AQF Learning Center
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبريدة رضى الله عنه
"ان كنت تحبه (اي: عليا كرم الله وجهه)فازدد له حبا"
قال: فما كان من الناس اخد بعد قول رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الي من علي ابن ابي طالب
فضايل الصحابة- احمد ابن حنبل- حديث: ١١٨٠
فضیلت کو سمجھے بغیر کسی چیز کی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی
وَمَا لَمْ تُفْهَمِ الْفَضِيلَةُ فِي نَفْسِهَا لَا يَتَحَقَّقُ الْمُرَادُ مِنْهَا
امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
جب تک فضیلت کی حقیقت خود سمجھ میں نہ آئے، تب تک یہ جاننا ممکن ہی نہیں کہ کوئی چیز (مثلاً علم) صاحبِ فضیلت ہے یا نہیں۔
🔎 عقلی قاعدہ:
کسی صفت کو کسی چیز کے لیے ثابت کرنے سے پہلے، خود اس صفت کی تعریف اور حقیقت معلوم ہونی چاہیے۔
یہی منطق اصولِ فقہ اور منطقِ دونوں میں مسلم ہے۔
٢) مثال: حکمت کو سمجھے بغیر حکیم کا فیصلہ گمراہی ہے
فَلَقَدْ ضَلَّ عَنِ الطَّرِيقِ مَنْ طَمِعَ أَنْ يَعْرِفَ أَنَّ زَيْدًا حَكِيمٌ...
امام غزالي رحمۃ اللہ علیہ ایک واضح مثال دیتے ہیں:
اگر کوئی شخص یہ فیصلہ کرنا چاہے کہ زید حکیم ہے یا نہیں، مگر وہ خود حکمت کی حقیقت سے ناواقف ہے، تو وہ لازماً غلطی کرے گا۔
📌 مطلب یہ کہ:
لقب سے پہلے مفہوم
دعویٰ سے پہلے معیار
حکم سے پہلے تصور
ضروری ہے۔
یہ امام غزالیؒ کی وہی تنقیدی فکر ہے جس کے تحت وہ محض الفاظ اور القابات کے پیچھے چلنے کو علم نہیں مانتے۔
٣) فضیلت کی لغوی و عقلی تعریف
وَالْفَضِيلَةُ مُشْتَقَّةٌ مِنَ الْفَضْلِ، وَهُوَ الزِّيَادَةُ
یہاں امام غزالیؒ لسانی (لغوی) بنیاد پر فلسفیانہ تعریف قائم کرتے ہیں:
فضل = زیادتی
فضیلت = ایسی زیادتی جو کمال کے دائرے میں ہو
ہر زیادتی فضیلت نہیں ہوتی، بلکہ:
وہ زیادتی جو کسی شے کو اس کے مقصد اور کمال کے قریب لے جائے۔
٤) اشتراک + امتیاز = فضیلت
فَإِذَا تَشَارَكَ شَيْئَانِ فِي أَمْرٍ، وَاخْتَصَّ أَحَدُهُمَا بِمَزِيدٍ، قِيلَ: فَضَلَهُ
یہ امام غزالیؒ کا عقلی فارمولا ہے:
دو چیزیں کسی بنیادی وصف میں شریک ہوں
ایک میں وہی وصف زیادہ کامل ہو
➡️ تو وہی افضل کہلائے گی
مثلاً:
دونوں دیکھ سکتے ہیں
ایک زیادہ واضح دیکھتا ہے
تو وہ افضل ہے
٥) نتیجہ (علم کے باب کی تمہید)
اس پوری تشریح کا مقصد یہ ہے کہ قاری یہ اصول ذہن نشین کر لے:
علم اس لیے افضل نہیں کہ لوگ اسے عظیم کہتے ہیں،
بلکہ اس لیے کہ وہ انسان کو حقیقت، ہدایت اور کمال تک پہنچاتا ہے۔
یہی بنیاد ہے جس پر آگے چل کر امام غزالیؒ:
علم کو عبادت پر
اور علم کو مال و اقتدار پر
عقلاً و شرعاً افضل ثابت کرتے ہیں۔
مختصر خلاصہ
فضیلت کو سمجھے بغیر کسی چیز کی فضیلت کا فیصلہ ممکن نہیں
فضیلت محض زیادتی نہیں بلکہ کمال میں زیادتی ہے
علم چونکہ انسان کو انسان بناتا ہے، اس لیے وہ اعلیٰ ترین فضیلت رکھتا ہے
یہ پوری بحث امام غزالیؒ کے منہجِ عقل + وحی کی نمائندہ ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Address
Tolichowki
Hyderabad
500008