Informative Hub
آج کچھ لوگ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود صاحب کے بارے میں غلط باتیں پھیلا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مضبوط بنیاد دی۔
وہ اپنے کام کے ماہر تھے اور حساس ترین مراحل میں بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
جب پاکستان پر عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا، پابندیاں لگ رہی تھیں اور ہمارے سائنس دانوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی، تب بہت سے کام رک سکتے تھے۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے مشکل حالات میں بھی اپنا کردار پورے حوصلے کے ساتھ ادا کیا۔
انہوں نے تحقیق، ڈیزائن اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے اہم کام خاموشی سے کیے اور ملک کے لیے بہتر حل تلاش کرتے رہے۔
ان کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی عالمی طاقتوں نے بھی ان پر پابندیاں لگا دیں۔ دنیا ہمیشہ انہی لوگوں سے ڈرتی ہے جو اس کے منصوبوں کو ناکام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ڈاکٹر صاحب نے افغانستان کی تعمیرِ نو اور قرآن و سائنس کے موضوع پر تحقیق جیسے شعبوں میں بھی کام کیا جسے بہت سراہا گیا۔ ان کی سائنسی تحقیق اور قرآن کی روشنی میں لکھی گئی تفسیر آج بھی حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
جو لوگ آج ان پر تنقید کرتے ہیں، وہ حقیقت میں اپنی کم ظرفی کا اظہار کر رہے ہیں۔
قومیں اپنے محسنوں کی قدر کرتی ہیں، نہ کہ ان کی خدمات کو بھول جاتی ہیں۔
27/10/2025
بابر اعظم اور نسیم شاہ کی واپسی — امیدوں کی نئی کرن
پاکستان کرکٹ ٹیم کے شائقین کے لیے یہ خوشی کی خبر ہے کہ بابر اعظم اور نسیم شاہ ایک بار پھر قومی اسکواڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی واپسی نے نہ صرف ٹیم میں نئی جان ڈال دی ہے بلکہ مداحوں کے دلوں میں ایک بار پھر جیت کی امیدیں بھی جگا دی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جوش و خروش
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کرکٹ کے دیوانوں نے بابر اعظم اور نسیم شاہ کی واپسی کا زبردست خیر مقدم کیا۔
ٹویٹر (X)، انسٹاگرام، اور فیس بک پر مداحوں نے لکھا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کے لیے “گیم چینجر” ثابت ہوگی۔
کئی صارفین نے پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ اسکواڈ میں توازن اور حکمتِ عملی دونوں کا امتزاج نظر آ رہا ہے۔
البتہ، کچھ مداحوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مزید مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بینچ تیار کیا جا سکے۔
کوچنگ اسٹاف کے خیالات
ہیڈ کوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:
> “بابر اعظم اور نسیم شاہ کی واپسی ٹیم کے لیے بہترین خبر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر کھلاڑی اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ میدان میں اُترے۔ یہ اسکواڈ متوازن ہے، اور ہمارا ہدف جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف شاندار کارکردگی دکھانا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑی فٹنس اور فارم کے لحاظ سے بہترین پوزیشن میں ہیں، اور ٹیم کے اندر ایک مثبت ماحول قائم ہے۔
تربیتی کیمپ اور تیاریوں کا حال
پاکستانی ٹیم اس وقت لاہور میں جاری تربیتی کیمپ میں مصروف ہے جہاں کھلاڑی فٹنس، نیٹ پریکٹس، اور کمبی نیشن پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔
سیریز سے قبل ایک وارم اپ میچ بھی رکھا گیا ہے تاکہ حتمی پلیئنگ الیون کے لیے ٹیم کمبی نیشن کو پرکھا جا سکے۔
امیدوں بھرا مستقبل
بابر اعظم اور نسیم شاہ کی شمولیت نہ صرف ٹیم کی بولنگ اور بیٹنگ لائن کو مضبوط بنائے گی بلکہ ٹیم میں اعتماد کی نئی لہر بھی پیدا کرے گی۔
شائقین کرکٹ ایک بار پھر دل thام کر اس سیریز کے انتظار میں ہیں، کہ شاید یہ وہ وقت ہو جب پاکستان دوبارہ اپنی پرانی جارحانہ کرکٹ کی روایت کو زندہ کرے۔
When Babar Azam & Naseem Shah return — the vibe changes! 💥
پاکستانی ٹیم میں نئی جان، نیا جوش، اور جیت کی نئی اُمید 🇵🇰
"
سوڈان، امریکہ اور اسرائیل:
خانہ جنگی کے پیچھے کون؟
سنہ 1983 میں جان گارانگ نامی ایک سابق فوجی افسر نے سوڈان کے جنوبی علاقے سے ہتھیار اٹھائے تو کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ جنگ دو دہائیوں تک چلے گی اور بیس لاکھ لوگ مارے جائیں گے۔ اس جنگ نے نہ صرف سوڈان کو دو حصوں میں بانٹ دیا بلکہ پورے مشرقی افریقہ کا نقشہ بدل دیا۔ سوڈان کے لوگ اس جنگ کو امریکی اور اسرائیلی سازش قرار دیتے ہیں۔
سوڈان کے شمال میں عرب نژاد مسلمان اور جنوب میں افریقی نسل کے عیسائی اور روایتی مذاہب کے ماننے والے بستے تھے لیکن یہ لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کیساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں شمال کو الگ اور جنوب کو الگ رکھ کے ان میں تقسیم پیدا کی اور پھر آزادی کے بعد موقع ملتے ہی دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے لڑوا دیا۔ سنہ 1973 میں ایک امن معاہدہ کے بعد پہلی خانہ جنگی ختم ہوئی لیکن جب صدر جعفر نمیری نے 1983 میں شریعت نافذ کی تو جنوبی حصے میں غصہ بھڑک اٹھا۔ اسی سال جان گارانگ نے "سوڈان پیپلز لبریشن آرمی" کے نام سے بغاوت شروع کی۔
ابتدا میں امریکہ اور اسرائیل دونوں کا اس تحریک سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ امریکہ اس وقت نمیری کا اتحادی تھا اور سوویت اثر کے خلاف اسے اپنا دوست سمجھتا تھا۔ اسرائیل نے تو سوڈان سے تعلقات کب کے توڑ دیے تھے اور اسے غیر اہم عرب ملک سمجھتا تھا۔ لیکن جیسے ہی 1985 میں نمیری کا تختہ الٹا اور اسلام پسندوں نے اثر بڑھانا شروع کیا، حالات بدل گئے۔ سنہ 1989 میں جب عمر البشیر اور حسن الترابی نے فوجی بغاوت کر کے اقتدار سنبھالا تو وہ دور سوویت یونین کے بعد کا تھا جب امریکہ اور اسکے اتحادی نام نہاد دہشتگردی کی جنگ کا ماحول بنا رہے تھے۔ القاعدہ کے شدت پسندوں کا بہانہ بنا کر واشنگٹن نے سوڈان کو دشمن قرار دے دیا۔
یہیں سے کہانی میں وہ موڑ آیا جس نے کئی غلط فہمیاں پیدا کیں۔ امریکہ نے انسانی امداد اور سفارتی مدد کے بہانے سے اس علیحدگی پسندی کی تحریک کو مضبوط بنایا۔ امریکہ پر اپنے ملکی قانون کی پابندی تھی کہ جب تک جنگ جاری ہو، کسی فریق کو ہتھیار نہیں دیے جا سکتے۔ سنہ 1993 سے 2005 تک امریکہ نے دو ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی لیکن یہ بظاہر خوراک، پناہ گزینوں اور امن مذاکرات پر خرچ ہوئی۔
اسرائیل کا کردار بھی اسی طرح مشکوک رہا اور اسرائیل نے خفیہ طور پر اسلحہ دیا۔ اسرائیل کی زیادہ توجہ ایتھوپیا اور ایران کے اثر کو روکنے پر تھی، سوڈان کے باغی اس کے مرکزی ایجنڈے میں نہیں تھے لیکن اسرائیل بہرحال اس سازش کا حصہ بنا۔
امریکہ کے اتحادی حمایت جنوب کے پڑوسی ممالک سےسوڈان کے ہمسائیہ ممالک میں سے امریکی اتحادیوں ایتھوپیا کے مینگسٹو اور یوگنڈا کے یوری موسیوینی نے جان گارانگ کو اسلحہ فراہم کیا۔ یوگنڈا ایس پی ایل اے کا سب سے بڑا سہارا بن گیا۔ ہتھیار زیادہ تر مشرقی یورپ سے خریدے گئے۔
امریکی نے خفیہ طریقے سے اس پوری سازش کی نگرانی کی۔ کانگریس کے کچھ اراکین، خاص طور پر بلیک کاکس اور ایونجیلیکل گروہ، جنوبی سوڈان کے عیسائیوں کی حمایت کرتے تھے مگر حکومت نے براہ راست عسکری مدد سے گریز کیا۔ کلنٹن اور بعد میں بش انتظامیہ نے بظاہر مذاکرات پر زور دیا۔ سنہ 2002 کے "ماچاکوس پروٹوکول" نے امن کی راہ ہموار کی اور سنہ 2005 میں ایک جامع معاہدے کے بعد جنگ ختم ہوئی۔ اسی معاہدے نے جنوبی سوڈان کو خودمختاری دی اور 2011 میں وہ الگ ملک بن گیا۔
لیکن قیمت بہت بھاری تھی۔ دو ملین جانیں ضائع ہوئیں، چار ملین لوگ بے گھر ہوئے، جنوبی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ اس جنگ نے مذہبی اور نسلی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ سوڈان کے شمال میں یہ یقین پختہ ہوا کہ جنوبی باغیوں کو مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے، جس نے نہ صرف امریکی مخالفت کو ہوا دی بلکہ فوجی آمریت کو جواز دیا۔
سوڈان کے لیے یہ جنگ صرف ایک خانہ جنگی نہیں تھی بلکہ ایک ایسا عمل تھا جس نے اس کے مستقبل کی سمت طے کر دی۔ سوڈان میں پھیلی مذہبی انتہاء پسندی بھی امریکہ اور اتحادیوں کی ہی دین تھی۔ سوویت یونین کے مقابلہ کرنے کیلئے جس طرح پاکستان میں عرب ممالک کی مدد سے سلفیت، وہابیت اور تکفیریت پھیلائی گئی تھی ویسے ہی سوڈان میں بھی کیا گیا تھا۔ سوڈان میں سوشلسٹ تحریک بہت مضبوط تھی مگر اسے امریکی مدد سے ختم کیا گیا تھا۔ عمر البشیر نے اسی جنگ کے سائے میں اپنی طاقت کو مضبوط کیا اور مغرب کو موقع مل گیا کہ سوڈانی عالمی تنہائی میں دھکیل دے۔ ادھر جنوبی سوڈان آزادی کے بعد خود خانہ جنگی کا شکار ہوا کیونکہ امن معاہدہ جلدی میں ہوا تھا، اور مسائل جیسے تیل کی تقسیم اور سرحدی جھگڑے حل نہ ہو سکے تھے۔
آج سوڈان ایک بار پھر انتشار میں ڈوبا ہوا ہے، وہی پرانے زخم اب نئے ناموں کے ساتھ پھر سے سامنے آ گئے ہیں۔ فوج اور نیم فوجی فورسز کی لڑائی، بیرونی مداخلت، اور ٹوٹی ہوئی ریاستی ساخت ایک بار پھر ثابت کر رہی ہے کہ مغربی ممالک کی مداخلت اچھے بھلے ملک کے پیر اکھاڑ کر اسے اپنے راستے سے ایسے بھٹکاتی ہے کہ پھر انہیں کبھی منزل نہیں ملتی۔
راجہ مبین اللہ خان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Bhakkar