G S QADRI
15/01/2025
الحمدللہ آج مورخہ15جنوری
2025بروز بدھ
*دارالعلوم شمس العلوم* متصل نوری جامع مسجد اسلام پور اتر دیناج پور بنگال کے ان پانچ طلبائےعظام نےتحفیظ قرآن کا آغاز کیا
1.*عزیزم محمد عفان*
بن محمد عثمان خان
چاندنی اسٹور اسلامپور
2. *محمد دانش عالم*
بن محمدمرتضیٰ حسین
علی گنج اسلام پور
3. *محمد جنید عالم*
بن قسیم الحق
گنجرا ڈمٹھی،اسلام پور
4. *محمد کونین رضا*
بن مرحوم محمد نکیر
فتح آباد دھوم ڈانگی سوناپور،
5 *.محمد نفیس عالم*
بن علاءالدین
گرہنڈانگا،اسلام پور ،
آپ حضرات ان بچوں کے حق میں دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ قوت حافظہ میں تقویت عطا فرمائے، اور والدین و اساتذہ کرام کی تمناؤں کی تکمیل فرمائے (آمین)
Kya Aap Ko Bhukamp Ke Jhatke Mehsoos Hua?
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(125)
ترجمہ: کنزالعرفان
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ،بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
تفسیر: صراط الجنان
{اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ:اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تین طریقوں سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم فرمایا۔ (1) حکمت کے ساتھ۔ اس سے وہ مضبوط دلیل مراد ہے جو حق کو واضح اور شُبہات کو زائل کردے۔ (2) اچھی نصیحت کے ساتھ۔ اس سے مراد ترغیب و ترہیب ہے یعنی کسی کام کو کرنے کی ترغیب دینا اور کوئی کام کرنے سے ڈرانا ۔ (3) سب سے اچھے طریقے سے بحث کرنے کے ساتھ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف اس کی آیات اور دلائل سے بلائیں ۔(خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۳ / ۱۵۱، ملخصاً)اس سے معلوم ہوا کہ دعوتِ حق اور دین کی حقانیت کو ظاہر کرنے کے لئے مناظرہ جائز ہے۔
اَمر بالمعروف کے آداب اور چند مسائل:
اس آیت کی مناسبت سے یہاں امر بالمعروف کے آداب اور اس سے متعلق 6 شرعی مسائل ملاحظہ ہوں
(1)…امربالمعروف یہ ہے کہ کسی کو اچھی بات کا حکم دینا مثلاً کسی سے نماز پڑھنے کو کہنا۔ اور نَہی عَنِ الْمُنْکَر کا مطلب یہ ہے کہ بری باتوں سے منع کرنا۔
(2)…کسی کو گناہ کرتے دیکھے تو نہایت مَتانت اور نرمی کے ساتھ اسے منع کرے اور اسے اچھی طرح سمجھائے پھر اگر اس طریقہ سے کام نہ چلا اوروہ شخص باز نہ آیا تو اب سختی سے پیش آئے، اس کو سخت الفاظ کہے، مگر گالی نہ دے، نہ فحش لفظ زبان سے نکالے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو جو شخص ہاتھ سے کچھ کرسکتا ہے کرے۔ لیکن اس صورت میں فتنے اور قانونی پہلو کو سامنے رکھے یعنی نہ خلافِ قانون کرے اور نہ ایسا طریقہ اختیار کرے جس سے فتنہ ہو۔
(3)…امربالمعروف کے لیے پانچ چیزوں کی ضرورت ہے۔ (۱) علم۔ کیونکہ جسے علم نہ ہو وہ اس کام کو اچھی طرح انجام نہیں دے سکتا۔ (۲)اس سے مقصود رضائے الٰہی اور دینِ اسلام کی سربلندی ہو۔ (۳) جس کو حکم دیتا ہے اس کے ساتھ شفقت و مہربانی کرے اور نرمی کے ساتھ کہے۔ (۴)حکم کرنے والا صابر اور بُردبار ہو۔ (۵) حکم کرنے والا خود اس بات پر عامل ہو، ورنہ قرآن کے اس حکم کا مِصداق بن جائے گا، کیوں کہتے ہو وہ جس کو تم خود نہیں کرتے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک ناخوشی کی بات ہے یہ کہ ایسی بات کہو، جس کو خود نہ کرو۔ اور یہ بھی قرآنِ مجید میں فرمایا کہ ’’کیا لوگوں کو تم اچھی بات کا حکم کرتے ہو اور خودا پنے کو بھولے ہوئے ہو۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Islampur