Technical Radar

Technical Radar

Share

14/07/2019

14/07/2019

تاجروں کی ہڑتال کی اصل کہانی،، غور سے پڑھ لین.

سیل ٹیکس ہے 17 فیصد. یعنی 100 پہ 17 روپے
اب ہو کیا رہا ہے کہ بڑے بڑے دکاندار اور تاجر حضرات عوام سے تو اپنی مصنوعات پہ پورا ٹیکس وصول کرتے ہیں مثال کے طور پہ 1000 کی چیز پہ 170 ٹیکس اور قیمت بنے گی 1170 رروپے.
لیکن دہائیوں سے یہ کیا کر رہے ہیں؟
عوام سے ٹیکس لیتے ہیں لیکن حکومت کو نہیں دیتے کیوں کہ 97 فیصد تاجر انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہی نہیں اور نہ سیل ٹیکس میں.
اور جو رجسٹریشن کروا چکے وہ بهی اپنی سیل اور آمدن چهپا لیتے ہیں.
تو اب حکومت نے حکم دیا ہے کہ ہر تاجر یا دکاندار اپنی رجسٹریشن کروائے (جو کہ مفت ہے)
اور 50 ہزار سے زیادہ مالیت کا سامان بیچنے پہ باقاعدہ گاہک سے شناختی کارڈ کی کاپی لیں اور دیگر تمام بلز بهی گاہک کو دیں اور باقاعدہ ٹیکس نمبر ان بلز پہ موجود ہو اور بڑی مالیت کی تمام ادائیگیاں بینک سے کی جائیں تاکہ حکومت کو پتا ہو کہ کون کتنا کما رہا ہے؟
اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو آسان اور قابل وصولی بنایا جا سکے.
لیکن یہ بات تاجروں کو گراں گزر رہی ہے کیونکہ ان کو حرام کی لت لگ چکی ہے انهوں نے نسلوں سے ٹیکس نہیں دیا تو اب مروڑ اٹھ رہے ہیں اور یہ احتجاج کر رہے ہیں.
یاد رہے 6 لاکھ سے کم سالانہ کمائی پہ کوئی ٹیکس نہیں ہے اور 6 سے 7 لاکھ کمائی پہ بهی بس 3 ہزار سالانہ ٹیکس ہے
اور سیلز ٹیکس پہ تاجروں کا کوئی حق نہیں یہ عوام کا پیسہ ہے اور عوام یہ پیسہ حکومت کو دینے کے لیے ادا کرتی ہے ان تاجروں کو.
اب عوام سے اپیل ہے کہ آئندہ صرف اسی بندے سے خریداری یا لین دین کریں جس کی کمپنی یا دکان باقاعدہ رجسٹرڈ ہو اور اس کے پاس ٹیکس نمبر ہو. اگر کسی پہ شک بهی ہو تو ٹیکس نمبر متعلقہ ٹیکس آفس سے چیک کروایا جا سکتا ہے.
اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کا ٹیکس تاجروں کی جیبوں میں جانے کی بجائے حکومت کو ہی جائے گا.
یاد رکهیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اگر برگر کی ریڑهی بهی لگانی ہو تو باقاعدہ رجسٹریشن ہوتی ہے جو کہ مفت ہی ہوتی ہے. اس کا مقصد صرف اور صرف ٹیکس کولیکشن کو بہتر بنانا ہوتا ہے اگر ریڑهی والے کی کمائی 6 لاکھ سے کم ہو گی تو اس پہ کوئی انکم ٹیکس نہیں لگے گا. یہی اصول ہر دکاندار پہ لگے گا. انکم ٹیکس صرف آپ کی بچت پہ لگے گا نا کہ ٹوٹل سیل پہ.
اور سیل ٹیکس تو جب ایک چیز بنتی ہے اور وہ اگر سیل ٹیکس میں شامل ہو تو وہ سیل ٹیکس اس پہ لگ جاتا ہے اور اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے.
ان تاجروں کا بالکل بهی ساتھ نہ دیں یہ لوگ دہائیوں سے آپ کا پیسہ مفت میں ہڑپ کر رہے ہیں اور اپنے خزانے بهرتے آئے ہیں یہ تفصیلات پہلے مجهے معلوم نہیں تهیں یہ راز تو اب کهلا ہے کہ اس ملک میں اکثر حرام خور تاجروں پہ مشتمل ہے جنہوں نے ہمیشہ عوام کو پهدو لگایا ہے
اب پہلی بار ان کو نکیل ڈالنے کی تیاری کی گئی ہے تو یہ چیخ رہے ہیں یاد رکھیں یہ سیل ٹیکس ہر حال میں لگے گا 70 سالوں سے لگا ہوا ہے یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے پرانا ہے
بس اس بار حکومت نے عوام کی بجائے ان تاجروں کو ڈنڈا دیا ہے کہ جو پیسہ یہ عوام سے لے کر اپنی تجوریوں میں ڈال لیتے ہیں وہ حکومت کو دیں.
اس میں نہ تو ان تاجروں کا کوئی نقصان ہے اور نا عوام کا.
ہاں بس ان کو جو سالانہ اربوں روپیہ مفت میں حرام کا ملتا تها وہ نہیں ملے گا. یہ سیل ٹیکس عوام نے تو بهرنا ہی ہے تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ یہ سیل ٹیکس آپ نے قومی خزانے کے لیے دیا ہے تو یہ اسی میں جائے؟
تو اب عوام سوچ لے کہ کیا اس نے ان لوگوں کا ساتھ دینا ہے جو آج تک عوام کا پیسہ خود کهاتے رہے ہیں اور آگے بهی کهانا چاہتے ہیں.

Want your school to be the top-listed School/college in Manchester?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Sir Matt Busby Way, Manchester M16 0RA, United Kingdom
Manchester