Jan Muhammad Hazara

Jan Muhammad Hazara

Share

06/12/2025

✨ Join us for an inspiring literary evening!

📖 “I Choose Humanity” — a powerful debut by Sakina Noor , the youngest Hazara author, written with a vision to promote kindness, empathy, and unity.

🌟 Starting her journey in 2020, Sakina completed her book in 2025, transforming personal reflection into a message for the world.

🎙️ In this special live session, she shares her creative journey, challenges, and the deeper meaning behind choosing humanity in a divided world.

👤 Host: JM Hazara
📅 06 Dec 2025 (Saturday)
⏰ 9 PM 🇵🇰
📍 Live on Facebook

Photos from Jan Muhammad Hazara's post 19/07/2025

برسی ابراھیم شہید ہزارہ نیشنلزم کے نۓ باب کا آغاز !
تحریر از جے ایم ہزارہ

آج 19 جولائی 2025 کو ہزارہ قومی تحریک کے ایک عظیم رہنما، شہید ابراھیم ہزارہ کی 39ویں برسی کو کوئٹہ میں مختلف مقامات پر انتہائی عقیدت، احترام اور سنجیدہ سیاسی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس سال کی برسی نے ایک الگ ہی رنگ، ایک نئی روح اور ایک امید افزا پیغام کے ساتھ جنم لیا، جسے ایک نئے سیاسی باب کا آغاز بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

برسی کی سب سے اہم جھلک ہزارہ طلبہ تنظیموں کی باہمی ہم آہنگی اور فکری یگانگت ہزارہ نیشنلزم تھی ۔ ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (HSF)، ہزارہ اسٹوڈنٹس نیٹ ورک (HSN)، اور ہزارہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (HSO) جو عمومی طور پر مختلف حلقوں میں سرگرم ہیں ۔ اس موقع پر ابراھیم شہید کے افکار و فلسفے پر یک زبان، یک دل اور متحد نظر آئیں۔

ایچ ایس ایف کے تعزیتی ریفرنس میں HSN کے موجودہ صدر اور سابقہ چیئرمین کی شرکت نے تنظیمی سطح پر ایک نیا رجحان متعارف کروایا، جب کہ HSO کے نمائندگان کی مزارِ شہید پر حاضری، پھولوں کی چادر اور اجتماعی دعا نے ہزارہ نیشنلزم کی روح میں موجود احترام، اتحاد اور نظریاتی استقلال کو اجاگر کیا۔

یہ مناظر صرف ایک برسی کی روایتی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ ایک مربوط سیاسی شعور کا اظہار تھا ، ایک ایسا شعور جو ہزارہ قوم کے نوجوانوں کے اندر پختگی اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو اب اختلافات سے اوپر اُٹھ کر اجتماعی نجات کے فلسفے پر متفق نظر آتی ہے۔

برسی کے موقع پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (HDP)، تنظیم نسل نو ہزارہ اور بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سیاسی رہنما نسیم جاوید ہزارہ جیسے سیاسی کارکنوں کی علامتی یکسانیت نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مختلف سیاسی پالیسیوں کے باوجود اپنے مشترکہ نکات پر متحد ہو کر مؤثر سیاسی حکمت عملی وضع کریں۔

اس سال کی برسی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ شہید ابراھیم ہزارہ کی قربانی کو صرف یاد نہیں کیا گیا بلکہ اس کی روشنی میں ایک اجتماعی شعور بھی جاگا، جو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہزارہ نیشنلزم اب ایک متحرک سیاسی قوت بن چکا ہے۔

جہاں ایک طرف یہ اتحاد حوصلہ افزا ہے، وہیں دوسری جانب اس بات کا عندیہ بھی دے رہا ہے کہ شہید کے قاتل اور ان کے پشت پناہ عناصر وقت کے ساتھ کمزور پڑ رہے ہیں، اور ان کی جگہ ایک نظریاتی، منظم اور متحد قومی تحریک لے رہی ہے۔

ابراھیم ہزارہ کی 39ویں برسی محض ایک یادگار دن نہیں تھی، بلکہ یہ ہزارہ قومی شعور کی بیداری اور نۓ سیاسی سفر کے آغاز کا دن تھا۔ آج کا نوجوان جان چکا ہے کہ اس کے مسائل کا حل صرف اتحاد، تنظیم اور شہداء کے نظریات کی پیروی میں ہے۔

یہ برسی ہمیں یہ بھی سکھا گئی کہ ہزارہ قوم جب نظریاتی وحدت کے ساتھ کھڑی ہو تو اس کے خواب شکست نہیں کھاتے وہ تعبیر کا رستہ پا لیتے ہیں۔

09/07/2025

ولایت فقہ اور اسرائیل مخالف نعروں کی حقیقت !
تحریر از جان محمد ہزارہ

ولایت فقہ رجیم کا ایک بنیادی بیانیہ اسرائیل دشمنی پر قائم ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل ایک ناسور ہے، قدس کی آزادی ہمارا ہدف ہے ۔ہم اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے یہ وہ نعرے ہیں جو ولایت فقہ رجیم کے آغاز سے ہی سنائے جا رہے ہیں۔ ہر سال رمضآن المبارک کے آخری جمعۃ الوداع کو "یوم القدس" منایا جاتا ہے، اور فلسطینیوں کی حمایت کو ولایت فقہ اپنے اسلامی تشخص کا جزوِ لازم قرار دیتا ہے۔ مگر اگر ان نعروں سے ہٹ کر زمینی حقائق اور 1979 سے 2025 تک کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ ایران کی ریاست، خاص طور پر ولایتِ فقیہ کا نظام، عملی طور پر کئی ایسے فیصلے کرتا رہا ہے جن سے اسرائیل کو براہ راست یا بالواسطہ فائدہ پہنچا۔

ایران نے حماس (Sunni-Islamist) اور فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) جیسے گروہوں کی پشت پناہی کی جنہیں کسی زمانے میں الفتح کو کاؤنٹر کرنے کیلئے خود قابض اسرائیلی سرکار نے بنائیں تھے ، جبکہ ولایت فقہ نے الفتح اور فلسطینی اتھارٹی جیسے گروہوں کو مغرب نواز کہہ کر رد کیا۔ اس تقسیم نے فلسطینی کاز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ایک طرف غزہ ایران کے اثر میں آگیا، دوسری طرف مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی کمزور پڑ گئی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینی تحریکِ مزاحمت اندر سے بکھر گئی جو سب سے زیادہ اسرائیل کے مفاد میں تھا۔ دوسرا فائدہ اسرائیل کو یہ ہوا کہ فلسطین کی آزادی کا کاز مذہبی رنگ لے گیا جس سے قابض اسرائیلی سرکار نے پروپیگنڈا کیا کہ یہودی مذہب کو خطرہ در پیش ہے اور اپنی یہودی برادری سمیت دنیا بھر سے ہمدردی لینے میں کامیاب ہوگی ۔

ولایت فقہ نے حزب اللہ کو عسکری طور پر مضبوط کیا، مگر عملی طور پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک خاموش مفاہمت موجود رہی ایک حد سے زیادہ جنگ نہ ہو۔
2006 کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ کوئی بڑی جنگ نہیں چھیڑی، حالانکہ اسرائیل بارہا شام میں ایرانی تنصیبات پر حملے کرتا رہا۔
اس خاموش حد بندی سے اسرائیل کو اپنی شمالی سرحد پر ایک متوقع مگر کنٹرولڈ دشمن ملا۔ جس کی موجودگی کا فائدہ اسرائیلی حکومت کو اندرونِ ملک سیاسی جواز کی صورت میں بھی ملتا رہا۔

ولایت فقہ نے شام، عراق، یمن اور لبنان میں اپنی پراکسیز کے ذریعے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کیا۔ اس مداخلت نے عرب عوام اور حکومتوں کو ایران سے بدظن کیا، اور نتیجتاً عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا شروع کیے (جیسے ابراہام معاہدے UAE، بحرین، سوڈان، مراکش وغیرہ)۔ یعنی ایران کے فرقہ وارانہ اور توسیع پسندانہ عزائم نے عرب اسرائیل دشمنی کو کمزور کیا جو قابض اسرائیل کی دیرینہ خواہش تھی۔

شام میں اسرائیل نے 2013 کے بعد سے سینکڑوں مرتبہ ایرانی اور حزب اللہ کے مراکز پر فضائی حملے کیے۔
ایران نے رسمی مذمت کی، لیکن عملی طور پر کوئی بڑا ردعمل نہ دیا نہ ہی اسرائیلی فضائیہ کو روکنے کے لیے دفاعی اقدامات کیے گئے۔ ایسا لگتا رہا جیسے اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ موجود ہے کہ جب تک اسرائیل کنٹرولڈ اسٹرائیکس تک محدود ہے، ایران کوئی بڑا ردعمل نہیں دے گا۔

حوثی ملیشیا کی مدد اور سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں GCC ممالک نے ایران کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
اسی فضا میں UAE اور دیگر ریاستوں نے اسرائیل کو بطور دفاعی شراکت دار تسلیم کرنا شروع کیا۔
یعنی ولایت فقہ نے جس جنگ کو اسلامی مزاحمت کا نام دیا، وہ بالآخر اسرائیل کے لیے نئے اتحادی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گئی۔

ہر بار جب ایران میں عوامی احتجاج یا داخلی بحران اٹھتا ہے ۔ ولایتِ فقیہ کا بیانیہ فوراً اسرائیل اور امریکہ دشمنی کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹاتی ہے، بلکہ ایک مصنوعی مزاحمت کا ماحول پیدا کر کے اقتدار کو طول دیتی ہے ۔ اس منافقانہ پالیسی کا اصل فائدہ اسرائیل کو یہ ہوتا ہے کہ حقیقی مزاحمت کبھی مؤثر شکل اختیار نہیں کر پاتی۔

ایران کی ولایتِ فقیہ اسرائیل کے خلاف زبانی جنگ ضرور لڑتی ہے، لیکن عملی طور پر اس کی پالیسیوں کا فائدہ کئی مواقع پر خود اسرائیل کو پہنچتا ہے۔ چاہے وہ فلسطینی اتحاد کو کمزور کرنا ہو، حزب اللہ کو محدود رکھنا ہو بلکہ حذب اللہ کا جاسوسی بھی ایرانیوں نے کرا کر ان کا خاتمہ کردیا ۔ یا عرب دنیا کو ایران کے خوف میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا کرنا۔ ولایت فقیہ کا ہر قدم اسرائیل کے لیے جواز، سہولت یا اتحادی پیدا کرنے کا باعث بنا۔

اسرائیل کے ساتھ جنگ کا نعرہ ایرانی عوام کے لیے ہے مگر حقیقت میں اس نعرہ جنگ کی گونج سے اسرائیل کو عالمی ہمدردی، سیاسی جواز، اور خطے میں نئے اتحادی ملتے ہیں۔ یوں ایک بار پھر ولایت فقیہ نے نظریاتی دشمنی کو صرف ایک نظریاتی شو تک محدود رکھا جبکہ زمینی سیاست میں وہی کیا جو اسرائیل کے مفاد میں تھا۔

اس تضاد کو سمجھنا نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ نعرے اور حقیقت میں فرق کرنا سیکھیں، اور حقیقی مزاحمت کو نعرہ باز سیاست سے علیحدہ پہچان سکیں۔
اور کم از کم غیر ایرانی شیعہ اقوام قربانی کا بکرا بننے سے بچ جائے ۔ اور اگر یزید زماں اسرائیل ہے تو ولایت فقہ نے اس یزید زماں کو سب سے زیادہ مضبوط کرنے میں کردار ادا کی ہیں ۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Melbourne?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Melbourne
Melbourne, VIC