Latest Legal updates
19/04/2024
صبح بخیر سکاٹ لینڈ :
آج کی بات ،
ایک ایسا شخص جو پرندوں کے آرام کا خیال کرتے ہوئے اپنی چال کو آہستہ اور قدموں کی چاپ کو خاموش کرلیتا ہے، وہ اپنی حرکات و سکنات سے نہ ہی کسی قسم کی کوئی آواز نکالتا ہے اور نہ پرندوں کو تنگ یا پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اتنی احتیاط اور اتنے اہتمام کرنے والا شخص پرندوں کا شکاری ہوسکتا ہے.
لوگوں کے ظاہری اہتمام اور رکھ رکھاؤ سے دھوکہ نہ کھائیں، ہوسکتا ہے آپ کا بہت زیادہ خیال رکھنے والا درحقیقت آپ کا جانی دشمن ہو.
سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری
جس طرح سریندر سنگھ کیس نے برطانوی امیگریشن کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا تھا بالکل اسی طرح دو اور کیسسز نے بھی برطانوی امیگریشن کی تاریخ میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ ان میں سے ایک جسے Zambrano Case ہے اور دوسرا Chikwamba Case ہے۔ Zambrano کیس بالکل سریندر سنگھ روٹ کی طرح برطانوی امیگریشن کی ایک الگ کیٹیگری بنی جس کے تحت ان گنت لوگوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ مگر ان دونوں کیسسز کو ڈسکس کرنے سے پہلے میں ایک اور کیس کا تذکرہ کرتا ہوں جس میں ایک پاکستانی خاتون نے اوپر دیئے گئے دونوں کیسسز کو بطور ریفرنس استعمال کرکے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
کہتے ہیں یہ اہم نہیں ہے کہ آپکے پاس ہتھیار ہے۔ اہم یہ ہے کہ اسکو کب اور کس طرح استعمال کرنا ہے۔ بالکل ایسا ہی اس پاکستانی خاتون کے کیس میں ہوا۔ جب میں یہ کیس سٹڈی کر رہا تھا تو خاتون کی طرف سے دائر اپیل کے ابتدائی مندرجات پڑھ کر ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ کیس کی کامیابی کے چانسز بہت کم ہیں ۔ کیس کا رزلٹ بتانے کی بجائے اسکی تفصیل بتاتا ہوں۔
Younas (Section 176 B(6)(b)[2020]UKUT129
ایک پاکستانی خاتون مسز یونس جب دبئی سے انگلینڈ وزٹ ویزہ پر سنہ 2020 میں اپنے والد کے ہمراہ آئی تو وہ اس وقت اپنی پریگننسی کے 30 ویں ہفتے میں تھی۔وزٹ ویزہ مسز یونس کو دبئی سے برطانوی ایمبیسی نے 6 مہینے کے لئے جاری کیا تھا۔ وزٹ ویزہ کی درخواست دیتے وقت مسز یونس نے برطانوی ایمبیسی کو بتایا تھا کہ وہ برطانیہ میں موجود اپنے خاوند سے صرف کچھ عرصہ کے لئے ملنے جا رہی ہے اسکا وہاں مستقل قیام کا ارادہ نہیں ہے اور وہ واپس آجائیں گی اور یہ کہ اسکا خاوند برطانیہ میں کارپٹ فٹر ہے اور اسکی سالانہ آمدنی 19200£ ہے جسکی وجہ سے ہم برطانوی سسٹم پر بوجھ نہیں بنیں گے۔
مسز یونس اپنے انگلینڈ قیام کے دوران مقامی ہسپتال میں بچے کی ڈلیوری کے لئے ایڈمٹ ہو جاتی ہیں جہاں اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ اسکے بعد اس نے اپنے امیگریشن لائر کے ذریعے برطانوی ہوم آفس میں اپنے وزٹ ویزہ کو رہائشی ویزے میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست دائر کر دی اور وجہ یہ لکھی کی کیونکہ بچے کی پیدائش ہوئی ہے لہذا ماں اس حالت میں ابھی سفر کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اور کیونکہ بچی کا باپ بھی برطانیہ کا شہری و رہائشی ہے اس لئے فیملی کا جدا ہونا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگا۔ لہذا انہیں اس ملک مستقل رہنے کی اجازت دی جائے۔
آپکو بتاتا چلوں کہ وزٹ ویزہ کو کسی اور ویزہ کیٹیگری میں منتقل ہونے کی درخواست بہت ہی کم صورت میں اپروو ہوتی ہے بلکہ ناممکن ہی سمجھیں تاوقتیکہ بہت ہی مضبوط، جینوئین کیس ہو۔ کسی بھی ملک کی ویزہ اتھارٹی اس ٹرانسفر درخواست کو سخت ناپسندیدگی سے دیکھتی ہے کہ درخواست دہندہ جھوٹ اور دھوکہ سے وزٹ ویزہ پر یہ بیان حلفی دے کر آیا کی ویزہ کی معیاد ختم ہونے سے پہلے واپس آجائیگا۔ اس کیس میں ہوم آفس مسز یونس کی برطانیہ آمد کے بعد ویزہ کی تبدیلی کی درخواست کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا کہ جھوٹ بول کر مستقل رہنے کے لئے برطانیہ آئی ہے ۔ (ایک اور ایشو کا اس تحریر کے آخر میں ذکر کروں گا )
( اکثر پاکستانی اپنے بچے کی ان مغربی ممالک میں پیدائش کے لئے ایسا حربہ آزماتے ہیں اور بچے کی ڈلیوری کے قریب قریب ان ممالک کا وزٹ کرتے ہیں تاکہ بچے کی پیدائش کو جواز بنا کر اس ملک میں مستقل رہنے کی درخواست دے سکیں ۔ کینیڈا میں اگر بچہ پیدا ہو تو قطع نظر اسکے والدین کینیڈین نیشنل ہیں یا نہیں، بچہ پیدا ہوتے ہی کینیڈین نیشنل بن جاتا ہے اور اس بنیاد پر والدین بھی رہائش اختیار کر لیتے ہیں مگر دیگر یورپی ممالک میں ایسا قانون زرا مختلف اور سخت ہے )
برطانوی ہوم آفس نے مسز یونس کی درخواست انہی باتوں پرمسترد کردی کہ دبئی میں درخواست دیتے وقت کچھ اور بیان کیا گیا تھا۔ مسز یونس نے اپنے امیگریشن لائر کے ذریعہ ہوم آفس کے اس فیصلے کے خلاف امیگریشن ٹرائیبیونل میں اپیل دائر کر دی۔ اور اپنی اپیل میں مشہور زمانہ لینڈ مارک Chikwamba کیس اور Zambrano کیس کا بطور خاص حوالہ دیکر دادرسی مانگی گئی۔
ٹرائیبیونل میں جج صاحب نے مسز یونس کے دلائل سننے کے بعد اس سے کہا کہ وہ پاکستان واپس چلی جائے اور دوبارہ رہائشی ویزہ کی درخواست کے ذریعے برطانیہ آجائے۔ اس دوران اسکی بیٹی برطانیہ میں ا پنے والد کے پاس رہے گی جوکہ قانونی طور پر اسکا گارڈین بھی ہے اور بائیو لاجیکل باپ بھی۔
مسز یونس نے کہا کہ پاکستان میں اسکا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔ والدہ فوت ہوچکی ہے ۔پاکستان میں رہنے کے لئے انتظامات نہیں ہیں۔
جج صاحب نے کہا کہ دبئی میں درخواست دائر کرتے وقت اس نے لکھا ہے کہ پاکستان میں رشتہ دار موجود ہیں اور اسکے پاکستانی شناختی کارڈ پر پاکستان کی مستقل رہائش کا ایڈریس بھی موجود ہے۔ مسز یونس نے کہا کہ اسے پتہ نہیں تھا کہ اسکا رشتہ دار فوت ہو چکا ہے اب معلوم ہوا ہے اور شناختی کارڈ کا ایڈریس کسی رشتہ دار کے گھر کا ایڈریس ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈ بناتے وقت مستقل پتہ لکھنا ضروری ہوتا ہے اس لئے وہ ایڈریس لکھا تھا اب معلوم ہوا ہے کہ وہ رشتہ دار بھی وہاں نہیں ہے ۔ اگر میں پاکستان واپس جاتی ہوں تو ویزہ پراسس میں لمبا عرصہ لگتا ہے اور اس دوران ہماری فیملی کے درمیان لمبی جدائی آسکتی ہے اور اسکے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ مگر امیگریشن لوئر ٹرائیبیونل نے اپیل نامنظور کرتے ہوئے خارج کر دی
مسز یونس نے امیگریشن اپر ٹرائیبیونل میں لوئر ٹرائیبیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔ اس کیس کی سماعت جج صاحبان جناب The Honourable Mr.Justice Lane. P
اور President Upper tribunal Mr.Hansen
اور Upper tribunal judge Sheridan نے کی۔
تمام دلائل سننے کے بعد اپر ٹرائیبیونل کے جناب جج صاحبان نے اپنا فیصلہ سنایا کہ درخواست دہندہ اپنے موقف میں غیر دیانت دار ثابت ہوئی ہے۔ اس نے ویزہ کی درخواست میں بتایا تھا کہ اسکے خاوند کی تنخواہ سالانہ 19200£ ہے اور اب عدالت میں کہہ رہی ہے کہ وہ ویکلی 250 پونڈ کماتا ہے۔ جس پر مسز یونس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسکے لائر نے ہندسوں کی غلطی کرکے یہ انکم غلط لکھ دی تھی۔
جج صاحبان نے آخر میں کہا کہ کسی کو بھی امیگریشن قانون سے کھیلنے اور غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر یہ اپیل منظور کرلی گئی تو عوام کا عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ جائیگا اور مسز یونس سے کہا کہ وہ واپس جائے اور دوبارہ درخواست دائر کرکے برطانیہ آسکتی ہے۔ اپیل نامنظور کرتے ہوئے خارج کر دی۔
(برطانیہ میں سنہ 2012 تک اپنی بیوی یا خاوند پاکستان یا کسی بھی ملک سے برطانیہ لانے کے لئے ایک خاص انکم کی لمٹ نہیں تھی۔بس اتنا تھا کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ اسکی اتنی انکم ضرور ہے جس سے گھر کا نظام اچھا چل سکتا ہے اسکی بیوی/ خاوند کا ویزہ لگ جاتا تھا مگر جولائی 2012 میں ڈیوڈ کیمرون ' اس وقت کے برطانوی وزیراعظم نے امیگریشن قانون میں بہت سخت تبدیلیاں کی تھیں جس میں دوسرے ملک میں موجود بیوی/خاوند کو سپانسر کرنے کے لئے انکم کی شرط 18600£ سالانہ کردی تھی جو کہ بہت بڑی رقم تو نہیں تھی مگر ٹیکس کے معاملات اور دیگر سوشل ویلفیئر کی رقم/بینفٹ(گورنمنٹ کی امدادی رقم برائے مستحق ) لینے والوں کے لئے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی کہ اگر وہ 18600£ کی انکم شو کرتے تو سوشل ویلفیئر کی رقم/بینفٹ سے محروم ہوجاتے اور اگر انکم شو نہ کرتے تو بیوی سے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Manchester
Opening Hours
| Monday | 9am - 5pm |
| Tuesday | 9am - 5pm |
| Wednesday | 9am - 12am |
| Thursday | 9am - 5pm |
| Friday | 9am - 5pm |