Ashiq Rather
20/08/2023
میکالے ازم کیا ہے؟
اسے برصغیر میں کس طرح مسلط کیا گیا؟
تحریر: ڈاکٹر احید حسن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکالے ازم محکوم قوموں پہ اپنی زبانیں اور ثقافت مسلط کرنے کا مذموم طریقہ ہے جس کے تحت قوموں کو آزادی کے بعد بھی اپنا غلام رکھنے اور کٹھ پُتلی حکمران پیدا کرنے کے لئے نسل در نسل ذہنی غلام قادر کالے انگریز، بیوروکریسی اور سیاستدان پیدا کئے گئے جو ایشیا خصوصاً پاکستان کے لئے آج تک مصیبت بنے ہوئے ہیں ۔ اس کا نام مشہور برطانوی ادیب، شاعر، مؤرخ اور سیاستدان تھامس بی بنگٹن میکالے کے نام پہ رکھا گیا ہے جو برصغیر میں لارڈ میکالے کے نام سے مشہور ہے۔ اگرچہ برصغیر کے کچھ لوگ محبت میں اسے لارڈ " منہ کالے" بھی کہتے ہیں۔
میکالے ازم سے مراد نظام تعلیم کے توسط سے نوآبادیاتی اور غاصب طاقت کی اجنبی ثقافت کو منصوبہ بندی کے تحت مقامی ثقافت کو ختم کرکے اس پہ بیرونی نظام تعلیم، ثقافت اور زبان مسلط کرنا ہے۔ یہ اصطلاح برطانوی سیاستدان تھامس بیبنگٹن میکالے۔۔۔۔Thomas Babington Macaulay۔۔۔۔۔۔۔(1800– 1859) جو تاریخ میں لارڈ میکالے کے نام سے مشہور ہے، کے نام سے ماخوذ ہے ، جو ہندوستان میں انگریزی کو تعلیمی زبان کے طور پہ متعارف کرانے والا اہم کردار تھا اور 25 اکتوبر 1800ء میں پیدا ہوا اور 28 دسمبر 1859ء کو مر گیا۔ 1
لارڈ میکالے کا نام 1834ء میں ہندوستان کی گورننگ سپریم کونسل کے افتتاحی ممبر کے طور پر رکھا گیا تھا۔ وہ 1839-1841ء کے درمیان برطانیہ کا سیکرٹری آف وار رہا اور اس نے یہ فریضہ دیگر قوموں کے خلاف تعلیمی و میدانی دونوں جنگیں لڑ کر پورا کیا جس میں محکوم قوموں کو ثقافتی غلام بنانا بھی شامل تھا۔ 2
لارڈ میکالے نے اگلے چار سال ہندوستان میں گزارے جہاں اس کی ساری توجہ انگریزی اور یورپی نظام تعلیم کو ہندوستانیوں پہ مسلط کرنے میں وقف رہی۔ وہ مغربی احساس برتری کا شکار ایک شخص تھا جس کے مطابق مغربی ثقافت مقامی ثقافت سے بہتر ہے، مقامی ثقافتیں اور زبانیں گھٹیا ہیں اور طاقت کے زور پہ انگریزی زبان اور مغربی ثقافت کو غلام قوموں پہ مسلط کیا جانا چاہئے۔ بیرونی ثقافت کو مقامی ثقافت اور زبانوں پہ مسلط کرنے کے اس عمل کو اس نے مہذب بنانے کے عمل یا Civilising mission کا نام دیا اور آج تک لارڈ میکالے کے پیروکار لبرلز یورپی زبانوں اور ثقافت کے فروغ کو تہذیب کا فروغ قرار دیتے ہیں۔ اس نے اس مشن کے بارے میں کہا:
ہم ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے اور ہماری کئی ملین غلام عوام کے درمیان ترجمانی کا فریضہ انجام دے، ایک طبقہ جو نسل اور رنگ کے لحاظ سے ہندوستانی اور ذہنی طور پہ انگریز ہو۔ 3
1835ء میں اس نے فارسی کی جگہ انگریزی کو برصغیر کی سرکاری زبان قرار دینے کا حکم دیا اور انگریزی تعلیم یافتہ اساتذہ کی پیدوار کی تجویز دی جس پہ سو فیصد عمل کیا گیا۔ 4
اور ہندوستانیوں پہ ان کی مقامی زبان کی جگہ زبردستی ایک غیر ملکی زبان انگریزی مسلط کر دی گئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس عمل سے بڑے منظم انداز میں ہندوستانیوں کی روایتی اور قدیم تعلیم اور سائنس کا خاتمہ کر دیا گیا۔ 5
لارڈ میکالے ایک نسل پرست شخص تھا جس نے قوموں کو جنگلی اور مہذب قوموں میں تقسیم کیا اور برطانیہ کو مہذب قوموں کا سرخیل قرار دیا۔ 1835ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس نے برصغیر کے تمام تعلیمی ڈھانچے،عربی، فارسی اور سنسکرت کو انگلینڈ اور انگریزی زبان کے مقابلے میں کچرا اور بے فائدہ قرار دیا
اور گورنر جنرل Lord William Bentinck سے کہا کہ برصغیر میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم قرار دیا جائے۔ 6
اس پہ گورنر جنرل نے برصغیر کے کروڑوں لوگوں پہ ایک بیرون ملکی زبان و تعلیم اور ثقافت مسلط کرنے کا ایک حکم جاری کیا جسے Bentinck's English Education Act 1835 کا نام دیا گیا۔ اس ایکٹ نے برصغیر کی مقامی زبانوں، تعلیمی ڈھانچے اور ثقافت پہ جو زہریلے اثرات مرتب کئے وہ آج بھی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اس نے ہندوستان میں برطانوی طرز کے عدالتی قوانین نافذ کرنے کا حکم دیا جس کے اثرات انصاف کے نظام اور عدلیہ کی تباہی کی صورت میں آج بھی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، زمبابوے، نائیجیریا اور سنگاپور میں دیکھے جا سکتے ہیں۔7
اس نے محکوم ہندوستان میں انگریزی زبان اور ثقافت کے فروغ کو ترقی قرار دیا اور برطانوی تہذیب و تمدن کو مثالی قرار دیتے ہوئے اس کے مقابلے میں باقی تہذیبوں کے فروغ کو انتہا پسندی یعنی Radicalism کا نام دیا۔ 3
اور آج تک لارڈ میکالے کے پیروکار مقامی ثقافتوں اور تعلیم کے فروغ کو جنگلی پن اور انتہا پسندی قرار دیتے ہیں۔
لارڈ میکالے نے کبھی شادی نہیں کی اور ازلی کنوارہ رہا جس کا گزارا ہمیشہ بازار کے دودھ پہ چلتا تھا۔ لیکن بغیر شادی کئے بھی وہ اپنے پیچھے وہ ایک ایسی نسل ضرور چھوڑ گیا جنہیں کالے انگریز اور دیسی لبرلز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی سول سورس اور بدنام زمانہ بیوروکریسی اور افسر شاہی کی بنیادیں بھی اسی سے ملتی ہیں۔ وہ خود ایک ایسے انگریز گھرانے کی پیدوار تھا جس کے آباؤ اجداد دنیا میں مختلف برطانوی مقبوضات میں عہدیدار تعینات تھے اور وہ برطانوی سلطنت کو محکوم قوموں کے لئے ایک نعمت قرار دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ برطانوی تسلط، سفید فام نسل پرستی اس کہ سرشت میں رکھ دی گئی تھی۔
وہ لارڈ میکالے جو خود دوسری محکوم قوموں پہ زبردستی انگریزی زبان اور ثقافت مسلط کرنے کا حامی تھا خود ایک اور بیرون ملکی زبان یعنی قدیم یونانی ادب اور رومی ہیروز کا دلدادہ تھا اور ان پہ شاعری کرتا رہا۔ اس طرح یہ شخص قول و فعل کے تضاد کی چلتی پھرتی تصویر تھا جو ایک طرف محکوم قوموں پہ مسلط کرنے کے لئے برطانوی تہذیب کو تہذیبوں کا سرخیل قرار دیتا اور دوسری طرف خود دیگر تہذیبوں کا دلدادہ تھا۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں قیام کے دوران بھی جب وہ ہندوستانیوں پہ انگریزی زبان و تعلیم اور ثقافت مسلط کر رہا تھا، خود ہر اس رومی اور یونانی ادب کی کتاب کا دیوانگی سے مطالعہ کرتا رہا جو اسے میسر تھی اور اپنے خطوط میں رومی و یونانی شاعری پڑھ کر رو دینے کا تذکرہ کرتا ہے۔ وہ خود ولندیزی، سپینی، جرمن اور فرانسیسی زبانیں سیکھتا اور پڑھتا رہا لیکن قول و فعل کے تضاد کی یہ چلتی پھرتی تصویر ہندوستانیوں پہ انگریزی زبان و تعلیم اور ثقافت مسلط کرنے کا حامی تھا۔ 8
مشرقی ثقافتوں اور زبانوں سے بغض رکھنے والا متضاد شخصیت کا مالک یہ سفید فام نسل پرست ایک طرف ہندوستان پہ انگریزی زبان و ادب اور تعلیم زبردستی مسلط کر رہا تھا تو دوسری طرف انگلینڈ میں یہودیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہا تھا۔ 9
میکالے کے طرف سے قوموں کو غلام بنانے کے بعد اپنا ثقافتی غلام بنانے اور غلام قوموں میں اپنے ایجنٹ اور پٹھو پیدا کرنے کی اس حکمت عملی کو کئی ہندوستانی اور بین الاقوامی ماہرین کی طرف سے نشانہ تنقید بنایا گیا ہے جس میں بیرون ملکی زبان، ثقافت اور طور طریقوں کے مسلط ہونے سے مقامی زبان، ثقافت اور اخلاقیات کا استحصال کیا گیا اور قوموں کو تعلیمی، ثقافتی اور فکری بحران کی طرف دھکیل دیا گیا جس سے وہ آج تک نہیں نکل سکیں۔ کارل مارکس نے اسے منظم انداز میں تاریخ بگاڑنے والا جھوٹا قرار دیا ہے۔ 10
جو تاریخ میں اپنی من پسند شخصیات کو پیغمبر جیسی حیثیت دینے اور اپنے مخالفین پہ الزام تراشیوں سے ذرہ گریز نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ وہ شاہ انگلینڈ ولیم سوم کی طرف سے سکاٹ لینڈ میں کی گئی بربریت اور قتل و غارتگری جسے Glencoe massacre کہا جاتا ہے، بالکل جائز سمجھتا تھا۔ بعد میں آنے والے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے اسے تاریخی حقائق گھمانے والا جھوٹا شخص قرار دیا۔ 11
بذات خود لارڈ میکالے ایک شاعر، مؤرخ، سیاستدان اور ادیب تھا جس کا سائنس سے کوئی واسطہ نہیں تھا اور نہ ہی پورے برطانوی دور میں برصغیر کوئی ایک سائنسدان پیدا کر سکا نہ ہی پورے برطانوی دور میں برصغیر میں شرح خواندگی 21 فیصد سے بڑھ سکی۔اس کی توجہ آرٹس پڑھ کر انگریزی غلام ایک طبقے کی پیدائش تک محدود تھی۔
مغرب نے جہاں جہاں قبضے کئے وہاں مقامی زبانوں اور ثقافتوں کا استحصال کیا اور اس استحصال کے لئے دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اصطلاحات رائج ہیں جیسا کہ سنگاپور میں اسے Pinkerton syndrome اور سری لنکا میں Kalu Sudda کہا جاتا ہے۔ اس طرح کا رویہ مقامی ثقافتوں کے ساتھ مغرب نے جہاں جہاں قبضہ کیا، وہیں برقرار رکھا، ایشیا میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا اس کی محض چند مثالیں ہیں۔
کسی تہذیب یا ملک کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی طرح بھی یا ایسے منظم انداز میں کسی بھی علاقے، ملک یا قوم کی ثقافت، اخلاقیات اور زبان کا استحصال کرے، یہ ایک ایسا عمل ہے جسے بلاشبہ مغرب کی ثقافتی دہشت گردی کہا جا سکتا ہے اور پوری دنیا میں مختلف ذرائع اور طریقوں سے اس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
حوالہ جات:
1:Masani, Zareer (2 February 2013). Macaulauy: Britains' liberal imperialist. London: The Bodley Head. ISBN 978-1847922717.
2:"Thomas Babington Macaulay," age-of-the-sage.org/ Retrieved 16 March 2011
3:Macaulay's Minute on Indian Education". University of California, Santa Barbara.
4:MacKenzie, John (January 2013), "A family empire", BBC History Magazine
5:Kampfner, John (22 July 2013). "Macaulay by Zareer Masani – review". The Guardian. Retrieved 30 August 2019.
6:"Minute by the Hon'ble T. B. Macaulay, dated the 2nd February 1835"
7:"Government of India" - A Speech Delivered in the House of Commons on the 10th of July 1833". www.columbia.edu. Columbia university and Project Gutenberg. Retrieved 21 September 2018
8:Sullivan, Robert E (2010). Macaulay: The Tragedy of Power. Harvard University Press. ISBN 978-0-674-05469-1.p. 9
9:Thomas, William. "Macaulay, Thomas Babington, Baron Macaulay (1800–1859), historian, essayist, and poet". Oxford Dictionary of National Biography (online ed.). Oxford University Press. doi:10.1093/ref:odnb/17349. (Subscription or UK public library membership required.)
10:Marx 1906, p. 788, Ch. XXVII: "I quote Macaulay, because as a systematic falsifier of history he minimizes facts of this kind as much as possible."
11:Churchill, Winston (1947). Marlborough: His Life and Times. Volume 1. London: Geo. Harrap & Co.p. 132, "It is beyond our hopes to overtake Lord Macaulay. The grandeur and sweep of his story-telling carries him swiftly along, and with every generation he enters new fields. We can only hope that Truth will follow swiftly enough to fasten the label 'Liar' to his genteel coat-tails."
Comparative Religion studies & the Faith vs. Reason Debate - Aldous Huxley & "The Perennial Philosophy" Comparative Religion studies & the Faith vs. Reason Debate - Aldous Huxley's 'The Perennial Philosophy'
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Sodal Handwara
Srinagar