Deen ki Baatein
🕋 🕋
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن حج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مبارک عمل کے ذریعے امت کو حج کے تمام احکام اور مناسک سکھائے۔
ٰ_کا_ارشاد_ہے:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔"
(سورۃ آل عمران: 97)
َنْ_ابْنِ_عُمَرَ_رَضِيَ_اللَّهُ_عَنْهُمَا_قَالَ:
َالَ__رَسُولُ__اللَّهِ__ﷺ:
«بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»
(صحیح البخاری: 8، صحیح مسلم: 16)
:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:
(1️⃣) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،
(2️⃣) نماز قائم کرنا،
(3️⃣) زکوٰۃ ادا کرنا،
(4️⃣) بیت اللہ کا حج کرنا،
(5️⃣) اور رمضان کے روزے رکھنا۔"
حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الإیمان، حدیث: 8؛ صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث: 16۔
رسول اللہ ﷺ نے امت کو حج کے مناسک سکھاتے ہوئے فرمایا:
ُذُوا___عَنِّي___مَنَاسِكَكُمْ
"مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو۔"
(صحیح مسلم: 1297)
نبی کریم ﷺ کا آخری حج تاریخِ اسلام میں "حجۃ الوداع" کے نام سے مشہور ہے۔ اس مبارک موقع پر ایک لاکھ سے زائد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے ساتھ حج ادا کیا اور آپ ﷺ کے عملی نمونے سے مناسکِ حج سیکھے۔
اسی سفر میں آپ ﷺ نے وہ عظیم خطبہ ارشاد فرمایا جسے انسانی حقوق کا ایک عظیم منشور کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ
"بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔"
(صحیح البخاری: 1739، صحیح مسلم: 1679)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
"جو شخص اللہ کے لیے حج کرے اور گناہوں اور بے حیائی سے بچے تو وہ ایسا لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔"
(صحیح البخاری: 1521، صحیح مسلم: 1350)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ
"مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔"
(صحیح البخاری: 1773، صحیح مسلم: 1349)
یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ حج کا مکمل طریقہ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے سیکھا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں حج کی عظیم عبادت کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ حجۃ الوداع نہ صرف عبادت کا ایک عظیم اجتماع تھا بلکہ امت کے لیے دین کی تکمیل، اتحاد، اخوت اور اتباعِ سنت کا بھی عظیم پیغام تھا۔
📢 :📢
رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں کتنے حج کیے؟
A) ایک
B) دو
C) تین
اپنا جواب کمنٹ میں ضرور دیں۔
:
#علمِ_دین_سیکھیں_اور_دوسروں_تک_پہنچائیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Address
Sant Kabir Nagar
Lucknow
272270