Light Ray Of Moon

Light Ray Of Moon

Share

23/08/2024

کسی نے جبران_خلیل_جبران سے پوچھا!
انسانوں میں سب سے حیرت انگیز چیز کیا ہے؟
اس نے جواب دیا:
انسان بچپن سے بیزار ہو جاتا ہے، بڑے ہونے کی جلدی کرتا ہے، پھر دوبارہ بچے بننے کی آرزو کرتا ہے، پیسے اکٹھے کرنے کے لیے اپنی صحت برباد کرتا ہے، پھر صحت بحال کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے۔
وہ اس طرح جیتے ہیں جیسے وہ کبھی نہیں مریں گے، اور ایسے مرتے ہیں جیسے وہ کبھی جیئے ہی نہیں۔"

➖ جبران خلیل جبران

21/08/2024

‏دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا،

انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘

تعلیم شعور دیتی ہے لیکن’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں،

’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘

اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘

’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی،

یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں

چنانچہ یہ لوگ ڈگری ہاتھ میں لیکر نوکری ڈھونڈنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں

چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ یہاں وہ محنت سے مقام پاتے ہیں ۔

دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘

’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا

لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

یاد رکھیے دنیا میں ان نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں

جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض تعلیمی قابلیت بتانے والے ڈگری نام کے کاغزی ٹکڑے سے دنیا ان کے قدموں میں ہوگی

تعلیم کے ساتھ ہنر لازم ہے ہنرمندوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے

’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے
ہنر سیکھیے حالات پر رونے کی بجائے کمائی کے اسباب پیدا کیجیے...!!!
#منقول

Photos from Light Ray Of Moon's post 20/08/2024

اس نـــــــے پوچھا’’شاہ لطیف کون تھا؟‘‘
میں نے کہا ’’دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر‘‘
اس نے پوچھا ’’کس طرح۔۔۔!؟‘‘
میں نے کہا ’’اس طرح کہ :
وہ جانتا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہـــــے؟
اس سوال کا جواب ارسطو بھی نہ دے پایا
اس لیے علامہ اقبال نـــــے کہا تھا:
’’ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
پھر بھی یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں‘‘
دنیا کے سارے دانشور اور شاعر کہتے رہــــے
کہ
’’عورت ایک مسئلہ ہــــــے‘‘
اس حقیقت کا ادراک صرف لطیف کو تھا کہ
’’عورت مسئلہ نہیں
عورت محبت ہے!‘‘
مگر وہ محبت نہیں
جو مرد کرتا ہے!
مرد کے لیے محبت جسم ہے
عورت کے لیے محبت جذبہ ہے
مرد کی محبت جسم کا جال ہے
عورت کی محبت روح کی آزادی ہـــــے
مرد کی محبت مقابلہ ہــــــے
عورت کی محبت عاجزی ہـــــے
مرد کی محبت ایک پل ہـــــے
عورت کی محبت پوری زندگی ہـــــے
مرد کی محبت ایک افسانہ ہــــــے
عورت کی محبت ایک حقیقت ہـــــــے!
سارے شعراء شیکسپئر سے لیکر شیلے تک
اور ہومر سے لیکر ہم تم تک
سب یہ سمجھتے رہے کہ عورت معشوق ہے
صرف شاہ کو معلوم تھا کہ عورت عاشق ہے
اس لیے شاہ لطیف نے لکھا:
’’عورت عشق کی استاد ہـــــے‘‘
سب سوچتے رہے کہ
’’آخر عورت کیا چاہتی ہــــــے؟
تخت؛ بخت اور جسم سخت!؟‘‘
شاہ عبدالطیف کو علم تھا کہ
’’عورت کو محبت چاہیئــــــے
نرم و نازک گرم و گداز
جسم سے ماورا
جنس سے آزاد‘‘
مرد جسم کے جنگل میں
بھٹکتا ہوا ایک بھوکا درندہ ہـــــــے
عورت روح کے چمن میں
اڑتی ہوئی تتلی ہـــــــــــے
جو پیار کی پیاسی ہـــــــے
مرد کے لیے محبت بھوک
اور عورت کے لیے پیار
ایک پیاس ہے!
صرف لطیف جانتا تھا
عورت کے ہونٹ ساحل ہیں
اور اس کا وجود ایک سمندر ہے
آنکھوں سے بہتے ہوئے
اشکوں جیسا سمندر
جو نمکین بھی ہے
اور
حسین بھی ہـــــــے!!
جس میں تلاطم ہــــــــے
جس میں غم ہے
جس میں رنج نہیں
صرف اور صرف الم ہـــــــــے.......!!!!

Want your business to be the top-listed Media Company in Srinagar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Srinagar