Canadian Pakistani; Pakistani Canadian
Copied
جب اکیلے ہسپتال آئے پینتالیس سالہ خواجہ سرا نے آپریشن سے پہلے ہسپتال کے سنگی فرش پہ بیٹھ کر روتے ہوئے کہا
“ماں تو ماں ہوتی ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس کی کمی تو کبھی پوری نہیں ہوتی”
جب چالیس سالہ خاتون کو پردیس جاتے ہوئے اپنے سامان میں سلیقے سے سجائی ماں کی چادر کو بطور یاد ساتھ لے جاتے دیکھا۔
جب اٹھہتر سالہ بزرگ نے بتایا کہ زندگی میں سب سے بڑا دکھ ماں باپ کی جدائی تھا اور ان کے جانے کا گھاؤ، واحد گھاؤ ہے جو آج تک نہیں بھر پایا۔
جب گیارہ سالہ بچے نے ماں کی قبر سے لپٹ کر روتے ہوئے کہا کہ
“مجھے کس کے سہارے چھوڑ کر گئی ہو”
جب ساٹھ سالہ خاتون کو برسوں پہلے رخصت ہوئی ماں کی یاد میں آئے آنسو چھپانے کو پیاز چھیلتے دیکھا۔
جب سولہ سال کے نوجوان کو ماں کی تازہ قبر سے مٹی اٹھا کر ساتھ لے جاتے دیکھا۔
جب جوان توانا مرد کو مسجد میں نعت خوانی کے دوران ماں کے متعلق کلام سن کر دھاڑیں مار کر روتے دیکھا
جب تین سالہ بچے کو صبح سے بھوکے ہونے کے باوجود کھانا چھوڑ کر ماں کی تلاش میں پورا گھر پھرتے دیکھا
جب اک ذہنی مریض کو ماں کے مرنے کے بعد بھوک سے بلبلاتے دیکھا
تو جانا کہ کچھ بھی ہو جائے، ماؤں کو مرنا نہیں چاہیے۔۔۔۔
جب اپنی ماں کے جانے پہ اپنا ہونا بے مقصد ہوتے دیکھا ، جب ماں کی یاد میں دل نچڑتا ، وجود ادھڑتا دیکھا تو تب جانا کہ
“ماں تو ماں ہوتی ہے” اس کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔ سارے زمانے کے خزانے مل جائیں، پھر بھی ماں کے لمس کا متبادل نہیں ہو پاتے۔ نرم ترین بستر ، ماں کی آغوش کی نرمی نہیں دے پاتے۔ بہترین ہوٹل، ماں کے ہاتھ کی چُوری کا ذائقہ لوٹانے میں ناکام رہتے ہیں۔
مجھے لگتا تھا کچھ عمر گزرے گی تو سنبھل جائیں گے، دل کو قرار آ جائے گا۔ وقت مرہم بن کر اس دکھ کا مداوا کر دے گا۔ لیکن ہائے یہ دکھ۔۔۔۔۔۔ اس زخم کو آرام ملتا ہی نہیں۔ ہم عمر کے کسی بھی حصے میں پہنچ جائیں، ماں کی کمی بھرتی ہی نہیں، دل دوبارہ سے جڑتا ہی نہیں۔
میرے کریم جو تری رضا مگر اس بار
برس گزر گئے شاخوں کو بےثمر رہتے
۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔
جناح صاحب کی زندگی کا ایسا پہلو جس پہ بہت کم بات کی جاتی ہے۔
اگر آپ نے سکول و روایتی مضامین سے قائد کو جانا ہے۔
تو یہ مضمون آپ کو کچھ نیا مگر مستند سکھائے گا۔
ایسا پہلو جس کاچھوٹی بہن محترمہ فاطمہ کی کتاب میں بھی کم زکر ملتا ہے۔
اگر آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔
تو ان کی بیوی کا انتقال 1929ء میں ہوا۔
اور آپ کااپنا انتقال سال 1948ء میں ہوا۔
اس دوران 19 سال کا عرصہ گزر گیا۔
کئی خواتین بالخصوص بزنس فیمیلز ان سے بندھن باندھنے کی خواہاں تھیں۔
مگر انہوں نے پھر دوبارہ شادی کیوں نہیں کی؟
اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
جن دنوں جناح صاحب ممبئی میں وکالت کیا کرتے تھے۔
وہیں ان کا پارسی فیملی سر دنشا سے ملنا ملانا ہوتا تھا۔
اک بار وہ ان کے گھر گے۔
تو وہاں اک 16 سالہ لڑکی سے ملنا ہوا۔
اس نوجوان کے اندر درج ذیل خوبیاں عام تھیں:
1): شعر و شاعری سے شغف تھا۔
2): کتابوں کا مطالعہ پسند تھا۔
3): ملکی سیاست پہ اپنی رائے رکھتی تھیں۔
"یقین سے کہنا مشکل ہے ۔۔۔ رتی کا حسن و زہانت انہیں پسند آگیا۔ادھر مسٹر جناح کی پروقار پرسنالٹی اور شہرت بہت انسپائرڈ تھیں۔"
(حوالہ: ہم سب نیوز ڈیسک: 8 مئی 2017ء)
وہ اپنے گھر میں جناح صاحب کو دیکھ کر اکثر انسپائر ہوتی تھیں۔
کیوں کہ قائد کی ڈریسنگ سے لے کر بات چیت میں اک کشش تھی۔
اور یہ شروعاتی کشش محبت میں کب ڈھلنے لگی۔
اس کا انہیں علم ہوا۔
ہاں انہیں 3 چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا:
1): جناح صاحب مسلم تھے اور وہ پارسی تھیں۔
2): خود اک امیر فیملی سے تھیں جب کہ جناح مڈل کلاس سے تھے۔
3): جناح صاحب کی عمر 42سال اور وہ 18 سال کی ہوگی تھیں۔
آپ اس پارسی لڑکی کی جگہ پہ خود کو رکھ کر سوچیں۔
جنہوں نے ایک ایسے انسان سے محبت کی۔
دینی مسئلہ کا حل رتی نے اسلام پڑھا۔
اور پھر دل سے مذہب اسلام قبول کیا۔
ان کا نام “مریم جناح” رکھا گیا۔
خاندانی مسئلہ کا حل انہوں نے دولت چھوڑ کرکیا۔
اور فیملی سے علیحدگی اختیار کی۔
بلکہ زرا مشکل زاویہ یہ بنتا ہے کہ فیملی نے بائیکاٹ کیا۔
اپنے سے 20 سال بڑے پارٹنر سے شادی کا عملی فیصلہ کیا۔
اپنے mental compatability سے درست ثابت کیا۔
بالخصوص دونوں کی سیاسی و فلسفیانہ باتیں خوب میچ کرتیں۔
یہ اک غیر روایتی شادی تھی۔
ممبئی کی امیر پارسی کلاس میں بڑا سکینڈل رہا۔
یہ محبت 1918ء سے 1928ء تک خوب پلتی رہی۔
مگر مریم جناح کو قائد سے اک گلہ رہتا تھا۔
وہی جو اکثر محبوبہ کو محبوب سے رہتا ہے۔
آپ کے پاس میرے لیے ٹائم ہی نہیں ہے۔
آپ مجھے اگنور کرتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا۔
حالاں کہ وہ خود بھی سمجھتی تھیں کہ جناح صاحب اک ملک بنانے کی راہ پہ گامزن ہیں۔ کارنر میٹنگ سے لے کر شہروں میں اجلاس اور رات گے مطالعہ کرتے رہنا تو الگ تھا۔
وہ اپنے اک خط میں جناح صاحب کو لکھتی ہیں:
"ڈارلنگ! آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا۔ اس سب کے لیے شکریہ۔
یقین جانو کہ میرے دل میں صرف گہری سافٹ نس اور گہرا درد ہے۔
ایسا درد جو اذیت کے بغیر ہے۔"
(دا ایکسپریس ٹربیون: 30 سمبر 2011ء)
کبھی کبھار انہیں پیارے قائد کی جدائی اداس بھی کرتی:
"اے محبوب! مجھے اس پھول کی طرح یاد رکھنا۔
جسے آپ نے ہی انتخاب کیا تھا۔
نہ کہ اس پھول کی طرح سمجھنا۔
جس کو پائوں تلے روند ڈالا ہو۔"
(ریفرنس: پاکستان سوشل ہب: 7 مئی 2017ء)
وہ 1928ء میں کچھ عرصہ کے لیے جناح صاحب سے علیحدہ ہوگئیں۔
اپنے اک خط میں وہ" خوبصورت اختتام "کا کہتی ہیں:
"یاد رکھیے گا کہ میں نے آپ سے ایسی محبت کی ہے۔
جو کم ہی کسی مرد کے حصے میں آئی ہوگی۔
میں صرف یہ ریکوسٹ کرتی ہوں۔
جو شروعات دل دینے سے ہوئی تھیں۔
ہماری کہانی کا اینڈ بھی احساسِ محبت سے بھرپور ہو۔"
(خط کی تاریخ و مقام: فرانس 5 اکتوبر: 1928ء)
قارین اکرام ! آپ آج کل خود دیکھیے ۔
ہم مرد و خواتین دوسرے کے لیے کتنا بدل سکتے ہیں؟
اک کی روٹین بزی ہوتو بات بریک اپ تک آجاتی ہے۔
کسی کو مذہب فالو کرنے سے ہچکچاہٹ ہو تو بلا ک کردیا جاتا ہے۔
ڈرسینگ سینس سے لے کر ہمارے شوق کیسے مختلف ہوں۔
ان سب پہ گرفت سی رہتی ہے۔
اس سارے کو مریم جناح صاحبہ کے حساب سے دیکھیے۔
محبوب ملا تو ایک شاندار لیڈر بھی تھا۔
نہ عمر کا نہ مذہب کا نہ ہی فیملی سٹیٹس کا فرق دیکھا۔
جیسا محبوب نے چاہا۔
انہوں نے خود کوبدل دیا۔
بیٹی کی پیدائش کے بعد دونوں کے رشتے میں ٹھہرائو آیا۔
مگر فاصلے کہیں نہ کہیں رہے۔
مریم جناح نے نہ کبھی طلاق یا خلع کا مطالبہ کیا۔
وہ خاموشی سے تاج محل (ہوٹل) میں الگ رہنے لگیں۔
ان کے خطوط بتاتے تھے کہ وہ اینڈ تک محبت کرتی رہیں۔
محترمہ فاطمہ کی کتاب سے بھی دوبارہ ملنے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
مریم جناح 20 فروری 1929ء کو اس دنیا سے چلی گیں۔
ان کے ہیرو جنازے میں شریک ہوئے۔
عینی شاہدین اور بہت سے سوانح نگاروں کے مطابق:
"بہت کم ایسا ہوا ہے۔
ہم نے جناح صاحب کوپبلک میں روتے دیکھا ہو۔
مریم کے انتقال پہ وہ مسلسل آنسوئوں میں ڈوبے رہے۔"
آپ کے خیال میں محترمہ مریم جناح کی محبت کیسی تھی؟
کیا اک محبوب کی ملکی ذمہ داریاں کو خیال بھی رکھنا چاہیے؟
(نوٹ! جناح صاحب کی شخصیت پہ احتیاط سے کامنٹ کیجیے گا۔
وہ ہمارے محترم لیڈر ہیں اور ملکی قیام میں میجر کردار رہا ہے۔)
شکریہ
بلال مختار
آسٹریلیا
Copied
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Website
Address
Toronto, ON