s__s__shaikh

s__s__shaikh

Share

19/02/2026

✨ *رمضان… روح کی تجدید اور دل کی بیداری کا مہینہ* ✨🌙

رمضان صرف ایک مہینہ نہیں…
یہ ٹوٹے دلوں کی مرمت، سوئی ہوئی روحوں کی بیداری اور بکھری ہوئی زندگیوں کی ترتیب کا موسم ہے۔
آئیے! اس ماہ کے رخصت ہوجانے سے پہلے اپنے دلوں کی صفائی کریں۔کینہ نکال دیں…حسد جلا دیں…شکوے مٹا دیں…سچی توبہ کے آنسوؤں سے دل کو دھو لیں،
اور لوگوں کو معاف کر کے اپنے سینے کو ہلکا کر لیں۔
کیونکہ پاک دل ہی رمضان کی برکتوں کو سمیٹ سکتا ہے۔
🤲🏻 اے اللہ کریم ! ہمیں ماہ رمضان کو اس حال میں گزارنے کی توفیق نصیب فرما کہ تو ہم سے راضی ہو۔ آمین یارب العالمین

✍️ *قلب عاصی*

♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ ⌲*

02/02/2026

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ
جو اپنے وقت کے ایک ولی کامل گذرے ہیں۔
ایک کنیز کا حال لکھتے ہیں کہ ایک رات وہ بہت بے چین تھے۔

اللہ والے عموماً راتیں اپنے رب کی یاد میں گذارتے اور سکون پاتے ہیں اور یہ عبادت صرف مصلے اور جائے نماز پر ہی نہیں ہوتی۔

یادِ الٰہی تو ہر رنگ میں ہوتی ہے۔
رات کو گھر سے نکلے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر نظر کی، پھولوں، پودوں کا خیال کیا، سبزہ زاروں کا تصور ابھرا،

صحرا کی طرف نکلے مگر کہیں چین نہ تھا قریب ہی ایک شفا خانہ تھا۔ سوچا چلو مریضوں کو دیکھو شاید سکونِ قلب حاصل ہو جائے۔

کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی بہترین کپڑے پہنے اور زر و جواہر سے لدی پھندی

ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، گلے میں طوق اور پیروں میں بیڑیاں ڈالے آہ و زاری میں مصروف و مشغول ہے۔

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ یہ دیکھ کر بھونچکے رہ گئے کہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے شفا خانے کے داروغہ سے پوچھا

یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے ایک امیر کبیر سوداگر کا نام لیا کہ یہ اس کی کنیز ہے اور کچھ دنوں سے اس پر دورے پڑتے ہیں۔

اس لیے اس کا مالک یہاں علاج کے لیے چھوڑ گیا ہے۔ جس وقت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ اور داروغہ بات چیت کر رہے تھے۔

تو وہ مجنونہ ہوش میں آ گئی اور پُر درد آواز میں شعر پڑھنے لگی۔ خوبصورت اور دل کش آواز اور اس کے ساتھ رقّت! کرب اور درد! اشعار تھے کہ آگ کے شعلے! سننے والوں کا دل بھی جلا دیا۔

ان اشعار کا تقریباً مطلب یہ تھا کہ ’’لوگوں! مَیں پاگل نہیں ہوں مَیں تو اس کی محبت میں سرشار ہوں اور میرا دل فریاد کناں ہے۔

تم لوگوں نے مجھے ہتھکڑیاں پہنا رکھی ہیں حالانکہ اس کے سوا مَیں نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اپنے محبوب کی محبت میں سرگرم و سرگفتہ ہوں تم جس میں میری بھلائی سمجھ رہے ہو،

اس میں میرے ساتھ دشمنی کر رہے ہو۔ جس کو تم برائی سمجھتے ہو دراصل وہ تو بھلائی ہے۔‘‘

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، جب یہ دردناک اور کرب ناک اشعار مَیں نے سنے تو میرا دل دھڑک اٹھا اور بے اختیار آنسو بہنے لگے۔

کنیز میری طرف متوجہ ہوئی اور بولی: ’’اے سری سقطی! یہ رونا اس کی صفت پر ہے اگر تم اس کی ذات کو پہچانتے تو کیا ہوتا؟‘‘

حضرت سری سقطی نے عالمِ حیرت و استعجاب میں اس سے پوچھا :’’ اے لڑکی! تو میرا نام کس طرح جانتی ہے؟‘‘

لڑکی نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارا کیا اور کہا: ’’ جب میں اس سے واقف ہو گئی ہوں تو کسی سے ناواقف نہ رہی۔‘‘

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا:’’ تم کس کی محبت میں اپنے آپ کو فنا کر رہی ہو؟‘‘ کنیز نے ایک سرد آہ بھر کر جواب دیا:’’

میری محبت صرف اس کے لیے ہے، جس نے مجھے اپنی نعمتوں سے آگاہ کیا اور اپنی مہربانیوں سے شکر گزار بنایا، جو دلوں میں بستا ہے، جو سوال کرنے والوں کو خود جواب دیتا ہے۔‘‘

سری سقطی نے پوچھا:’’ یہاں تم کو کس نے قید کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب میں کہا:’’حسد کرنے والوں نے ۔‘‘ اور ایک پُردرد نعرہ مارا اور بے ہوش ہو گئی۔ حضرت نے داروغہ سے کہا:’’اسے رہا کر دو۔‘‘

اس نے ہتھکڑیاں کھول دیں اور آزاد کر دیا۔ حضرت سری سقطی نے فرمایا:’’تم آزاد ہو جہاں چاہو، چلی جاؤ۔‘‘ کنیز نے جوب دیا:’’مَیں کس طرح جا سکتی ہوں؟

جو میرا محبوب ہے، اس نے مجھے اپنے ایک غلام کی ملکیت بنایا ہوا ہے اس کی اجازت کے بغیر مَیں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔‘‘

جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو اس کنیز کا مالک بھی شفا خانے میں آ گیا۔ اس نے جب حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا تو بے حد خوش ہوا اور خدمت میں حاضر ہو کر بہت تعظیم و احترام کا اظہار کیا۔

حضرت سری سقطی نے فرمایا:’’ میرے معاملے میں تم خوامخواہ مبالغے سے کام لے رہے ہو۔ یہ لڑکی مجھ سے زیادہ عزت و احترام کی مستحق ہے۔ تم نے اس کو کیوں پابہ زنجیر کر رکھا ہے؟‘‘

مالک بہت شرمندہ ہوا اور کہا:’’ مَیں نے اسے اپنا بہت سارا سرمایہ خرچ کر کے خریدا۔ یہ اپنے حُسن کے علاوہ بہترین خوش گلو گلوکارہ اور رقاصہ بھی ہے۔ میرا خیال تھا، مَیں اسے فروخت کر کے بہت زیادہ منافع کماؤں گا۔ مَیں نے اس پر بیس ہزار درہم خرچ کیے مگر اب تو مجھے بیس درہم بھی ملنے کی امید نہیں۔‘‘

حضرت سری سقطی نے پوچھا:’’ اس کی یہ حالت کب اور کیسے ہوئی؟‘‘ وہ بولا:’’ مَیں نے آپ کو پہلے بتایا کہ یہ بہت اچھا گاتی ہے ۔

تقریباً ایک سال کا عرصہ ہوا ایک دن یہ مستانہ وار عود بجا کر یہ اشعار گا رہی تھی، جس کا مطلب ہے کہ۔’’ اے وہ شخص! جس کے سوا میرا کوئی آقا نہیں، تو نے مجھے لوگوں میں غلام بنا کر رکھ دیا ہے۔‘‘

بس اسی شعر کی تکرار کرتے ہوئے بےخود ہو گئی، عود توڑ کر دور پھینک دیا اور رونے لگی، ہم نے سمجھا شاید اسے کسی سے عشق ہو گیا ہے مگر یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی آخر تنگ آ کر علاج کے لیے شفاخانے لانا پڑا اور اسی کی بہتری اور بھلائی کے لیے ہم نے اسے پابہ زنجیر کیا ہے۔‘‘

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اچھا تم اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو، مَیں اس کی قیمت کے ساتھ منافع بھی دوں گا۔‘‘ اس شخص کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ بھلا ایک درویش کہاں سے اتنی رقم دے سکتا ہے؟

حضرت نے اس کی حیرانگی بھانپ لی اور کہا:’’ تم میری زبان پر اعتبار کرو۔‘‘ یہ فرما کر حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ شفاخانے سے واپس چلے آئے ۔‘‘

یہ حقیقت تھی کہ درویش کے پاس مال کہاں؟ ایک درہم بھی نہ تھا۔ تمام رات گریہ وزاری اور مناجات و دعا میں بسر کی ، صبح دم ابھی روشنی بھی نہیں پھوٹی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

آپ نے دروازہ کھولا تو ایک شخص کھڑا تھا، پوچھنے پر بتایا کہ میرا نام احمد مثنیٰ ہے۔ رات مجھے غیب سے آواز آئی کہ پانچ تھیلیاں سری سقطی کو پہنچا دو! چناں چہ مَیں پَو پھٹتے ہی رقم لے کر حاضر ہو گیا ہوں۔ آپ نے تھیلیاں لے لیں اور سجدۂ شکر بجا لاے ۔

اور اسی وقت تھیلیاں لے کر شفاخانے پہنچے ۔ داروغہ نے دیکھ کر کہا: ’’مرحبا! مَیں نے غیب سے آواز سنی، جس سے اس لونڈی کا حال ظاہر ہوا۔ واقعی وہ صاحبِ عظمت ہے۔‘‘

23/01/2026

« گناہ گار مومن کا نور کتنا عظیم ہوتا ہے »

°°° ناری صفات نہیں نوری صفات °°°

68

*شیطان نار سے بنی مخلوق ہے تو یہ اسی پر غلبہ پاتا ہے جس میں ناری صفات ہوں*
ناری صفات میں غصہ و حسد و شہوت و کینہ اور پیٹ بھر کے کھانا ہے
اگرچہ یہ صفات بندوں میں فطری ہیں مگر ان کا استعمال و اظہار ناری کو حاوی کرتا ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
> إنَّ الغضَبَ مِنَ الشيطانِ وإنَّ الشيطانَ خُلِقَ منَ النارِ وإنَّما تُطفأُ النارُ بالماءِ فإذا غضِبَ أحَدُكم فلْيَتوضَّأْ
غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے وہ وضوء کر لے
❗ ابو داؤد شریف ❗
غصہ آئے تو خون ابلتا ہے جیسے آگ پر کوئی شے ابالی جاتی ہے
اسی غصے سے حسد و بغض پیدا ہوتے ہیں
*شہوت بھی خون کے ابال کا نام ہے*
تو جس میں ناری صفت ہو شیطان اس پر جلد غلبہ پا لیتا ہے
مگر جس پر روحانیت کا غلبہ ہو جس کی طینت جنتی اور روح آسمانی ہو اس کے خون میں ابال جلد نہیں آتا وہ غصہ اور غصے سے پیدا ہونے والے جرائم نہیں کرتا
لہو میں ابال کی صورت انسان جلد بازی کرتا ہے
حدیث مبارکہ میں ہے
> التأني من الله والعجلة من الشيطان
ٹھہراؤ اللہ رب العزت کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے
❗ مسند ابو یعلیٰ ❗
دوسری روایت میں ہے
> السَّمْتُ الحَسَنُ والتُّؤَدَةُ والاقتصادُ جزءٌ من أربعةٍ وعشرينَ جُزءًا من النبوةِ
اچھی ہیئت اور ٹھہراؤ اور میانہ روی نبوت کے چوبیسویں جزء میں سے ہے
❗ ترمذی شریف ❗
`جلد بازی خون میں حدت کی وجہ سے ہوتی ہے اور خون میں تپش شیطان کے غلبے کو آسان بنا دیتی ہے جبکہ ٹھہراؤ جنتی مٹی کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہوتا ہے`

جب غصہ آتا ہے تو *لا حول ولا قوۃ الا باللہ* پڑھا جاتا ہے کیونکہ یہ مبارک کلمہ شیطان کو کمزور کرتا ہے
اسی طرح *لا الہ الا اللہ* پڑھا جاتا ہے کیونکہ شیطان پر اس کلمہ پاک سے زیادہ سخت کچھ نہیں ہے

❗حکایت نافعہ❗
*سید الطائفہ جنید بغدادی* رحمة الله تعالى عليه فرماتے ہیں
میں نے خواب میں شیطان کو ننگا دیکھا تو کہا تجھے لوگوں سے حیاء نہیں آتی ؟
شیطان کہنے لگا
اے جنید یہ تمہارے نذدیک انسان ہیں ؟
اگر یہ انسان ہوتے تو میں ان سے یوں نہ کھیلتا جیسے بچہ گیند سے کھیلتا ہے
*انسان تو ان کے علاؤہ ہوتے ہیں*
میں نے کہا وہ کون ہیں ؟
شیطان کہنے لگا
وہ مسجدِ الشونیزی میں ہیں میرے دل کو انہوں نے تنگ کر دیا اور میرے جسم کو گُھلا دیا ہے جب بھی میں ان کے قریب ہونے لگتا ہوں تو ان کے ذکرِ الٰہی کی وجہ سے میں جلنے لگتا ہوں
*شیطان ناری خلقت کے ذریعہ انسان کی ناری صفت پر غلبہ پا کے اسے ایسے گھماتا ہے جیسے بکری کے بچے کو کام سے پکڑ کر گھمایا جاتا ہے*
ذکرِ الٰہی کی تپش بھی ہوتی ہے مگر وہ ایک نور ہوتا ہے جو شیطان کو `جَلا` اور جہنم کو `بُھجا` اور مومن کو `جِلا` دیتا ہے
جب بندہَ مومن پل صراط سے گزرے گا تو جہنم کہے گی
> جز يا مؤمن فقد أطفأ نورك لهبي
جلد گزر جا اے مومن کیونکہ تیرے نور نے میرے شعلے بجھا دیئے ہیں
❗ جامع الصغیر ❗
الله الله نورِ مومن کی شان تو دیکھیں جہنم کہ جسے سوئی کے ناکے کے برابر کھول جائے تو ساری دنیا جل جائے وہ جہنم نورِ مومن سے بجھتی ہے
سیدی ابو الحسن الشاذلی فرماتے ہیں
> لو كشف عن نور المؤمن العاصي لطبق ما بين السماء والأرض فما ظنك بنور المؤمن المطيع
*اگر گناہ گار مومن کے نور سے پردہ ہٹا دیا جائے تو زمیں و آسمان کے درمیان سب پر چھا جائے* تو اطاعت گزار مومن کے نور کے بارے تیرا کیا خیال ہے ؟

❗ طبقات الکبری للشعرانی ❗
نورِ مومن کی قوت کون سمجھ سکتا ہے
اور یہاں یہ بات بھی سمجھیں مومن اپنا نور کیسے بڑھا سکتا ہے ؟
{1} لا الہ الا اللہ کی کثرت سے
{2} درود شریف کی کثرت سے
{3} صدقہ دینے سے
{4} نماز پڑھنے سے
{5} اندھیری راتوں میں مساجد کی طرف جانے سے
{6} علمِ دین کے لیئے کوشش کرنے سے
`الغرض ناری صفات پہ قابو پائیں اور نوری صفات اجاگر کریں اور نور بڑھائیں`
✍️
Copy paste

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Surat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Culinary Team

Attire

Telephone

Address


Kalipul Ambawadi
Surat
395003