Hanafi Channel
یوم عشرہ میں سبیل لگانے اور کھانا کھلانے اور لنگرلٹانے کا شرعی حکم
============================
پانی یاشربت کی سبیل لگانا جبکہ بہ نیت محمود اور خالصاً لوجہ اللہ ثواب رسانی ارواح طیبہ ائمہ اطہار مقصود ہوبلاشبہہ بہترومستحب وکارثواب ہے
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں توپانی پرپانی پلاگناہ جھڑجائیں گے جیسے آندھی میں پیڑ کے پتّے۔ (اس کو خطیب نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیان کیا)
اسی طرح کھاناکھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب وباعث اجرہے
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالٰی اپنے اُن بندوں سے جولوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتاہے کہ دیکھو یہ کیسااچھاکام کررہے ہیں(اس کو ابوالشیخ نے ثواب میں حسن سے مرسلاً روایت کیا)
مگرلنگرلٹاناجسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتوں پربیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزق الٰہی کی بے تعظیمی ہے، بہت علماء نے تو روپوں پیسوں کالٹانا جس طرح دلہن دولہا کی نچھاور میں معمول ہے منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اللہ عزوجل نے خلق کی حاجت روائی کے لئے بنایاہے تو اسے پھینکنا نہ چاہئے، روٹی کاپھینکنا توسخت بیہودہ ہے
(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد ٢٤،صفحہ١١١)
طالب دعا :محمد عادل رضا قادری حنفی
============================
30/06/2022
آج کا پیغام 30/6/22
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Pothia
854330