Contented Heart

Contented Heart

Share

15/01/2023

Signs of toxic people and how to deal with them

12/01/2023

What does it mean to be a believer? مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے ؟

11/01/2023

*اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے!*

"غالبا فلاں کا قلبِ ماہیت اجنبی لڑکیوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور قرآن کے حکم غض بصر کی نافرمانی کا نتیجہ ہے، آکسفورڈ کی لڑکیوں کے نظاروں نے دل کو اتنا زنگ آلود کر دیا کہ حدیث ہاتھ کا فن ہے، اور دل حب رسول اور حب آل رسول سے محروم ہے، اللہ شقاوت اور بدبختی سے حفاظت فرمائے۔"

ایک دین کے عالم نے ایک دین کے عالم کے خلاف مندرجہ بالا تبصرہ اپنے ایک تنقیدی مضمون میں کیا ہے۔ جب راقم الحروف نے اپنے ایک دوست کے واسطے سےفاضل مضمون نگار سے اس تلخی کی وجہ معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ آکسفورڈ کے محقق نے منصور پور کے کسی عالم صاحب پر پہلے اسی طرح نقد کیا ہے،جس کے بعد انہوں نے اپنا تنقیدی مضمون،انہیں کچھ احساس دلانے کے لیے لکھا ہے۔ اس کے بعد ہم نے دونوں مضامین کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ اختلاف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں موجود ایک حدیث(من كنت مولاه فعلى مولاه) کی وجہ سے ہواہے۔ آکسفورڈ کے عالمی شہرت یافتہ اسکالر نےبعض وجوہات کی بنا پر اس کی صحت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے،جب کہ فریق ثانی کا اصرار ہے کہ زیر بحث حدیث صحیح ہے۔

معزز قارئین! کیایہ مسئلہ واقعی اتنا پیچیدہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نیتوں کو نشانہ بناے بغیر،ایک دوسرے کی ذات پر تبصرہ کیے بغیر اور ناشائستہ کلمات کا استعمال کیے بغیر،اس باب میں معروضی انداز میں اپنا اپنا نقطۂ نظر بیان نہیں کر سکتے؟ کیا اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں؟اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ تنقید ایک زندہ معاشرے کی علامت ہوتی ہے۔ صحت مند تنقید سے علم کا تزکیہ ہوتا ہے ، غور و فکر کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ لیکن یہ فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب ہم بنیادی اخلاقی قدروں کو پامال نہ کریں ، ورنہ اس سے الٹا نتیجہ برآمد ہوگا ہماری ساری کوششیں Counter-productive ثابت ہوں گی۔
میرے عزیز دینی بھائیوں! آخر ہم کب تک أہل بیت کی محبت کے نام پر،صحابۂ کرام کی محبت کے نام پر، انبیاء اور اولیاء کی محبت کے نام پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے رہیں گے؟ ہمیں اس بات کا استحضار کیوں نہیں رہتا کہ ہمارے منہ اور قلم سے نکلا ہر لفظ فرشتوں کے ہاں بھی ریکارڈ ہو رہا ہے؟ ہم سے مولی علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں تو سوال نہیں ہوگا ، البتہ آپ رضی اللہ عنہ کی ذات کو بنیاد بنا کر ہم جو ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں ، اس بابت ضرور پوچھا جائے گا ، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ایک دوسرےپر ناصبیت اور رافضیت کے فتوے لگانا چھوڑ دیں اور ایک دوسرے کو معاف کر کے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف ہَوں برادران وطن کے ذہنوں میں اسلام کے تئیں جو غلط فہمیاں ہیں ، ہم انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ ہم اپنا داعیانہ فریضہ انجام دیں اس سے پہلے کی بہت دیر ہو جائے! ورنہ آنے والی نسلوں کو جب پتہ چلے گا کہ ملک میں جب اکثریتی طبقہ مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کر رہا تھا اس وقت ہمارا مذہبی طبقہ آپس میں مسلک مسلک کھیل رہا تھا! اور پھر شاید اپنے خالق کے حضور بھی ہمیں معافی نہ مل سکے اس لئے بیدار ہوجائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے!

*مرغوب الرحمن ندوی*

11/01/2023

دشمن کو دوست بنانے کا قرآنی طریقہ

Want your school to be the top-listed School/college in Lucknow?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Lucknow