MORAL STORIES
اللہ کو پورا مانو !
عجیب بات ہے !
بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی صرف اُن صفات کو قبول کرتے ہیں جو اُنہیں پسند ہوں، اور باقی صفات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، اللہ رحیم ہے، رحمان ہے، غفور ہے۔
یقیناً ہے !
لیکن کیا قرآن نے صرف یہی بتایا ہے؟
کیا وہ قہار نہیں؟
کیا وہ جبار نہیں؟
کیا وہ شدید العقاب نہیں؟
کیا وہ ظالموں سے انتقام لینے والا نہیں؟
اگر ایک قاتل اور ایک مقتول کا انجام ایک جیسا ہو،
اگر ایک ظالم اور ایک مظلوم کا حساب برابر ہو،
اگر ایک فرعون اور ایک موسیٰؑ کا نتیجہ ایک ہو،
تو پھر عدل کہاں ہے؟
رحمت اپنی جگہ ایک عظیم حقیقت ہے،
مگر عدل بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم صفت ہے۔
رحمت کا تقاضا ہے کہ توبہ کرنے والے کو معاف کیا جائے،
اور عدل کا تقاضا ہے کہ ظلم پر اصرار کرنے والے کو سزا دی جائے۔
اسی لیے جنت بھی ہے اور جہنم بھی۔
جنت اللہ کی رحمت کا مظہر ہے،
اور جہنم اللہ کے عدل کا۔
اللہ تعالیٰ کو صرف رحمت کے آئینے میں دیکھنا بھی ادھورا تصور ہے، اور صرف عذاب کے آئینے میں دیکھنا بھی۔
مومن کا ایمان تب مکمل ہوتا ہے جب وہ اللہ کو ویسا مانے جیسا اللہ نے خود اپنا تعارف کرایا ہے۔
وہ ارحم الراحمین بھی ہے،
اور احکم الحاکمین بھی۔
وہ معاف کرنے والا بھی ہے،
اور انصاف کرنے والا بھی۔
اور یہی کامل توازن، کامل ربوبیت اور کامل عدل ہے۔
قرآن مجید میں **سورۃ الأحزاب (سورہ نمبر 33)** کی آیات **32 اور 33** میں ازواجِ مطہرات (نبی کریم ﷺ کی زوجات) کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے اور اسی تسلسل میں انہیں **"اہلِ بیت"** کے معزز لقب سے پکارا گیا ہے۔
ان آیات کا حوالہ اور اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
# # # سورۃ الأحزاب (آیات 32 - 33)
**عربی متن:**
> يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿٣٢﴾
> وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴿٣٣﴾
**اردو ترجمہ:**
> (32) **اے نبی کی بیویو!** تم عام عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو (نامحرموں سے) نرم لہجے میں بات نہ کیا کرو کہ جس کے دل میں روگ ہے وہ کوئی بری امید باندھے، اور دستور کے مطابق بھلی بات بولا کرو۔
> (33) اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھہری رہو، اور پہلی زمانہ جاہلیت کی طرح اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھاتی پھرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ **اے نبی کے گھر والو (اہلِ بیت)!** اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی گندگی (اور ناپاکی) کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۔
**وضاحت:**
آیت نمبر 32 کا آغاز واضح طور پر **"يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ" (اے نبی کی بیویو!)** سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ازواجِ مطہرات کو مختلف احکامات (گھروں میں رہنے، نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے) کا حکم دیتا ہے اور اسی تسلسل میں آیت نمبر 33 کے آخر میں فرماتا ہے کہ اللہ یہ احکامات اس لیے دے رہا ہے کیونکہ وہ تم **"اہلِ بیت"** کو ہر قسم کی ناپاکی سے پاک رکھنا چاہتا ہے۔ سیاق و سباق (Context) سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان آیات میں ازواجِ مطہرات ہی اہلِ بیت کی اولین مصداق ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Vancouver, BC