Muhammad Usman

Muhammad Usman

Share

27/08/2025

ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب:

٭ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا۔ اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔
٭یہ وہ دور تھا جب ’’اکیڈمی‘‘کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔

٭بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔
٭لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’ میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔
٭اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے۔ صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔

٭کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے فینائل کی خوشبو ملے بستر نکالے جاتے ۔ خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔ مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔

٭جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا۔ سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ۔ تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔

٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔ شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔

٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے۔ سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا۔ سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔

٭نہ کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔

…کاش پھر وہ دن اور زمانہ پھر لوٹ آ جائے "😓😢😥

05/07/2025

کربلا کا آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کیا ہے ۔ آپ لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ اگر آپ اس وقت ہوتے تو امام عالی مقامؑ کے ساتھ ہوتے یا یزید کے ساتھ ہوتے.

آپ اپنے آپ کو شبِ عاشور امام عالی مقام کے خیمے میں تلاش کرو کیا اُس وقت آپ امامِ عالی مقامؑ کے ساتھ ہوتے
شکر کرو آپ اس وقت موجود نہیں تھے نہیں تو آپ کو آزمائش پڑ جاتی ۔

آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ ماننے والوں کے قافلے میں رہیں ۔ فقراء کرام یہ کہتے ہیں کہ جب امام عالی مقام کو شہید کیا جا رہا تھا تو شہید کرنے والے یہ کہہ رہے تھے کہ جلدی قتل کرو ۔ ہم نے نماز بھی پڑھنی ہے ۔ ان سے پوچھو کہ تم نماز کس کی پڑھو گے؟ کیا وہ نماز باقی رہ گئی ہے؟ بس آپ اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر بھروسہ رکھو اور جو اللہ کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارے ہیں ۔ ان کے ساتھ پیار کرو ۔ اپنے گردو پیش محبت پھیلاؤ ۔ اگر پیسے سے کسی کی خدمت کر سکتے ہو تو پیسے دے دو ۔ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو میٹھی زبان سے خدمت کر دو ۔ یہ آپ کا دین ہے ۔ جاگنے والا سونے والے سے بہتر ہوتا ہے اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے ۔اللہ تعالی آپ پر مہربانی فرمائے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

"حضرت واصف علی واصف رح"

02/07/2025

*وہ لوگ "پڑھے لکھے" نہیں تھے مگر ان میں انسانیت اور ہمدردی تھی۔ سادہ زندگی کو ترجیح دی اور اچھا وقت گزار کر منوں مٹی تلے دفن ہو چکے ہیں.*
ایک وقت ایسا تھا جب ہر گاؤں میں ہر راستے پر تقریباً ہر پیڑ کے نیچے ٹھنڈے پانی کا گھڑا موجود ہوتا تھا
گاوں کے لوگ بھی بہت اچھے ہوتے تھے دوسروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرتے اور راہگیروں کے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرتے۔
بہت سے درختوں میں مختلف برتنوں میں پانی ڈال کر پرندوں کے لیئے رکھ دیتے تھے۔
آہ کیا ہی سہانا دور تھا !
بظاہر تو یہ ایک مٹی کا گھڑا تھا لیکن اس کے اندر کا پانی کسی فریزر کی ٹھنڈک سے کم نہیں ہوتا تھا۔
اور گاؤں میں نہ ہی کوئ فلٹر لگا ہوتا تھا سب لوگ کنوؤں سے پانی نکالتا اور اسی کو استعمال کرتا اس وقت نہ ہی کوئ بیماری تھی۔
سب لوگ خوشحال زندگی گزارتے تھے اور ایک خوبصورت ماحول دیکھنے کو ملتا تھا۔
لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب کر کوئ مخلص ہوا کرتا تھا بغیر کسی مطلب کے دوسروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنا ان کے کام کاج میں ہاتھ بٹھانا اور ان کی مدد کرنا
اب وقت بدل گیا سہولیات آ گئیں ہم سب پڑھے لکھے بن گئے مگر انسان نہ پائے۔
اب کوئ کسی کے لیئے بغیر مطلب کے کام نہیں کرتا اور اگر کسی کو اپنی طرف آتے دیکھ لے تو اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔

وہ لوگ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر ان میں انسانیت اور ہمدردی تھی۔ سادہ زندگی کو ترجیح دی اور اچھا وقت گزار کر منوں مٹی تلے دفن ہو چکے ہیں.!!!

Want your business to be the top-listed Business in London?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Street 1
London
38000