Nosheen Rao

Nosheen Rao

Share

09/18/2025

غزل
تماشہ کوئی تو لگایا گیا ہے
ہمیں بزمِ دشمن بلایا گیا ہے

کبھی تو محبت میں کٹتا ہے سر اور
کبھی تاجِ الفت سجایا گیا ہے

یہاں خواب بھی گن کے بیچے گئے ہیں
یہاں عشق میں سود لایا گیا ہے

پڑھے لکھے جاہل یہاں پھر رہے ہیں
یوں علم اس جہاں سے اٹھایا گیا ہے

وفا کے طلب گار تنہا کھڑے ہیں
ہزاروں کا مجمع اٹھایا گیا ہے

ہوا سے چراغِ وفا بجھ رہے ہیں !
چراغوں کو مجرم بنایا گیا ہے

اچانک خدا سے وہ ڈرنے لگا ہے !
کسی بد دعا سے ڈرایا گیا ہے

زباں نے اگرچہ چھپایا بہت کچھ
نظر سے مگر سب سنایا گیا ہے

کہانی کے کردار سب یوں ملے ہیں !
نظر آئے وہ ، جو دکھایا گیا ہے

[ نوشین راؤ ]

07/30/2025

غزل
زندگی موڑ ایسا لاتی ہے !
سب کا سچ سامنے لے آتی ہے !

پہلے دولت تھی آنی جانی شے !
اور اب عزت آتی جاتی ہے

دشمنوں پر نظر تواتر سے !
دوستوں کی خبر بھی آتی ہے ؟

زخم دیتی ہے نرم لہجے میں
آگہی ایسے آزماتی ہے

بے وفائی کے ان اندھیروں میں
زندگی یوں ہی گزری جاتی ہے

آسماں زرد اور زمیں بنجر !
اور بارش بھی آتی جاتی ہے

خواب بیچارے مر سے جاتے ہیں
سامنے جب حقیقت آتی ہے

گردشںِ دوراں کی کڑی یہ دھوپ
ہر مسافر کو آزماتی ہے

ہم نے تم کو دعا سمجھ لیا تھا
تیری خواہش ہمیں مٹاتی ہے
(نوشین راؤ )

07/27/2025

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Toronto?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Toronto, ON