MSO bhera

MSO bhera

Share

23/03/2026
23/03/2026

یومِ پاکستان ہمیں اتحاد، ایمان اور نظم کی یاد دلاتا ہے۔
آؤ مل کر اپنے وطن کو مزید مضبوط اور روشن بنائیں 🇵🇰

22/03/2026

یومِ پاکستان ہمیں اتحاد، ایمان اور نظم کی یاد دلاتا ہے۔
آؤ مل کر اپنے وطن کو مزید مضبوط اور روشن بنائیں 🇵🇰

20/03/2026

ملک بھر کے نوجوانوں، طلبہ، کارکنان، سابقین اور وابستگانِ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو عیدالفطر مبارک
میرے عزیز نوجوانو! آپ ہی امت کی طاقت اور مستقبل ہیں۔ اس عید پر عہد کریں کہ ہم علم، کردار اور دین کی خدمت کو اپنی پہچان بنائیں گے۔خوشی کے اس موقع پر اُن عظیم لوگوں کو ضرور یاد رکھیں جنہوں نے دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا،ان کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آئیں! اس عہد کے ساتھ عید منائیں کہ ہم حق کے راستے پر ڈٹ کر کھڑے رہیں گے، دین کی خدمت کو اپنی پہچان بنائیں گے، اور امت کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔

11/03/2026

امیر المومنین | فاتح خیبر | شیر خدا
حیدر کرار | داماد رسول ﷺ
حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ
{یوم وفات : 21 رمضان المبارک}
آپ کی عظمت کو لاکھوں سلام

09/03/2026

فاتحِ مکہ _ تاجدارِ دو عالم ﷺ کی نصرت _ اسلام کی عظیم فتح

فتحِ مکہ
(20 رمضان المبارک، 8 ہجری)

آج کے دن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو وہ عظیم فتح عطا فرمائی جس نے تاریخِ اسلام کا رخ بدل دیا۔ بغیر بڑے خونریزی کے مکہ مکرمہ فتح ہوا اور اسلام کی سچائی پوری دنیا کے سامنے روشن ہو گئی۔

اس دن نبی کریم ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف فرما کر رحمت، عدل اور انسانیت کی لازوال مثال قائم کی۔

"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"

یہ دن ہمیں صبر، حکمت، اتحاد اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔

فتحِ مکہ کی اس عظیم یاد کو سلام۔
اللہ ہمیں دین کی خدمت اور حضور ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

08/03/2026

سیفُ اللہ المسلول _ فاتحِ اسلام _ جرنیلِ اعظم _ محافظِ دین _ مجاہدِ اسلام _ سپہ سالارِ رسول ﷺ
حضرت سیدنا خالد بن ولیدؓ رضی اللہ عنہ
{یومِ وصال: 18 رمضان المبارک}
آپ کی بہادری، حکمتِ عملی، جہاد فی سبیل اللہ اور فتوحاتِ اسلام کو لاکھوں سلام۔

08/03/2026

اللہ کی تـلوار کا تمغہ سینے اپنے سجایا ہے
حضرت خالد بن ولیدؓ سے یارو ہر باطل گھبرایا ہے
یوم وفات 18 رمضان المبارک
سیف اللہ، سیف الاسلام حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

07/03/2026

ام المومنین| عفیفہ | طاہرہ
عمیرہ | محبوبہ حبیب خدا ﷺ
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ
{یوم وفات : 17 رمضان المبارک}
آپ کی عظمت کو لاکھوں سلام

07/03/2026

زوجہ ذوالنورین ؓ| بنت پیغمبر ﷺ
حضرت سیدہ رقیہ ؓ
{یوم وفات : 17 رمضان المبارک}
آپ کی عظمت کو لاکھوں سلام

07/03/2026

امّ المؤمنین _ زوجۂ رسول ﷺ _ صدیقہ بنت صدیق _ محبوبۂ رسول ﷺ_ فقیہۂ امت _ محدثۂ اسلام
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ رضی اللہ عنہا
{یومِ وصال: 17 رمضان المبارک}
آپ کی عظمت، علم، تقویٰ اور خدماتِ دین کو لاکھوں سلام۔

07/03/2026

میں بیٹا امی عائشہ کا

ام المومنین ' محبوبہء محبوب رب العلمین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

(تحریر ______ثناءاللہ سعدشجاع آبادی )
_____________________________________________
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رض___ سیدہ__ طیبہ __طاہرہ __مطھرہ__ مقدسہ__ منزہ اورپاکیزہ خاتون ہیں 'آپ صدیقہ اور عفیفہ کائنات ہیں __آپ افضل البشر بعد الانبیاء 'صاحب صدق و صفا 'حضرت عبداللہ بن ابی قحافہ ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی لخت جگر ہیں__آپ ہمارے آقا سرورکونین'حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں جہانوں میں محبوب زوجہ اور قیامت تک پیدا ہونے والے مومنین کی ماں ہیں _اللہ نے آپ کو یہ شرف عطا فرمایا کہ شادی سے پہلے تین بار حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کی تصویر لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور بتایا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ ہیں نیز آپ خود فرماتی ہیں کہ مجھے نو انعامات ملے جو سوائے مریم بنت عمران کے کسی اور عورت کو نہیں ملے _
(1) جبریل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کیا کہ آپ ان سے شادی کرلیں
(2)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ کنواری سے شادی کی میرے علاوہ اور کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی
(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم نے جب انتقال فرمایا تو آپ کا سر مبارک میری گود میں تھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود اقدس کو اپنے گھر میں دفن کروایا
(4) فرشتوں نے قیامت تک کے لئے میرے گھر کو گھیر لیا
(5)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دوسری بیوی کے پاس ہوتے تو اور آپ ان پر وحی نازل ہونا شروع ہوجاتی تو آپ کے اہلخانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوجاتے لیکن جب میں آپ صلی اللہ وسلم کے ساتھ لحاف میں ہوتی تو وحی آپ صلی اللہ وسلم پر نازل ہوتی رہتی
(6) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور آپ کے سچے وفادار کی بیٹی ہو ں
(7) میری برات آسمان سے نازل ہوئی
(8)میں خود بھی طیبہ پیدا کی گئی ہو اور طیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہوں
(9) مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ کیا گیا ہے
(البدایہ والنھایہ ج2ص56)
جیسا کہ کہ اوپر مذکور ہے آپ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی واحد زوجہ مکرمہ ہیں جن کو کنواری حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنےکاشرف حاصل ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا کے اپنے بیان کے مطابق آپ 9 سال کی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آئیں __بلاشبہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نعم البدل تھیں __سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی قربت حاصل تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ والہانہ محبت کرتے تھے__
حضرت حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول اللہ آپ کو انسانوں میں سب سے پیارا کون ہے؟ آپ ص نے فرمایا عائشہ__ میں نے عرض کیا مردوں میں سے ؟__ آپ ص نے فرمایا اس کا والد__ میں نے عرض کیا ان کے بعد کون ہے ؟آپ ص نے فرمایا عمر_ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دیگر حضرات کے نام لئے لیکن میں اس خیال سے خاموش ہو گیا کہ کہیں میرا نام آخر میں نہ آئے ___(صحیح البخاری کتاب المغازی حدیث رقم 4100)
ملا باقر مجلسی بحار الانوار میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت لائے ہیں __ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ایک دفعہ مجھ سے میری بیوی نے جھگڑا کیا جو مجھے ناگوار گزرا ' جس پر میری بیوی نے کہا نبی علیہ السلام کی بیویاں بھی تو آپ سے تکرار کرلیتی ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے افضل ہیں 'یہ سن کر میں اپنی بیٹی (ام المومنین ،)حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور حقیقت پوچھی تو اس نے جواب دیا بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارا دن بعض ازواج سے ناراض رہتے ہیں تو میں نے کہا اے حفصہ عائشہ کی ہمسری مت کرنا '
"فانھا حبیبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحمل منھا مالایحمل منک"
عائشہ رض تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہےحضور ص اس کی جو بات برداشت کرتے ہیں وہ تیری نہیں کریں گے "
(بحار الانوار مطبوعہ جدید تہران ج 16ص 385)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی تھیں اللہ کے انعامات میں سے ایک بڑا انعام مجھ پر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری وقت میں میری باری کے دن میرے گھر میں 'میری گود میں اور میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے نیز یہ کہ اللہ تعالی نے میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب اکٹھا کردیا_
آپ کے فضائل ومناقب میں یہ بات بھی شامل ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انتقال کے بعد جس حجرے میں قیامت تک کے لئے آرام فرما ہیں وہ حجرہ ام المومنین رضی اللہ عنہ کی ذاتی ملکیت ہے
آپ نے امیرالمومنین سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی __سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات سےنھایت حسن سلوک سے پیش آتے 'اعلی قدردانی کا معاملہ فرماتے اور گراں قدر عطیات و ھدایا کےذریعے ان کی خدمت کرتے تھے__ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیق رضی اللہ عنہا سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ نہایت ہی اکرام کا تھا _
عبدالرحمان بن ہے عصمہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک قاصد تحائف لے کر آپ کی خدمت میں پہنچا اورکہا امیرالمومنین کی طرف سے یہ ہدیہ پیش خدمت ہے ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وہ ہدیہ قبول فرما لیا (مصنف ابن ابی شیبہ)
ایک بار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک قیمتی ہار ام المومنین رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ہدیہ کیا جس کی قیمت اس دور کے مطابق ایک لاکھ درہم تھی وہ ہار ام المومنین نے قبول فرمایا اور دیگر امہات المومنین میں تقسیم فرما دیا (مصنف ابن ابی شیبہ ج6ص90)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک لاکھ درہم کا ہدیہ ارسال کیا تو ام المومنین نے اس ہدیہ کو اسی وقت تقسیم کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ تمام ہدیہ تقسیم کر ڈالا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا __ام المومنین کی خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا پاس بیٹھی ہوئی تھیں انہوں نے عرض کیا کہ اماں جی آپ روزے سے ہیں ایک درہم بچا لیتیں تو اس سے آپ کی افطاری کے لئے گوشت خرید لیا جاتا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب میں تقسیم کر رہی تھی اس وقت تو نے یاد کیوں نہیں دلایا _(مستدرک حاکم ج4ص13)
ایک بار ام المومنین رضی اللہ عنہا اپنی سخاوت اور فیاضی کی بناءپر مقروض ہوگئیں اس موقع پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے قرض کی ادائیگی کے لیے اٹھارہ ہزار دینار ارسال کئے(تاریخ ابن عساکر ج16ص738)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں کچھ کپڑے چاندی اور بہت سی دیگر چیزیں بطور ہدیہ ارسال کیں جو آپ کے حجرہ شریف کے باہر رکھ دی گئیں جب ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ان کو دیکھا تو رو پڑیں اور فرمانے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کبھی اس قسم کی اشیاء اپنے پاس نہ رکھیں __یہ کہہ کر ان تمام چیزوں کو بانٹ دیا اور ایک بھی اپنے پاس باقی نہ چھوڑی(حلیہ الاولیاء ج2ص48)
ان حالات کے باوجود آپ رضی اللہ عنہا کے زہد اور ترک دنیا کی کیفیت یہ تھی کہ آپ کے بھانجے عروہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ آپ جس کپڑے کو استعمال کرتیں جب تک اس کو پیوند نہ لگا لیتیں اس کا استعمال جاری رہتا تھا (الترغیب والترہیب ج5ص126)
نیز آپ کا معمول مبارک تھا کہ کثرت سے روزے رکھا کرتی تھیں
آپ رضی اللہ عنہا رمضان المبارک سن 58 ہجری میں بیمار ہوئیں کئی روزتک بسترعلالت پر رہیں نصیحتیں اور وصیتیں فرماتی رہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااپنی وفات کے قریب فرماتی تھیں کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوتی__ اے کاش میں کوئی درخت ہوتی جو اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی رہتی اور اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتی (الطبقات الکبری ج8ص77)
آپ رضی اللہ عنہا سے جب بھی حال احوال دریافت کیا جاتا تو فرماتیں کہ" الحمداللہ اچھی ہوں"
آپ رضی اللہ عنہا کےایک خادم حضرت ذکوان سے روایت ہے کہ آپ کے آخری ایام میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی 'میں اندر گیا آپ کے بھتیجے عبداللہ بن عبدالرحمن آپ کے سرہانے کھڑے تھے-میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے لیے اجازت طلب کی آپ چونکہ آخری وقت میں تھیں اس لیے آپ کے بھتیجے نے آپ کی طرف جھک کر عرض کیا کہ عبداللہ بن عباس شرف ملاقات چاہتے ہیں
آپ نے فرمایا کہ نہیں رہنے دو ' کیونکہ وہ میرے پاس آکر میری تعریفیں کریں گے _آپ کے بھتیجے نے عرض کیا کہ ابن عباس آپ کے نیک اور صالح فرزندوں میں سے ہیں آپ کی خدمت میں سلام عرض کرنے اور آپ کو رخصت کرنے آئے ہیں _اس پر آپ نے نے اجازت دے دی حضرت ابن عباس حجرے میں داخل ہوئے اور سلام کرکے بیٹھ گئے اور کہا اماں جی میں آپ کو خوشخبری اور بشارت دیتا ہوں آپ نے فرمایا کس چیز کی ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے درمیان اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر احباب کے درمیان ملاقات میں صرف بدن سے روح نکلنے کا فاصلہ ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تمام ازواج مطہرات میں سے زیادہ محبوب تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پاکیزہ چیز ہی سے محبت فرماتے تھے اور آپ کا ہار ابواء میں گم ہوگیا تھا اس کی تلاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک اسی جگہ ٹھہرے رہے فجر کی نماز کے وقت لوگوں کے پاس وضو کے لئے پانی نہ تھا اللہ تعالی نے تیمم کا حکم نازل فرمایا یہ رخصت و سہولت اس امت کو آپ کے طفیل حاصل ہوئی نیز اللہ تعالی نے آپ کی برات ساتویں آسمان سے نازل فرمائی' جبرئیل امین ان آیات کو لے کر آئے اور اب اللہ کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں جہاں صبح شام یہ آیات تلاوت نہ کی جاتی ہوں__
ام المومنین رضی اللہ عنہا نے یہ سب باتیں سن کر ارشاد فرمایا چھوڑو اے ابن عباس !میں تو اس وقت چاہتی ہوں ہوں کہ میں بھولی بسری بن جاؤں "(صحیح البخاری حدیث رقم ،4753)
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ میں اس بیماری میں ایک نئی چیز دیکھ رہی ہوں یعنی اپنی وفات __
آپ رضی اللہ عنہا کے خوش مزاج اور خوش گفتار بھتیجے ( عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے فرزند) ابن عتیق آپ رضی اللہ عنہا کے پاس مرض الوفات میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ" میں آپ پر قربان آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟"
آپ نے فرمایا " اللہ کی طرف سے موت کا سامنا ہے "
ابن عتیق نے کہا "پھر تو میں آپ پر قربان نہیں "
'حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
" تم مذاق اور دل لگی کسی حال میں بھی نہیں چھوڑتے '
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آخری وقت میں فرمایا_
" جب مجھے کفن دیا جا چکے اور خوشبو لگائی جا چکے اور ذکوان مجھے قبر میں اتار کر مٹی برابر کردے تو وہ اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہے"
بالآخر 17 رمضان المبارک 58 ھ کو اللہ تعالی کی طرف سے وقت موعود آپہنچا اور کائنات انسانی کی قابل فخر خاتون 'حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی حبیبہ' گلشن رسالت کی عندلیبہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا و سلام اللہ علیہا نے بعد الوتر انتقال فرمایا
انا للہ وانا الیہ راجعون____
آپ کے انتقال کی خبر سنتے ہی اہل مدینہ اکٹھے ہوگئے وہ رو رہے تھے اور سسکیاں بھر رہے تھے ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ کسی رات اتنے لوگ نہیں دیکھے گئے حتی کہ قرب و جوار کے دیہاتوں سے بھی لوگ حاضر ہوئے _حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بقیع میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ' آپ کے بھانجےحضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر لواحقین نے رات کی تاریکی میں ہی کائنات کے مومنین کی اماں جان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو قبر کے حوالے کیا __اس وقت آپ کی عمر 66 سال تھی_
حبیبۃ الرسول ﷺ ، حمیرا،طاہرہ، طیبہ
اُمّ المؤمنین ؓ
#یومِ_وفات: #17رمضان

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Bhera?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Bhera