Toor-e-Seena
18/09/2019
=====💠=====
اُن خوش قسمت خواتین کے لئے
جنھوں نے قرآن کو سنا تو کہا:
اٰمــنّا و صدّقــنا
اور اب جن کے لئے قرآن کا مطالبہ ہے کہ ان کے اعمال اس کی گواہی دیں کہ:
سمعــنا و اطعــنا
قســـط # 6
✒: ام حمزہ
(پہلا دور، 11 سے 20 سال کی عمر، کے لئے قرآن کے احکامات کا سلسلہ، والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بعد اگلا حکم )
نمــاز:
"جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اس (کتاب) پر ایمان لاتے ہیں اور وہی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔"
(سورۃ الانعام :92)
لڑکوں کی نسبت لڑکیاں اس عمر میں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ سکول جانے کے لئے تیار ہونا، ہوم-ورک کرنا، والدہ کی مدد کرنا عموماً ہر کام وقت پر کر لیتی ہیں۔ اس عمر میں اگر نماز کی اہمیت اور باقی تمام معاملاتِ زندگی میں اس کو ترجیح دینا سیکھ جائیں تو یہ بچیاں حقیقی معنوں میں گھر بھر کے لئے رحمت ثابت ہوسکتی ہیں۔ نماز کے ذریعے اپنے تمام معاملات کو منظم کیے جا سکتے ہیں مثلاً فجر کے بعد فلاں مضمون کی تیاری یا گھر کا فلاں کام نبٹانا ہے۔ اسی طرح باقی نمازوں کے ساتھ دن بھر کا شیڈول مرتب کیا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف کام وقت پر ہو جاتے ہیں بلکہ وقت میں برکت اور نمازوں کی پابندی اور وقت پر ادائیگی کی عادت پختہ ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر نمازوں کو پسِ پشت ڈال کر دنیاوی کاموں میں مشغول رہے اور بغیر کسی اشد مجبوری کے، نمازوں کو نہایت آخیر وقت تک موخر کیے رکھنے کی عادت ڈال لی تو پھر قرآن کے اس حکم سے ڈرنے کی ضرورت ہے کہ :
"جنھوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑ گئے وہ عنقریب اپنی گمراہی سے دو چار ہوں گے۔"
"کیا تم نے ایسے شخص کو دیکھا، جو اپنی نمازوں سے بے خبر رہتا ہے؟"
لہذا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا صحیح فہم سنِ بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی حاصل کرنے میں سنجیدہ ہوجانا چاہیے۔ اس لئے تو حکم دیا گیا کہ بچہ جب سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کی عادت ڈالنا شروع کر دیں اور دس برس کی عمر تک ان کو پانچ وقت کی نمازوں کا عادی بنانے کی مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
قرآن مجید میں ایمان والوں کی تو پہلی صفت ہی یہی بیان کی گئی کہ:
"ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں، جب اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے، وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔"
انفاق:
اپنی جیب خرچ میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن سب سے قیمتی سرمایہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاسکتا ہے وہ ہے آپ کے وقت کا انفاق۔ بچے تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی سکول اور کالج کی پڑھائیوں میں بہت مصروف ہیں جبکہ یہی وقت ہے کہ جس میں وہ آئندہ زندگی کی بہت سی ذمہ داریوں سے فارغ ہیں۔ غور کرنے والی بات صرف اتنی ہے کہ ہم اپنے رب کی محبت کو باقی سب محبتوں سے اوپر رکھیں۔
بچوں کو یہ بہت محبوب ہوتا ہے کہ وہ سکول اور کالج میں سب سے نمایاں پوزیشن حاصل کریں، ان کا لباس اور دیگر لوازمات سب سے اعلیٰ ہوں۔ کیریئر بنانے کی لگن میں نہ صرف بچہ، بلکہ اس کے والدین بھی دن رات کا سکون اور خاندان بھر کی خوش غمی کے لمحات کو قربان کر سکتے ہیں لیکن ہم ان تمام تر مصروفیات کے ساتھ اپنے اس رب کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داری کے لئے وقت نکالنا اور صلاحیتوں کو کھپانا بھول جاتے ہیں جو ہمیں یہ وقت اور صلاحیت دینے والا ہے۔ لہذا ضرورت اس نقطہ پر غور کرنے کی ہے کہ دنیا کے ساتھ ساتھ دین کو رکھنا مطلوب نہیں بلکہ دنیا کو دین کے تابع رکھنا مقصود و مطلوب ہے۔ یہ کام اسی عمر میں کرنے کا ہے، کیونکہ بڑے سے بڑا چیلنج اس عمر میں قبول کیا جاسکتا ہے تو کیوں نہ اس چیلنج کو بھی قبول کیا جائے جس میں بھرپور نیت کے ساتھ صرف پہلا قدم اٹھانے کی دیر ہوتی ہے، باقی دنیا کی پُر پیچ گھاٹیوں سے کامیابی کی راہوں کو نکالنا اس ذاتِ باری تعالیٰ کے ذمے ہے جس کے لئے ہم نے اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کا انفاق کیا ہے۔
"اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔"
جاری ہے،،،،،
===
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Hendon