A. Talha Islamic Sources

A. Talha Islamic Sources

Share

12/07/2024

زندگی کیا ہے؟
زندگی موت کی ضد ہے، اجل سے ہی دونوں کی راہ جدا ہے، ایک کی آمد خوشی لاتی ہے ، دوسری کی آمد غم میں ڈبوتی ہے، زندگی ملنے سے چمن گلزار ہوتا ہے، موت کے آنے سے من مرجھا جاتا ہے۔ واہ رے زندگی! کتنوں کو مسرت کی چادر اڑھاتی ہے، ہاۓ رے موت! کتنوں کو اداس کر جاتی ہے۔
اے انسان ناداں! کف افسوس ملنے سے کیا فائدہ؟! آنے والا تو آتا ہی ہے جانے کے لیے، کیا آپ نے کسی مسافر کو ہمیشہ کے لیے راہ سفر کو مسکن ابدی بناتے دیکھا ہے!
ابوطلحہ سلفی

08/07/2024

محرم کی بوڑھی لاٹھی (ابوطلحہ سلفی، کٹیہار)
یہ لاٹھی سالوں قدیم ہے، اسے میں نے بڑے ناز و نعم سے تیلوں سے پالا ہے، جب بھی ذرا سی طبیعت بگڑی میں نے ہلکی مالش کی اور وہ حقیقی رنگت میں آگئی، اس سے کھیلتے کھیلتے میرے ہاتھوں میں جھریاں پڑ گئیں مگر یہ اب بھی بوڑھی ہونے پر بھی جوان ہے، میرے وجہ انور کی رونق تو جاتی رہی پر اس کی چمک میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ، میں نے جب اس کا ہاتھ تھاما تھا میرا لڑکپن تھا، اور آج میرا بڑھاپا ہے پھر بھی اس کی بوڑھی جوانی شباب پر ہے،کہاں گئ وہ جوانی جب میں محرم کا چاند نظر آتے ہی اسے بغل میں دباۓ، سر پر پگڑی باندھے، لنگی کی لنگوٹی کسے ہوۓ، گھر سے باہر نکل کر اپنے ہم جولیوں کو دعوت شغل لاٹھی دیا کرتا تھا، میری ایک آواز پر گلی کوچوں کے لفنگے، کام چور، مستی خور نکل آتے، دیکھتے ہی دیکھتے بچوں، بوڑھوں، بوڑھیوں، جوانوں اور لڑکیوں کا ازدحام ہوجاتا، پھر ہمارا جوش اٹھکھیلیاں مارنے لگتا، کوئی کہتا اے محرم کے دیوانے! ذرا اپنا جوہر تو دکھا، کہیں سے صدا آتی اے محرم کے مجنوں! ذرا اپنی لاٹھی کی چمک سے ہم ناظرین کے قلب وجگر کو سرور تو بخش، کسی کونے سے کسی حسینہ کی باریک لچیلی آواز آتی، اے محرم کی جان! ذرا جان ہتھیلی پہ لے اور میدان کھیل میں اپنا ہنر آزما، پھر آؤ دیکھتا نہ تاؤ، ڈنڈا بازی کی محفل میں محرم کے دیوانوں کی لاٹھیاں یکایک ٹکرانے لگتیں، لوگوں کا ہجوم تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے کیف و سرور کی ندیوں میں نہانے لگتا، سب کھلاڑی تھک ہار کر اپنی جگہ لے لیتے لیکن میں اور میری محرمی لاٹھی کبھی تھکاوٹ کا شکار نہ ہوتی،
پورے علاقے میں میری محرمی لاٹھی کا چرچا تھا، آج بھی من چلے لڑکے تبرکا اس لاٹھی کو لمس بجالانے آتے ہیں، ایک دن میں نے اپنے ایک پوتے کو بلایا اور چند نصائح کے ساتھ وہ لاٹھی اس کے پلو باندھ دی،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر جب میں بستر مرگ میں پڑا کراہنے لگا ، ہاۓ اللہ ہاۓ اللہ! اوہ اوہ کرنے لگا تب نہاں خانۂ قلب سے یہ آواز آئی، اے کاش میں نے اپنی جوانی کو محرمی لاٹھی کے حوالے نہ کیا ہوتا،،!!!!!
ابوطلحہ سلفی ، کٹیہار

Want your school to be the top-listed School/college in Katihar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Katihar