Arssh Academy

Arssh Academy

Share

16/09/2022

تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض دل چاہتا تھا کہ ہدیہ دل پیش کیجئے۔

#آہ_استاذ_محترم_مرحوم_علی_بہادر_صاحب_رح

گلشن ہستی میں جن قابل قدر شخصیات نے اپنے خون جگر سے چمن کی آب پاشی کی ہے اور رہتی دنیا تک کے لیے اپنی حیات مستعار کے بیش قیمت نقوش انسانی دلوں پر کیے ہیں ان میں ایک نمایاں نام حضرت علی بہادر صاحب رح (مرحوم ) کا بھی ہے۔ حضرت علی بہادر صاحب رح کی ولادت ضلع بونیر کی گاؤں صواؤی میں ہوئی۔

اور آپ رح معلم کردار، معلم ادب، بطور پرائمری استاد کی حیثیت سے گورنمنٹ پرائمری سکول صواؤی میں خدمات پر مامور تھے۔ اس وقت سے تاحیات اپ گورنمنٹ پرائمری سکول صواؤی کے ایک بہترین استاذ کی حیثیت سے خدمات سے منسلک رہے۔ اور ساتھ میں جمال آباد مسجد میں پیش امامی کا خدمات سر انجام بھی دیتے رہے ہیں۔

ایک طالبعلم کا خراج تحسین اپنے استاد محترم کے لئے کچھ یہ ہے کہ عرصہ ہوا جب میں گورنمنٹ پرائمری سکول صواؤی میں بنیادی تعلیم کے لئے زیر تعلیم تھا۔ چونکہ میری فراغت کئی دہائیوں پہلے ہوئی ہے۔ لیکن اج بھی ایسا لگتا ہے کہ میں کلاس میں بیٹھا ہوں اور استاذ محترم اپنے ایک نرالے اور انتہائی حسین و دلکش انداز میں درس دے رہے ہیں اور سبق و آدب کی انتہائی پیچیدہ گتھیاں سلجھا رہے ہیں اور ہمارے ذہن ودماغ پر علم کی برکھا برس رہی ہے۔ لگتا ہے کہ علم کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر انتہائی سنجیدگی وقار کے ساتھ بہہ رہا ہے اور اس کی موجیں قیمتی موتیاں بکھیر رہی ہیں۔ لیکن ہم کم ظرف ہیں جو ان لعل و گہر سے دامن نہیں بھر پارہے ہیں۔ میں آپ کے استاذانہ و مربیانہ کردار کی ترجمانی کیوں کر کرسکتا ہوں۔ بس صرف اس وقت کے ایک ماہر علم وفن، قابل تعریف و تقلید علی بہادر مرحوم کافی خاموش مزاج، نرم طبیعت اور اچھے اخلاق کے حامل۔ ہمہ وقت فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔ انکی خاموشی گفتگو ہوا کرتی تھی۔

وہی بزم ہے وہی دھوم ہے ، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے۔
ہے کمی تو بس اسی چاند کی ، جو تہہ مزار چلا گیا۔

حضرت صاحب اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ آپ اپنے آپ کو مفید ثابت کریں اور خصوصاً فکری محاذ پر جم کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

علم و حکمت، دانش و آگہی علی بہادر صاحب کی دلچسپی کا سامان تھا۔ اپ رح کی اٹھان ہی ایسی ہے کہ لکھنا پڑھنا زندگی کا ایک ضروری مشغلہ بن گیا ہے، بچپن سے علم وادب کی قدر اور زندگی کی تمام دوسری قدروں پر اس کی فوقیت کا احساس علی بہادر صاحب رح کے ریشہ ریشہ میں پیوست ہے۔
آہ کیا شخص تھا جو محفل ویران کرگیا۔
یوں تو سب کو ایک دن اس دارفانی سے جانا ہے۔ لیکن موت اس کی جس کو زمانہ کرے یاد کے مصداق حضرت علی بہادر صاحب کے رخصت ہونے سے ایک علم کی دنیا ویران ہوگئی۔ ایک چمن اجڑ گیا۔ کلیجہ منہ کو آرہا ہے ۔ دل کی کیفیت عجب ہے، جس کا بیان شاید الفاظ و جملوں میں نہیں ہوسکتاہے۔ بس یوں لگ رہا ہے کہ
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے.

دل پریشاں اور ذہن ودماغ قضا وقدر کے فیصلوں میں الجھی ہوئے ہیں اور زبان بے اختیار کہہ رہی ہے کہ

جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں
کہيں سے آب بقائے دوام لے ساقي!
علامہ اقبال

اور آخر میں ہیڈ ٹیچر حکیم زیب صاحب اور سارے سکول سٹاف کی طرف سے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اور گاؤں صواؤی کے لئے ان کی علمی خدمات کا اعتراف کرکے ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ بارگاہ رب العزت میں انتہائی عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاذ محترم کو ان کی خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آمین!
تحریر: Aʀꜱʜ Kʜᴀɴ

Want your school to be the top-listed School/college in Bunerwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Swawai
Bunerwal
23434

Opening Hours

Monday 03:00 - 18:00
Tuesday 03:00 - 18:00
Wednesday 03:00 - 18:00
Thursday 03:00 - 18:00
Friday 03:00 - 18:00
Saturday 03:00 - 18:00