہ دو احسان دل سے اتارے
کہ انگوروں کی اب وہ ڈال اوج پر ہے

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Chakwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Chakwal