Astronomy Math & Universe
Nearby schools & colleges
67, Springwood Road, Springwood
320 Adelaide Street
13/08/2023
فری فال اور سپیس اسٹیشن
ـــــــــــــ
فری فال سے مراد ایسی حالت یا حرکت ہوتی ہے جب جسم پر صرف اکلوتی قوت کشش ثقل لگ رہی ہو (باقی تمام قوتوں یا مزاحمتوں کو خارج یا نظر انداز کر دیا جاتا ہے ) ۔ آپ رسی کودتے ہیں کبھی آپ اوپر جاتے ہیں پھر ایک مقام پر رکتے ہیں کیونکہ اس مقام پر ولاسٹہ صفر ہوئی اور پھر واپس زمین پر اسراع کرتے آتے ہیں ۔
جب آپ کودے تب فری فال میں تھے ۔ فری فال میں جب کوئی انسان ہوتا ہے تب وہ بے وزن (weightless ) ہوجاتا ہے ۔ مگر پھر بھی رسی کودتے وقت بھی مسلسل آپ پر زمین کی کشش ثقل لگ رہی تھی ۔ بہت سے لوگ بے وزنی والی بات سے یہ چیز نکالتے ہیں چوں کہ سپیس اسٹیشن میں خلاءباز بے وزن ہوتے ہیں ۔ لہذا وہاں پر گریوٹی ہی نہیں ہے ۔ اس مغالطے کی اصل وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ زمین کی کشش ثقل کے لیے اختصار کے لیے وزن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔
جب آپ کسی سے پوچھیں کہ وزن کیا ہے وہ کہے گا زمین کی کشش ثقل یا کھنچاؤ ہے جس سے زمین آپ کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے ۔ اسی چیز سے یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ چوں کہ خلاءباز بے وزن ہیں لہذا وہاں سپیس اسٹیشن پر تو کشش ثقل ہے ہی نہیں ۔ پر اصل میں سپیس اسٹیشن پر کشش ثقل لگ رہی ہے ۔ جس وجہ سے خلاء باز بے وزن ہوتے ہیں وہ وجہ یہ نہیں کہ سپیس اسٹیشن پر کشش ثقل نہیں ہے ۔ اصل میں خلاء باز سپیس اسٹیشن میں اڑنے یا فری فال کی کیفیت میں ہوتے ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں کہوں ،جب کوئی فری فال میں ہوتا ہے تب اس کے پاؤں کسی بھی سکیل پر نہیں ہوتے جو اسکا وزن ماپ سکیں ۔ یا پھر انکے پاؤں کسی سطح سے نہیں ملے ہوتے جس سے نارمل فورس بھی لگتی ہے ۔ جیسے آپ کو تصویر میں دکھایا گیا ،یہ ایک لفٹ کی ہے جس میں پہلے بندہ سکیل پر کھڑا تھا پھر اچانک لفٹ کی تار ٹوٹی اور بندہ فری فال حالت میں چلا گیا اور اڑنے کی کیفیت میں ہوگا ۔ اب آپ دیکھیں تو وہ بندہ اڑ رہا ہے ۔اسی وجہ سے سکیل پر اسکا وزن صفر آیا ۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفٹ اور وہ بندہ دونوں فری فال میں تھے ۔جس کی وجہ سے بندےنے بے وزنی محسوس کی ہے۔ اگر ہم چاہیں تو زمین کی کشش ثقل ،زمین کی سطح پر اور انٹر نیشنل سپیس اسٹیشن دونوں پر کشش ثقل کی نسبت نکال سکتے ہیں ۔ اس نسبت سے ہم اندازہ کر سکیں گے کشش ثقل سپیس اسٹیشن پر کتنی کم ہوتی ہے ۔
کچھ یوں کر کے۔
F/F = (GMm/r²)/ (GMm/r²)
= {(r earth to station)²/(r earth to earth surface)²}
= [(6.37×10^6m)²/(6.77×10^6m)²]
= 0.89
اس سے ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ صرف گیارہ فیصد ہی کم قوت انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن پر لگتی ہے ۔ اگر کوئی پھر بھی نہ مانے تب ایک سوال کیا جاسکتا ہے ۔آخر چاند زمین کے گرد کیوں حرکت کر رہا ہے ؟ اسکا جواب ہے کشش ثقل ۔ اور انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن بھی اسی وجہ سے ہی حرکت کر رہا ہے۔ اور سپیس اسٹیشن اور خلاء باز مستقل فری فال کی حالت میں ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ بے وزن (weightless) ہوتے ہیں ۔
ـــــــــــــ
ضیار قیرمان
کاپی کر سکتے ہیں ۔
12/08/2023
فری فال اور آئنسٹائن
آئنسٹائن نے گیلیلیو کے فری فال کے اصول یعنی ہر جسم ایک اسراع سے گرتا ہے اور اسکے بعد نیوٹونئین گریوٹیشن میں انرشل ماس اور گریوٹیشنل ماس کو برابر ماننے سے اپنے نظریےکی تعمیر کے لیے قدم بڑھائے ۔انرشل ماس اور گریوٹیشن ماس قریب قریب ہر بار ہی برابر ہوتے ہیں ، اس کو پرکھنے کے لیے اوٹوش نے تجربات کیے ۔جس سے ہمیں بہت بڑی ایکورسی کا پتا چلا۔یہاں ان پر تفصیل بتانا ضروری نہیں۔ ہم واپس آئنسٹائن پر آتے ہیں ۔انہوں نے اپنی شروعات ایک ایسے بندے کے خیال سے کی جو کہ عمارت سے گر رہا ہے ۔
مثال فرض کیجیے کہ ایک بندہ کسی عمارت سے گر رہا ہے۔ آئنسٹائن کی سوچ یہ تھی کہ وہ اخذ کرسکیں کہ وہ بندہ کیا محسوس کرے گا؟یا وہ بندہ دنیا کو کیسا دیکھے گا؟ تو بندہ کیا محسوس کرے گا؟یہ جاننے سے پہلے ہمیں جمود کا اصول پتا ہونا چاہیے،یہ اسکا لب لباب یہ ہے کہ کوئی جسم اپنے انرشا کی وجہ سے اپنی حالت کو برقرار رکھتا ہے ،دوسرے لفظوں میں اگر کوئی جسم ساکن ہے تو انرشا اسے ایسا ہی رکھنے کی کوشش کرے گا،اور اگر کوئی جسم ایک مستقل رفتار یا یونیفارم ولاسٹی سے حرکت کر رہا ہے تب انرشا اسے ایسا ہی رکھے گا ۔ ٹھیک ہے اب ہم چھت سے چھلانگ لگاتے ہیں ،تو فرض کیجیے کہ آپ اور آپ کے ساتھ ایک گیند ایک چھت سے گر رہی ہے۔
آپ کیا دیکھتے ہیں؟پہلی چیز جو آپ دیکھیں گے وہ یہ ہوگی کہ آپ کی جو حالت ہے یہ بدل نہیں رہی ۔ ایسا آپ گیند کو دیکھ کر بہت ہی آسانی سے اخذ کرسکتے ہیں ۔ جب آپ اور گیند ایک ہی ساتھ گرے تھے ۔ تب بھی وہ گیند آپ سے آگے بڑھا ہی نہیں ، وہ آپ کے ساتھ ہی رہا ،دوسرے لفظوں میں وہ اسراع نہیں کر رہا ۔جس وقت سے وہ آپ کے ساتھ نیچے کو گر رہا تھا ، تب سے اس کی حالت ویسی کی ویسی ہی رہی۔اب یہ چیز یہ بتاتی ہے کہ یہاں پر جمود کا اصول کھرا اترا ہے۔ کیوں کہ جسم نے اپنی حالت برقرار رکھی ہے۔اور کوئی اسراع نہیں کیا۔اب سوال یہ ہے اس سے اخذ کیا ہوتا ہے ؟یا آئنسٹائن نے کیا اخذ کیا؟اگر آپ کسی کی زہانت کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو جو چیز آئنسٹائن نے آخذ کی وہ نہایت ہی حیران کن تھی۔آئنسٹائن نے کہا کہ کیوں کہ جو بندہ فری فال میں ہوتا ہے ،کیوں کہ اس کی نسبت سے ،اس کی حالت بدلی نہیں ،اس نے اسراع نہیں کیا لہذا ،اسکا فریم آف ریفرینس انرشل ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں ،اس نے خود پر کوئی بھی قوت لگتی محسوس نہیں کی ۔ ظاہر سی بات ہے اگر فری فال بندے کی نسبت سے اس پر کوئی قوت لگتی تو اسے اسراع کرنی چاہیےتھی۔مگر ایسا اس نے نہیں دیکھا۔
یہی چیز ہم اضافیت کے اصول سے جوڑ کر بھی سمجھ سکتے ہیں۔ تو کیا ہے اضافیت کا اصول،بنیادی طور پر یہ اصول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ مستقل رفتار سے کسی بس میں ہیں ،کسی اور چیز میں ،تب آپ کوئی بھی تجربہ کر کے یہ ثابت ہی نہیں کرسکتے کہ آپ حرکت کر رہے ہیں یا پھر ساکن ہیں۔ یہاں دو چیزیں دیکھنے والی ہیں،ایک یہ کہ جسم کی حالت بدلی نہیں ،ظاہر اگر جسم کی حالت بدلتی تو بندہ جان جاتا کہ وہ ساکن نہیں ہےبلکہ اسراع کر رہا ہے۔اسی طرح سے فری فال والا بندہ کیا دیکھتا ہے؟اسکے پاس دو ہی چیزیں ہیں ،یا تو وہ خود کو ساکن دیکھے گا۔ اور یہ چیز وہ اسکے ساتھ گرنے والی گیند سے بھی اخذ کر رہا ہے۔اسے سمجھنے کے لیے ہم بس کی مثال لے لیتے ہیں۔ ایک بس جو مستقل رفتار سے سفر کر رہی ہے اور آپکی سیٹ کے ساتھ ہی آپکا کوئی دوست بیٹھا ہے ۔
آپکی نسبت سے کیا وہ ساکن ہے یا حرکت کر رہا ہے ؟ ساکن ہے نا۔۔بھئی ساکن ہی تو ہے اگر حرکت کر رہاہوتا تو وہ آپ سے آگے بڑھتا ۔مگر جو بس کے باہر سے بندہ دیکھے گا اسکی نسبت سے آپ اور آپکا دوست دونوں ہی حرکت میں ہیں۔ اس اصول سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جو حرکت ہے یہ مطلق ہے ہی نہیں ۔ ہم صرف نسبتی حرکت کو یا نسبتی ساکن (ریسٹ)ہی فرض کرسکتے ہیں ۔ تو فری فال بندے والے کی نسبت سے وہ بندہ یاتو یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ساکن ہے ۔اور یا تو یہ کہہ سکتا ہے اسکی یونیفارم ولاسٹی ہے۔ہم یہاں ایک ہی چیز کو لیں گے اور وہ ہے کہ وہ بندہ ساکن ہے۔اور اسکی نسبت سے گیند بھی ساکن ہے کیوں کہ گیند کی حالت بدلی نہیں ،جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس پر کوئی قوت ہی نہیں لگی۔دوسرے لفظوں میں وہ کہے گا مجھ پر گریوٹی لگ ہی نہیں رہی ۔ وہ صفر گریوٹی محسوس کرے گا۔اب آئنسٹائن یہیں پر رکے نہیں۔یہی وہ واحد چیز ہے جو انہیں سبھی سائنسدانوں سے منفرد بناتی ہے۔اور شاید اسی وجہ سے جینئس کا لفظ آتے ہی دماغ میں اکثر لوگ آئنسٹائن کی تصویر دیکھتے ہیں۔
خیر تو جو بندہ زمین پر کھڑا ہو کردیکھ رہا ہے وہ کیا دیکھے گا؟ زمین پر جو بندہ کھڑا ہے ،وہ کہے گا کہ یہ جو بندہ فری فال میں ہے یہ نہ تو ساکن ہے اور نہ ہی اسکی ولاسٹی یونیفارم ہے۔ بلکہ یہ تو اسراع کر رہا ہے اور اسکی حالت بدل رہی ہے ۔ لہذا اس پر کوئی قوت عمل کر رہی ہے جس کا نام گریوٹی ہے ۔اب آئنسٹائن کے بقول جو بندہ زمین پر کھڑا ہوکر فریفال ہوتے ہوئے چیزؤں کا نظارہ کرتا ہے ،زمینی بندے کا ریفرینس فریم نان انرشل ہے ۔ کیوں کہ اسکے لحاظ سے اسراع ہو رہا ہے ۔ یعنی زمین پر کھڑے بندے کی نسبت سے فری فال کے دوران اسراع ہورہا ہے۔ تو یہاں تین چیزیں یاد رکھنے والی ہیں۔
۱۔گریوٹی بالکل ،پراسرار،انرشیل قوت کے جیسی ہے۔جو کہ زمین پر کھڑے بندے کی نسبت سے فری فالنگ کے دوران اسراع کروا رہی ہے۔پر یہ ذہن میں رہے کہ یہ زمین والے بندے کی
نسبت سے ہے جس کا فریم آف ریفرینس نان انرشل ہے کیوں کہ اسکے لحاظ سے یہاں پر جمود کا اصول پورا نہیں اترا۔مگر جو بندہ فری فال میں ہے اسکی نسبت سے اس پر کوئی فورس ہی نہیں لگ
رہی۔وہ صفر گریوٹی محسوس کرے گا اور اسی لیے وہ بے وزنی کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔
۲۔گریوٹی انرشاءکا اثر ہے۔
۳۔گریوٹی ،ہمارے فریم آف ریفرینس کے انتخاب کی وجہ سے ہے۔یعنی اگر ہم فری فال والے فریم سے دیکھیں ہم پر کوئی گریوٹی نہیں لگ رہی ،پر اگر ہم زمین والے فریم آف ریفرینس سے دیکھ تو جو بندہ فری فال میں ہے اس پر کشش ثقل لگ رہی ہے۔اب ہم چاہیں دونوں فریم آف ریفرینس کو لے سکتے ہیں۔یعنی ہم چاہیں تو فری فالنگ والا فریم لے سکتے ہیں یا پھر ہم زمین پر کھڑے ہونے والا فریم لے سکتے ہیں۔پر یہ یاد رہے کہ یہ دونوں فریم آف ریفرینس ایک جیسے نہیں ہیں۔ان دونوں میں فرق ،ثقلی اسراع ہے۔اگر آپ اس پوری پوسٹ میں ابہام کا شکار نہیں ہوئے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اس بات پر اتفاق کریں گے کہ آئنسٹائن سچ میں بلا کے ذہین تھے۔ جو چیز دوسرے کو کوئی خاص نہیں لگتی آئنسٹائن کی نظر سے وہ ایک الگ ہی روپ دھار لیتی ہے۔آگے ہم اس سے بھی حیرت انگیز چیزؤں پر بات کریں گے ۔فی الحال یہی بہت ہے۔یعنی ہم بات کریں گے چار قسم کی لیبارٹریوں کی ۔
۱۔پہلی لیبارٹری سطح زمین کے ساتھ جڑی ہے۔
۲۔دوسری لیبارٹری دس میٹر فی سیکنڈ سکوئیر سے اسراع کر رہی ہے۔
۳۔تیسری لیبارٹری سپیس میں ہے۔ جو کہ صفر گریوٹیشنل فیلڈ میں ہے ۔
۴۔زمین کے قریب فری فال کی حالت میں ہے ۔
اور شاید بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔!
ــــــــــــــــــــــ
ضیار قیرمان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Brisbane , Queensland
Brisbane, QLD
4000