Funpaaray

Funpaaray

Share

22/05/2026

آنکھ کے راستے دماغ تک پہنچ کر آپریشن کرنا سننے میں کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، لیکن برطانیہ میں ڈاکٹروں نے واقعی ایک ایسا آپریشن کر دیا ہے جس نے میڈیکل دنیا کو حیران کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے شہر لیڈز میں ڈاکٹروں نے ایک 61 سالہ شخص کے دماغ میں موجود خطرناک aneurysm کا آپریشن اس کی آنکھ کے ساکٹ کے راستے کیا، اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں کھوپڑی کو کاٹنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ عام طور پر ایسے مریضوں میں craniotomy کی جاتی ہے، یعنی کھوپڑی کا ایک حصہ کھول کر دماغ تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، جو ایک بڑا اور خطرناک آپریشن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس بار ڈاکٹروں نے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔

اینڈریو (Andrew Wood) نامی شخص کو اچانک معلوم ہوا کہ اس کے دماغ کی خون کی ایک شریان خطرناک حد تک پھول چکی ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ کر جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ روایتی طریقے کے بجائے ڈاکٹروں نے آنکھ کے کنارے ایک چھوٹا سا incision کیا اور eye socket کے outer wall کے ذریعے براہِ راست دماغ کے اس حصے تک پہنچ گئے جہاں aneurysm موجود تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرجنز نے آپریشن سے پہلے مریض کی کھوپڑی کا 3D printed model بھی تیار کیا تاکہ پورا راستہ پہلے سے سمجھا جا سکے۔ اس جدید طریقے میں دماغ کو چھیڑنے کی ضرورت کم پڑی، اسی لیے مریض صرف ایک رات اسپتال میں رہا اور چند ہفتوں بعد دوبارہ کام پر واپس بھی چلا گیا، جبکہ عام طور پر ایسے مریض ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ اسپتال میں رہتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق aneurysm clipping نامی اس عمل میں خون کی پھولی ہوئی شریان پر ایک خاص clip لگائی جاتی ہے تاکہ وہ پھٹنے سے محفوظ رہے۔ سب سے حیران کن بات یہی تھی کہ اس بار دماغ تک پہنچنے کے لیے کھوپڑی نہیں کھولی گئی بلکہ آنکھ کے راستے ایک “shortcut” استعمال کیا گیا۔

میڈیکل دنیا میں اسے ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اگر یہ طریقہ مزید کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں بہت سے brain surgeries پہلے سے کہیں کم خطرناک، کم تکلیف دہ اور جلد recovery والی ہو سکتی ہیں۔ کئی لوگ اسے جدید سرجری کی دنیا کا نیا باب قرار دے رہے ہیں، کیونکہ چند سال پہلے تک آنکھ کے راستے دماغ کا آپریشن صرف فلموں یا خیالی کہانیوں جیسی بات لگتی تھی۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

21/05/2026

عمان کے شمالی پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو چٹانوں پر بنے ایسے نایاب نقوش اور کندہ تصاویر ملی ہیں جنہوں نے ایک بار پھر اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو زندہ کر دیا ہے۔ یہ نقوش عام تصویریں نہیں بلکہ پتھروں پر تراشے گئے ایسے پیغامات ہیں جو صدیوں تک صحرا، پہاڑوں اور دشوار راستوں سے گزرنے والے انسانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ رہے ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق ان پتھروں پر جانوروں، انسانوں اور مختلف پراسرار علامتوں کی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ کچھ تصاویر شکار کے مناظر سے ملتی جلتی ہیں، جبکہ بعض نشانات ایسے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ راستوں، پانی کے مقامات، یا قبائلی حدود کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ چونکہ قدیم زمانے میں نہ نقشے تھے اور نہ جدید زبانوں کا باقاعدہ نظام، اس لیے لوگ اکثر پتھروں، غاروں اور چٹانوں کو ہی اپنی معلومات محفوظ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ عمان صدیوں تک تجارتی قافلوں، شکاری گروہوں اور خانہ بدوش قبائل کا اہم راستہ رہا ہے۔ اسی لیے یہ امکان بہت زیادہ ہے کہ یہ نقوش صرف فن یا سجاوٹ کے لیے نہیں بنائے گئے بلکہ ان کا مقصد آنے والے مسافروں کو معلومات دینا، خطرات سے آگاہ کرنا، یا مخصوص مقامات کی اہمیت ظاہر کرنا تھا۔ بعض چٹانوں پر موجود نشانات اس قدر پرانے ہیں کہ ان کی عمر ہزاروں سال بتائی جا رہی ہے، اور حیران کن بات یہ ہے کہ شدید گرمی، ریت اور موسم کی سختیوں کے باوجود یہ اب تک محفوظ ہیں۔

ماہرین اب ان نقوش کا تفصیلی مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انہیں بنانے والے لوگ کون تھے، وہ کس زبان یا علامتی نظام کو استعمال کرتے تھے، اور ان کے روزمرہ معمولات کیسے تھے۔ اس دریافت نے عمان کی قدیم تہذیب، صحرائی راستوں اور انسانی نقل و حرکت کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاں ہر پیغام موبائل، انٹرنیٹ یا اسکرین پر چند سیکنڈ کے لیے نظر آتا ہے، وہاں ہزاروں سال پہلے انسان اپنے پیغامات پتھروں پر اس طرح محفوظ کرتا تھا کہ وہ صدیوں بعد بھی باقی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ان چٹانی نقوش کو صرف آرٹ نہیں بلکہ ایک خاموش تاریخی زبان قرار دے رہے ہیں، جو آج بھی ماضی کی کہانیاں سنا رہی ہے۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

20/05/2026

سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی بایوٹیک کمپنی “Colossal Biosciences” نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے پہلی بار مکمل مصنوعی انڈوں کے ذریعے زندہ چوزے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ان چوزوں نے کسی قدرتی خ*ل والے انڈے کے اندر نہیں، بلکہ ایک خاص انجینئرڈ شیل اور مصنوعی ماحول میں نشوونما پائی۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام مستقبل میں نایاب پرندوں کی افزائش، تحقیق، اور حتیٰ کہ معدوم ہو جانے والی انواع کو واپس لانے کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدان کئی دہائیوں سے اس کوشش میں تھے کہ قدرتی انڈے کے پورے نظام کو لیبارٹری میں دوبارہ بنایا جا سکے، لیکن ہر بار ایک بڑی رکاوٹ سامنے آتی تھی۔ قدرتی انڈا صرف ایک خ*ل نہیں ہوتا بلکہ وہ نمی، آکسیجن، درجہ حرارت، غذائیت، اور جنین کی حفاظت کا ایک مکمل نظام ہوتا ہے۔ پہلے کے تجربات اس لیے ناکام ہو جاتے تھے کیونکہ جنین کو زندہ رکھنے کے لیے بہت زیادہ آکسیجن درکار ہوتی تھی، جو عملی طور پر مشکل اور خطرناک تھی۔

اب اس نئی ٹیکنالوجی میں سائنسدانوں نے ایک ایسا مصنوعی شیل تیار کیا ہے جو قدرتی انڈے کی طرح گیسوں کے تبادلے اور نمی کے نظام کو سنبھال سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اس بار چوزے کامیابی سے نکل آئے۔ اس پورے نظام میں 3D پرنٹنگ اور جدید بایو انجینئرنگ کا استعمال کیا گیا، اور شیل کو اس طرح بنایا گیا کہ سائنسدان جنین کی نشوونما کو باہر سے بھی دیکھ سکیں۔

بلاشبہ یہ سائنسی لحاظ سے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی اہم سوالات اور خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قدرت کے بنائے ہوئے نظام کو مکمل طور پر انسان کبھی بھی پوری طرح نقل نہیں کر سکتا۔ زندگی کا پیدا ہونا صرف ایک سائنسی عمل نہیں بلکہ اللہ کے حکم اور قدرت کے نظام کا حصہ ہے۔ انسان ماحول، ذرائع اور اسباب بنا سکتا ہے، لیکن اصل جان ڈالنے والا اور زندگی دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جو روح اس دنیا میں آنی ہوتی ہے، وہ اسی کے حکم سے آتی ہے۔

اسی لیے بہت سے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی کو صرف تحقیق اور محدود ضرورت تک رکھنا چاہیے۔ اگر مستقبل میں انسان قدرتی نظاموں کو مکمل طور پر بدلنے کی کوشش کرے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ جینیاتی تبدیلیاں، مصنوعی افزائش، اور لیبارٹری میں زندگی پیدا کرنے کے بڑھتے ہوئے تجربات نہ صرف اخلاقی بحث کو جنم دیتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

ایک اور بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی عام ہو گئی تو مستقبل میں تجارتی فائدے کے لیے جانوروں کی افزائش کو مکمل طور پر مصنوعی نظاموں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قدرتی حیاتیاتی نظام، پرندوں کی نسلوں کی فطری ساخت، اور ماحول کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان جب بھی قدرتی نظام میں حد سے زیادہ مداخلت کرتا ہے تو اس کے نتائج ہمیشہ مکمل طور پر اس کے قابو میں نہیں رہتے۔

اس کے باوجود، سائنسدان اس کامیابی کو ایک نئے دور کی شروعات قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نایاب پرندوں کی حفاظت، بیماریوں کی تحقیق، اور حیاتیاتی علوم میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ سائنس جتنی بھی ترقی کر لے، قدرت کے اصل نظام کی مکمل برابری آج بھی ممکن نہیں۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Erith?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Erith