Urdu
रौशनी देता था सूरज की जो घर भर को कभी
हो गया ख़त्म वो बटवारे में आंगन अपना
नाज़िश बाराबंकवी
12/03/2026
کشش سے دنیا کی اب تک نکل گیا ہوتا
جہاں کے چاند کو روکے رکھا ہے چاند مرا
نازش بارہ بنکوی
غزل
ہمیں دنیا سے رغبت ہے، کریں کیا
مگر مرنا حقیقت ہے، کریں کیا
بنا پوچھے غلط ہے پیار کرنا
نہیں اس کی اجازت ہے کریں کیا
اسے پا جانا ممکن بھی نہیں ہے
وہی جینے کی صورت ہے، کریں کیا
سبھی کچھ اپنا اس پر ہے نچھاور
اسے پھر بھی شکایت ہے، کریں کیا
محبت سے بچیں آخر کہاں تک
یہ انسانوں کی فطرت ہے، کریں کیا
وہ ہے اک چھوئی موئی پودے جیسی
ہمیں چھونے کی عادت ہے، کریں کیا
نکلنے کا نہ دل سے راستہ ہے
نہ رہنے کی اجازت ہے، کریں کیا
انھیں پردے سے "نازش" ہے محبت
ہمیں شوقِ زیارت ہے، کریں کیا
نازش بارہ بنکوی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Barabanki
225206