Aashiq E Rasool

Aashiq E Rasool

Share

04/01/2023

*आज ‌की नसीहत ज़ुबान की हिफ़ाज़त**
फिर तुम पर ज़ुबान को क़ाबू में रख कर उसकी हिफ़ाज़त करना भी लाज़िम है
*क्योंकि*
तमाम आ'ज़ा में सबसे ज़्यादा सरकश व हटधर्मी और फ़साद व दुश्मनी इसी में है ।
यही वजह है कि जब बारगाहे रिसालत में अर्ज़ की गई कि या रसूलुल्लाह ﷺ!
*आपको हम पर सबसे ज़्यादा ख़ौफ़ किस चीज़ का है?*
तो हुज़ूर नबी करीम सल्लल्लाहु तआला अलैहि वसल्लम ने अपनी मुबारक ज़ुबान पकड़ कर फ़रमाया:*
*"इस चीज़ का।"*
एक बुज़ुर्ग रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं:
"मेरा नफ़्स शदीद गर्मी में रोज़े का बोझ उठाने को तैयार है मगर फ़ुज़ूल गोई का कोई कलमा (बात) छोड़ने को तैयार नहीं।"
जब मामला ये है तो तुम पर इसकी इंतिहाई हिफ़ाज़त और ख़ूब कोशिश करना ज़रूरी है।
हज़रत सैयदना मालिक बिन दीनार रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं:
"जब तुम अपने दिल में सख़्ती , बदन और दीन में सुस्ती और रिज़्क़ में तंगी देखो तो समझ लो कि तुमने ज़रूर फ़ुज़ूल गुफ़्तगू की है।"
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६७)*

30/12/2022

*شیرِخدارَ ضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دنیا سے بے رغبتی:-*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی نیکوں اور زاہدوں کی زینت سے مزین تھے ۔
حضرت سیِّدُناعمّار بن یاسر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں ایسی زینت سے مزین کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر پسندیدہ زینت سے اس نے کسی کو آراستہ نہیں کیا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں نیک لوگوں کی زینت ہے یعنی دنیا سے بے رغبتی پس اب دنیا کو تجھ سے کوئی مطلب نہ تمہیں اس سے کوئی سروکار اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے مساکین کی محبت عطا فرمائی لہٰذا تم ان کے پیر وکار اور وہ تمہارے امام ہونے پر راضی ہیں
*دُنیاکی مذمت : -*
حضرت سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : بروزِ قیامت دنیا حسین وجمیل صورت میں آئے گی اور عرض کرے گی اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ مجھے اپنا کوئی ولی عطا فرما، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : جا تیری کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی میری بارگاہ میں کوئی مقام ہے کہ میں تجھے اپنا کوئی ولی عطا کروں چنا نچہ، اسے بو سیدہ کپڑے کی
طرح لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ ‘‘
*نگاہِ علی میں دنیا کی حقیقت:-*
امیر المؤمنین مولا مشکل کشا، شہنشاہِ اولیا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تارک ِدنیا تھے ،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے دنیا کی حقیقت سے پردہ اُٹھ گیا، ہدایت وبصارت نصیب ہوئی او رضلالت و گمراہی سے محفوظ رہے ۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دنیا میں زُہدا ختیار کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے علم لدُنی سے نوازتا اور بغیر کسی واسطہ کے ہدایت عطافرما تا ہے ، نورِ بصیرت عطا فرماتااور ضلالت وگمراہی سے بچاتاہے
*[3] مجمع الزوائد ،کتاب المناقب ،باب جامع فی مناقب علی، الحدیث :۱۴۷۰۳ ، ج۹ ، ص۱۶۱ ، بتغیرٍ۔*

29/12/2022

Urdu hindi post
*फ़रिश्तों को नेकी व बदी का इल्म कैसे होता है?*
हज़रत सैयदना सुफ़ियान बिन उययनह रहमतुल्लाहि अलैहि से पूछा गया कि मलाइका बंदे का इरादा किस तरह लिखते हैं?
यानी वह फ़रिश्ते जो नेकी व बदी लिखने पर मामूर हैं वह बंदे का इरादा कैसे जानते हैं हालांकि उसने अब तक अमल नहीं किया होता?
आप ने इर्शाद फ़रमाया: "वह (फ़रिश्ते) इस तरह जानते हैं कि जब बंदा नेकी करने का इरादा करता है तो उससे मुश्क की ख़ुशबू निकलती है और वह फ़रिश्ते ख़ुशबू से मालूम कर लेते हैं कि इसने नेकी का इरादा किया है और जब बंदा बुराई का इरादा करता है तो उससे बदबू निकलती है तो उन फ़रिश्तों को मालूम हो जाता है कि इसने बदी का इरादा किया है।" यहां इरादा से पक्का इरादा मुराद है।
*(تنبیہ المغترین، ص، 48)*
*فرشتوں کو نیکی و بدی کا علم کیسے ہوتا ہے؟*
حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ ملائکہ بندے کا ارادہ کس طرح لکھتے ہیں؟
یعنی وہ فرشتے جو نیکی و بدی لکھنے پر مامور ہیں وہ بندے کا ارادہ کیسے جانتے ہیں حالانکہ اس نے اب تک عمل نہیں کیا ہوتا؟
آپ نے ارشاد فرمایا: "وہ اس طرح جانتے ہیں کہ جب بندہ نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے مُشک کی سی خوشبو نکلتی ہے اور وہ فرشتے خوشبو سے معلوم کر لیتے ہیں کہ اس نے نیکی کا ارادہ کیا ہے اور جب بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے بدبو نکلتی ہے تو ان فرشتوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے بدی کا ارادہ کیا ہے۔" یہاں ارادہ سے عزمِ مُصمّم (یعنی پکا ارادہ) مراد ہے۔ *(تنبیہ المغترین، ص، 48)*

27/12/2022

*غلام کے ساتھ حسنِ سلوک :-
حضرت سیِّدُنامیمون بن مِہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : مجھے ہمدانی نے بتایا کہ ’’ انہوں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ ایک خچر پر سوارہیں اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پیچھے آپ کا غلام نائل بیٹھا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں کے امیرتھے ۔
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن رومی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اگر مجھے جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے لیکن مجھے یہ پتہ نہ ہو کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہو گا تو میں یہ پسند کروں گا کہ مٹی ہوجاؤں اس سے پہلے کہ مجھے کسی طرف جانے کا حکم دیا جائے ۔[1]
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ محاصرہ کے دن ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تھے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اورنہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد میری حیا میں مزید اضافہ ہوا [2]
حضرت سیِّدُناعقبہ بن صہبان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : میں نے جب سے اسلام قبول کیا ،کبھی بھی اپنا سیدھا ہاتھ اپنی شرمگاہ کو نہیں لگایا ۔ [3]
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام ہانی فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے، تو اس قدر روتے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ریش یعنی ڈاڑھی مبارَک آنسو ٔوں سے تر ہوجاتی [4]
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہvسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : سوائے خالی روٹی کے عمدہ کھانے میٹھا پانی اور سایہ دار گھر ابن آدم کے لئے نعمت ہیں اور اس کے لئے اس میں کوئی فضیلت نہیں [5]
*[1] الزھد للامام احمد بن حنبل ، زھد عثمان بن عفان ،الحدیث : ۶۸۶ ، ص۱۵۵۔*
*[2] سنن النسائی ،کتاب المحاربۃ، باب ذکر ما یحل بہ دم المسلم ، الحدیث : ۴۰۲۴ ، ص۲۳۵۱ ، مختصرًا۔*
*[3] سنن ابن ماجہ ، ابواب الطھارۃ ، باب کراھۃ مس الذکربالیمین والاستنجاء بالیمین ، الحدیث : ۳۱۱ ، ص۲۴۹۶ ، بتغیرٍ۔*
*[4] جامع الترمذی ،ابواب الزھد ، باب ماجاء فظاعۃالخ ، الحدیث : ۲۳۰۸*

22/12/2022

*تصوف نام ہے اپنے دل کے حال کو جاننا یہ بہترین علم ہیں*
ایک حدیث کا مفہوم ہے جس نے اپنے آپ کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا دوسری حدیث کا مفہوم ہیں مومن کا دل آئینہ ہوتا ہے جس سے وہ دوسرے کے دل کا حال جان لیے اگر آپ کسی کو نفل عبادت کی نصیت کرتے ہیں مگر اپنے گھر والوں کو فرض واجب کی نصیت نہیں کرتے تو کہی ایسا تو نہیں آپ لوگوں کو نصیت کے بہانے اپنی نفل عبادت کا اظہار کر رہے ہو گھر والوں کو ہر گنہہ سے بچنے کی نصیت کرنا آپ پر فرض واجب ہیں اور اپنی نفل عبادت کو چھپانے کا حکم ہیں جس کو فرض واجب سے زیادہ نفل کی فکر ہو اس کے لئے شیطانی وسوسوں کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے جن لوگوں کو فرض اور واجب میں ثواب نظر نہیں آتا یا ان کو فکر نہیں ہوتی ایسے لوگوں کو نفل عبادت میں اخلاص حاصل ہونا بہت مشکل ہیں ہر نماز کو جماعت سے پڑھنا واجب ہے ہر مرد کے لئے ایک مٹھی داڑھی واجب ہیں ہر عورت کے لئے ہر غیر محرم سے پردہ واجب ہیں اب جن کو ایسے واجب کی فکر نہیں ہوتی ایسے لوگ کسی دعوت کو سنّت سمجھ کر چلے جائے کسی میت کی تدفین میں ثواب سمجھ کے چلے جائے یہ صرف اپنے آپ کو دھوکھا دینا ہیں کسی دعوت میں جانا آپ کے لئے سنّت اور ثواب نہیں نہ کسی میت میں آپ کے لئے ثواب ہیں یہ صرف نیفاق ہیں نہ جاینگے تو لوگ کیا کہینگے ایسے لوگوں کو آخرت میں جواب ملیگا یہ عمل جس کے لئے کیا ثواب اسی سے مانگوں ہر عمل میں اخلاص تو تب حاصل ہوگا جب ہر عمل کو سنت کے مطابق کرنے کی سوچ ہوگی
*اللہ تعالی ہم سب اخلاص کے ساتھ سنت پر عمل کرنے کی توفیق آتا کرے آمین*

21/12/2022

*आज ‌की नसीहत चौथी रुकावट: नफ़्स*
तुम पर लाज़िम है कि बुराई का हुक्म देने वाले नफ़्स से भी बचो।
ये सबसे ज़्यादा नुक़सानदह दुश्मन है और इसकी आफ़त भी बहुत सख़्त है,इसका इलाज सबसे मुश्किल है,
इसकी बीमारी इंतिहाई ख़तरनाक और दवा इंतिहाई दुश्वार है।
इसलिए कि ये अंदर का चोर है और जो घर के अंदर का चोर हो उससे बचना मुश्किल और उसका नुक़सान ज़्यादा होता है और नफ़्स इंसान का महबूब भी होता है और महबूब के मामले में इंसान वैसे ही अंधा होता है क्योंकि मुहिब को महबूब के उयूब नज़र नहीं आते लिहाज़ा
जब इंसान अपने हर ऐब को ख़ूबी समझने लगे और अपने ‌दुश्मन और नुक़सान पहुंचाने वाले ऐबों को जानने की कोशिश न करे तो वह (नफ़्स) उसे ज़िल्लत व हलाकत में डाल देते हैं।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -५७)*

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Mumbai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Jogeshwari West
Mumbai
400102