Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies
20/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسجد اگر صرف رسمی عبادت گاہ بن جائے اور منبر اگر صرف چند مانوس فضائل، دہرائے ہوئے واقعات اور غیر مستند کہانیوں تک محدود ہو جائے تو سب سے پہلے جو طبقہ بددل ہوتا ہے وہ نوجوان ہوتا ہے۔ نوجوان صرف جذباتی جملے سننے نہیں آتا، وہ سوال لے کر آتا ہے۔ وہ الجھن لے کر آتا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ قرآن آج کے دور میں اس کی رہنمائی کیسے کرتا ہے۔ جب اسے جمعہ کے دن منبر سے صرف وہی روایتی انداز ملتا ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے — اور جس میں نہ شرک کی وضاحت ہے، نہ بدعت کی پہچان، نہ توحید کی گہرائی، نہ سود کی قباحت، نہ معاشرتی و سماجی خرابیوں پر کھلی گفتگو — تو وہ مایوس ہو کر مسجد سے ذہنی طور پر دور ہو جاتا ہے۔
پھر وہ یوٹیوب اور فیس بک کا رخ کرتا ہے۔ وہاں اسے ایسے مقررین ملتے ہیں جو پُرجوش بھی ہوتے ہیں، دلائل بھی دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات عقیدے میں انحراف رکھتے ہیں۔ نوجوان چونکہ مسجد سے علمی غذا نہیں پا سکا ہوتا، اس لیے وہ ہر چمکتی ہوئی بات کو سچ سمجھ لیتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ بدعقیدگی، الحاد، مادیت پرستی اور دہریت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ آج کا نوجوان سادہ سوال پوچھتا ہے: اگر دین میں واقعی توحید اتنی اہم ہے تو منبر سے کھل کر کیوں بیان نہیں ہوتی؟ اگر شرک سب سے بڑا ظلم ہے تو اس کی شکلیں واضح کیوں نہیں کی جاتیں؟ اگر سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے تو اس پر خاموشی کیوں ہے؟ اگر معاشرہ بے حیائی، ظلم اور ناانصافی سے بھرا ہوا ہے تو مسجد خاموش کیوں ہے؟
جب امام قرآن کی اصل تفسیر بیان کرتا ہے، آیات کا ربط سمجھاتا ہے، شرک اور توحید کی حقیقت واضح کرتا ہے، تو بہت سے نوجوان حیران ہو کر کہتے ہیں: کیا واقعی قرآن میں یہ سب بھی ہے؟ ہمیں تو ہمیشہ صرف واقعات اور قصے سنائے گئے۔ اس حیرت کے پیچھے خوشی بھی ہوتی ہے اور شکوہ بھی۔ خوشی اس بات کی کہ دین گہرا ہے، مضبوط ہے، عقلی ہے۔ اور شکوہ اس بات کا کہ انہیں برسوں تک اصل علم سے محروم رکھا گیا۔
یہاں اصل سوال ٹرسٹیوں کی ذمہ داری کا ہے۔ ٹرسٹی انتظام کے نگہبان ہیں، دین کے مالک نہیں۔ اگر وہ امام کو یہ کہہ کر روک دیں کہ ہماری مسجد میں شروع سے یہی بیان ہوتا آیا ہے، تو یہ دلیل نہیں، جمود ہے۔ اگر وہ یہ کہیں کہ شرک، بدعت، سود یا معاشرتی خرابیوں پر بات نہ کرو کیونکہ لوگ ناراض ہو جائیں گے، تو وہ وقتی سکون کے بدلے آنے والی نسل کا ایمان داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اگر وہ خود ان برائیوں میں مبتلا ہوں اور اس وجہ سے منبر کو محدود کریں، تو وہ دوہرا نقصان کر رہے ہیں: اپنا بھی اور امت کا بھی۔
قرآن حق چھپانے سے روکتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ — محمد صلی اللہ علیہ وسلم — نے دین کو مکمل طور پر پہنچایا، کسی طبقے کی ناراضی کے خوف سے اصول نہیں چھپائے۔ مکہ میں توحید بیان ہوئی، مدینہ میں نظام قائم ہوا، ہر مرحلے میں حکمت تھی مگر اصول پر سمجھوتہ نہیں تھا۔ حکمت کا مطلب یہ نہیں کہ موضوعات کو دفن کر دیا جائے؛ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ دل تک بات پہنچے، مگر حق کمزور نہ ہو۔
یہ بھی سچ ہے کہ امام کو اشتعال انگیزی نہیں کرنی چاہیے، نام لے کر تضحیک نہیں کرنی چاہیے، منبر کو سیاسی جنگ کا میدان نہیں بنانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ اگر وہ صرف اس خوف سے خاموش ہو جائے کہ اس کی ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے تو وہ اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہا۔ امام کا منصب تنخواہ سے بڑا ہے۔ منبر کی نسبت دنیاوی عہدوں سے اونچی ہے۔
آج الحاد کیوں پھیل رہا ہے؟ کیونکہ نوجوان کو سائنسی، فکری اور فلسفیانہ سوالات کا جواب مسجد سے نہیں مل رہا۔ مادیت پرستی کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیونکہ دنیا کی محبت پر وعظ تو ہے مگر اس کے فکری پس منظر کی تحلیل نہیں۔ دہریت کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیونکہ خدا کے وجود پر دلائل بیان کرنے کے بجائے ہم صرف جذباتی واقعات سنا رہے ہیں۔ اگر مسجد قرآن کی گہری تفسیر، عقلی استدلال، سیرت کی عملی جہت اور معاصر مسائل پر روشنی نہیں دے گی تو نوجوان لازماً متبادل پلیٹ فارم تلاش کرے گا۔
اور جب وہ گمراہ ہوگا تو ذمہ داری صرف اس کی نہیں ہوگی۔ اس میں حصہ ان لوگوں کا بھی ہوگا جنہوں نے منبر کو محدود رکھا۔ اگر کسی نوجوان کا عقیدہ بگڑتا ہے کیونکہ اسے مسجد سے اصل علم نہیں ملا، تو سوچنا ہوگا کہ خاموشی کی قیمت کتنی بھاری تھی۔
مسجد کو زندہ ہونا ہوگا۔ منبر کو بیدار ہونا ہوگا۔ توحید کو کھل کر بیان کرنا ہوگا۔ شرک کی صورتیں واضح کرنی ہوں گی۔ بدعت کی حقیقت سمجھانی ہوگی۔ سود کی حرمت، معاشرتی ناانصافی، خاندانی ظلم، نوجوانوں کے فکری سوالات — سب پر قرآن و سنت کی روشنی میں بات کرنی ہوگی۔ یہی توازن ہے: نہ جذباتی شور، نہ مصلحت کی چادر۔ نہ ذاتی حملہ، نہ اصول سے پیچھے ہٹنا۔
اگر ٹرسٹی واقعی خیر خواہ ہیں تو انہیں امام کے علم کی پشت پناہی کرنی چاہیے، نہ کہ اس پر قدغن لگانی چاہیے۔ اور اگر امام واقعی امانت دار ہے تو اسے حکمت کے ساتھ مگر جرات کے ساتھ دین بیان کرنا چاہیے۔ مسجد کی روایت وہی زندہ رہتی ہے جو قرآن کے ساتھ جڑی ہو، نہ کہ وہ جو صرف عادت بن چکی ہو۔
نوجوان ایمان کی گہرائی چاہتے ہیں، سچائی چاہتے ہیں، دلیل چاہتے ہیں۔ انہیں کہانیاں نہیں، قرآن کی روشنی چاہیے۔ اگر مسجد انہیں یہ روشنی دے گی تو وہ مسجد کے ہوں گے۔ اگر مسجد خاموش رہے گی تو وہ کہیں اور جائیں گے — اور پھر شکوہ کرنے کا حق کم رہ جائے گا۔
اللہ ہمیں حق کو مکمل طور پر سمجھنے، اسے امانت کے ساتھ بیان کرنے، اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
21/07/2025
❗️"बाइज्ज़त बरी" होना इंसाफ़ नहीं... बल्कि व्यवस्था की नंगी हार है!
✍️ एक दर्दमंद मुसलमान की कलम से
( मुफ्ती किफायतुल्लाह कासमी)
---
🕯️ 11 जुलाई 2006:
मुंबई लोकल ट्रेन धमाकों का वो खूनी दिन... 189 मासूमों की जान गई, 800 से ज़्यादा घायल हुए।
लेकिन इस हादसे के बाद जो असली ज़ुल्म हुआ — वो इन धमाकों से भी बड़ा था:
> 12 मासूम मुसलमानों को आतंकवाद के झूठे आरोप में 18 सालों तक जेल में सड़ने को छोड़ दिया गया।
किसी को फांसी की सज़ा, किसी को उम्रकैद, मीडिया ट्रायल, पुलिसिया प्रेस कॉन्फ्रेंस, TRP के लिए चिल्लाते न्यूज़ चैनल, और पूरे मुस्लिम समाज को गुनहगार ठहरा देने वाला जहरीला प्रोपेगेंडा।
और आज... 18 साल बाद, हाईकोर्ट कहता है:
> "आप बाइज्ज़त बरी हैं!"
---
❓मगर क्या यही इंसाफ़ है?
क्या कोई उनकी 18 साल की जवानी लौटा सकता है?
क्या उनकी बूढ़ी मांओं की सूनी आंखों का कोई मोल है?
क्या उनके बच्चों की बर्बाद ज़िंदगी की कोई भरपाई है?
> ❌ नहीं! ये इंसाफ़ नहीं है, ये इंसाफ़ का मज़ाक है।
❌ ये सिस्टम की क्रूरता, बेनकाब चेहरा है।
❌ ये उस संविधान की खामोशी है जिसे सबसे बड़ा बताया जाता है।
---
📜 भारत का संविधान — "अधूरा दस्तावेज़!"
हमें सिखाया जाता है कि भारत का संविधान दुनिया का सबसे महान है।
लेकिन सवाल ये है:
> 👉 जिस संविधान में झूठे आरोप में सालों जेल काटने वालों के लिए न माफ़ी है, न मुआवज़ा, न न्याय — क्या वो संविधान पूरा है?
🌍 दुनिया क्या करती है?
अमेरिका: हर साल के लिए $50,000
कनाडा, ब्रिटेन, जर्मनी: मानसिक, आर्थिक और सामाजिक पुनर्वास
जापान: सरकार की ओर से सार्वजनिक माफ़ी और मुआवज़ा
लेकिन भारत?
"जाओ, बाइज्ज़त बरी हो गए हो!"
---
🧭 अगर यहां इस्लामी निज़ाम होता...
> इस्लामी हुकूमत में अगर कोई बेगुनाह जेल चला जाए:
✅ तो सरकार उससे माफ़ी मांगती
✅ उसे इज़्ज़त, माली मदद, और मानसिक राहत देती
✅ और झूठा केस बनाने वाले पुलिस अफ़सर को सज़ा दी जाती
हज़रत उमर फारूक़ रज़ि. ने फरमाया था:
> "अगर फ़ुरात के किनारे एक कुत्ता भी भूख से मर जाए, तो उमर से पूछा जाएगा!"
> और आज...? 12 मुसलमान 18 साल जेल में रहें, और पूछने वाला कोई नहीं!
---
📢 ये वक़्त खामोशी का नहीं
> अब सिर्फ़ बयानबाज़ी नहीं, क़ानूनी और राजनीतिक लड़ाई लड़ने का वक़्त है।
✅ "गलत गिरफ्तारी कानून" (Wrongful Incarceration Act) लाया जाए
✅ मुआवज़ा सरकार खुद दे — कोर्ट का इंतज़ार न करे
✅ झूठे केस बनाने वाले पुलिस अफसरों को बर्खास्त और सज़ा दी जाए
✅ मीडिया पर नैतिक संहिता लागू हो — झूठ फैलाने की छूट न हो
---
⚖️ बाइज्ज़त बरी = व्यवस्था की हार
> जिन्हें आतंकवादी कहकर दुनिया के सामने बदनाम किया,
वो बेगुनाह निकले!
और जिन अफसरों ने ज़ुल्म किया —
वो आज भी कुर्सी पर बैठे हैं!
> यही है "भारत का न्याय"!
---
✊ आख़िरी बात:
> "अगर तुम समझते हो कि 'बाइज्ज़त बरी' हो जाना इंसाफ़ है —
तो तुम सिर्फ़ भोले नहीं, अपने ज़मीर के भी क़ातिल हो!"
---
यह लेख हर उस इंसान के लिए है,
जो ज़ुल्म से नफ़रत करता है।
जो आंखें खोलकर देखना चाहता है कि
हमारे नाम पर, हमारे साथ क्या हो रहा है।
🟥 "اہلِ حدیث، سعودی حکومت، اور خلافتِ اسلامی: ایک فکری و دینی جائزہ"
✍️ تحریر: ایک درد مند مسلمان
---
🔰 تمہید
آج امتِ مسلمہ ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں:
ظالم حکومتیں حاکم ہیں،
حق گو علما جیلوں میں قید ہیں،
اور امت کا ایک بڑا طبقہ خاموش، غافل، یا مصلحت پسند ہے۔
اس مضمون میں ہم ان چند سوالات کا جائزہ لیں گے:
سعودی عرب کے مظلوم علما کے حق میں آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی؟
امامِ حرم اور دیگر بڑے علماء خاموش کیوں ہیں؟
اہلِ حدیث خاص طور پر سعودی حکومت کا دفاع کیوں کرتے ہیں؟
خلافت کے قیام کی بات کیوں دبائی جاتی ہے؟
کیا امام ابو حنیفہؒ نے ظلم کے خلاف قیام کو جائز کہا؟
اور آج اہلِ سنت کیوں خلافت کے قیام کے لیے عملی کوشش نہیں کرتے؟
---
🟩 قید علما کا المیہ: خاموشی کی گونگی امت
سعودی عرب میں اس وقت درجنوں سچے، مخلص، حق گو علما، مفکرین اور داعیانِ حق جیلوں میں ہیں۔
ان میں سے چند بڑے نام:
شیخ سلمان العودہ
شیخ سفر الحوالی
شیخ عوض القرنی
شیخ علی العمری
شیخ عبد العزیز الطریفی
شیخ ناصر الفھد
شیخ ادریس ابکر
اور درجنوں دیگر
ان پر کوئی مقدمہ نہیں، کوئی جرم نہیں، سوائے اس کے کہ انہوں نے:
> "ظالم ملوکیت کے خلاف زبان کھولی، خلافت کی حمایت کی، فلسطین و یمن کے مظلوموں کے لیے دعا کی، اور امریکہ و اسرائیل کی غلامی کے خلاف آواز بلند کی۔"
📌 آج ان کی بینائی جاتی رہی، جسم ٹوٹ چکے، ذہن مفلوج ہو رہے ہیں — مگر امت خاموش ہے!
---
🟨 امام حرم اور علماءِ دربار کا کردار
شیخ عبد الرحمن السدیس، جو حرم کے امام اور خطیب ہیں،
حکومت کی ہر پالیسی کی حمایت کرتے ہیں،
محمد بن سلمان کو "رحم دل رہنما" کہتے ہیں،
اور ظالم بادشاہوں کی مدح سرائی کو "نصرتِ دین" قرار دیتے ہیں۔
📌 یہ وہی وقت ہے جب نبی ﷺ کا فرمان چیخ چیخ کر کہتا ہے:
> "سب سے افضل جہاد، ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا ہے"
📚 (ابو داؤد)
---
🟥 اہلِ حدیث کا فکری تضاد
سعودی حکومت کے سب سے بڑے دفاعی حامی اگر کوئی طبقہ ہے تو وہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے اہلِ حدیث حضرات ہیں۔
❓ کیوں؟
سبب وضاحت
ذہنی غلامی سعودی کو خالص اسلام کا مرکز سمجھا گیا
مفادات مدینہ یونیورسٹی، حج کوٹہ، وظائف، ترجمہ شدہ کتب
عقیدت کا فریب حرمین کی محبت میں حکومت کی پالیسیوں کو بھی دین سمجھ لیا
فرقہ وارانہ تعصب "سعودی ہمارے ہیں، حنفی و صوفی بدعتی ہیں" — اس سوچ نے انصاف کا گلا گھونٹ دیا
📌 یہی اہلِ حدیث طبقہ محمد بن سلمان جیسے فاسق و فاجر کو "امیرالمومنین" کہتا ہے،
جبکہ امام حسینؓ کی طرح ظالم کے خلاف زبان نہیں کھولتا!
---
🟩 خلافتِ اسلامی اور امام ابو حنیفہؒ کا موقف
حضرت امام ابو حنیفہؒ نے:
ظالم حکومت کے خلاف قیام کو جائز بلکہ واجب قرار دیا (جب عدد و طاقت ہو)
زید بن علیؒ، نفس زکیہ، اور ابراہیم بن عبداللہؒ کی حمایت کی
خود قید و تشدد برداشت کیا لیکن ظالم کا ساتھ نہ دیا
📚 (سیر اعلام النبلاء، مناقب الامام الاعظم)
لہٰذا خلافت صرف ماضی کی بات نہیں، بلکہ شرعی فریضہ ہے۔
---
🟥 آج خلافت کیوں نہیں قائم ہو رہی؟
رکاوٹ وضاحت
عوامی فکری زوال دین صرف نماز روزے تک محدود سمجھا گیا
علماء کا خوف یا مفاد ظالم کی مخالفت کی بجائے خاموشی یا تائید
عالمی سیاسی رکاوٹ خلافت مغرب، اسرائیل، اور امریکہ کی نظر میں سب سے بڑا خطرہ
فرقہ واریت امت کی تقسیم، قوم پرستی، گروہی تعصب
تنظیمی کمزوری خلافت کے لیے درکار تیاری، قربانی، اور اتحاد ناپید
---
🟨 کیا خلافت پھر کبھی قائم ہوگی؟
جی ہاں — ان شاء اللہ
> "ثم تکون خلافة علیٰ منھاج النبوۃ"
(پھر خلافت نبوت کے طریقے پر واپس آئے گی)
یہ نبی ﷺ کی پیش گوئی ہے — جو ضرور پوری ہوگی۔
مگر اس کے لیے ہمیں:
غلامی کے نظریے کو چھوڑنا ہوگا
حق کے لیے قربانی دینی ہوگی
اور یزید کے ساتھ کھڑے علماء کو پہچاننا ہوگا
---
🕯️ اختتامی پیغام:
آج بھی وقت ہے…
اگر ہم:
حرم کی حفاظت چاہتے ہیں
نبی ﷺ کا دین غالب دیکھنا چاہتے ہیں
مظلوم علما کو رہا کرانا چاہتے ہیں
اور امت کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں…
تو پھر ہمیں حق بات کہنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔
ورنہ ہماری خاموشی، ہماری بزدلی، اور ہمارا تعصب
ہمیں کربلا کے یزیدی لشکر میں کھڑا کر دے گا، حسینؓ کے ساتھ نہیں۔
---
📢 نعرہ:
> "ہم محمد بن سلمان کو نہیں، محمد ﷺ کو مانتے ہیں
ہم یزیدیت کے درباریوں کو نہیں، حسینؓ کی شہادت کو مانتے ہیں
ہم ملوکیت کو نہیں، خلافتِ اسلامی کو چاہتے ہیں!"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Deoband
247554