Brain
سکھیکی منڈی دعا ہسپتال سینٹر میں دورانِ ڈیلیوری نومولود بچے کی ہلاکت کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ متاثرہ خاندان کے لواحقین نے مبینہ غفلت کے خلاف ہسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا، جبکہ دوسری جانب ہسپتال عملے اور لواحقین کے درمیان ہاتھا پائی اور تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں
یہ آج مورخہ ۱۷ مارچ کا واقعہ ہے۔ یہ فیصل آباد جھنگ روڈ ماڈل بازار سے کافی آگے سڑک پار کالونی ہے۔ ایک عورت رکشے میں سوار آتی ہے اور رکشے والے کو انتظار کرنے کا کہہ کر کہیں چلی جاتی ہے۔ جب تھوڑی دیر بعد واپس آتی ہے تو اس ساتھ دو نا سمجھ تین چار سال کے بچے ہوتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور کو کھٹکتا ہے کہ یہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ویڈیو میں کھڑا رکشہ دیکھا جا سکتا ہے۔ پوچھنے پر وہ رکشے والے کو تسلی بخش جواب نہیں دے پاتی، رکشے والے کی قوت فیصلہ کو داد دینا بنتی ہے۔ رکشے والا عورت کو دبوچ کر واویلا کر دیتا ہے۔ محلے والے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ رکشے سے بچے برآمد کر لئے جاتے ہیں اور عورت پولیس کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ ویڈیو میں بچوں کی مائیں اس عورت کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ پیغام بس یہی دینا تھا کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں اور اپنے گرد و نواح میں کچھ بھی غیر متوقع نظر آنے پر اپنی قوت فیصلہ بیدار کرتے ہوئے صحیح فیصلہ کریں۔ غریبوں کی بستیوں میں ایسے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں۔
12/03/2026
ماں کی نافرمانی کرنے والے اس نوجوان کو دنیا نسلی اور اصلی کہہ کر تعریف کیوں کررہی
پنجاب کا یہ نوجوان سات سال پردیس میں کمائی کرکے واپس آیا تو دیکھا انکی آبائی حویلی کے درمیان اب ایک دیوار بن گئی ہے یعنی اسکے پیارے چچا کا گھر علیحدہ ہو چکا تھا ۔ نوجوان نے خاموشی سے اس دیوار کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ پہلے اپنے چچا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا یہ دیوار میری مرضی یا خواہش سے نہیں بنی ، آپ کی والدہ نے ضد کرکے بنوائی ہے ۔ پھر اس نوجوان نے اپنی والدہ سے بات کی تو باتوں سے اسے یقین ہو گیا کہ والدہ کو اب اسکی غیر ملکی کمائی اور خوشحالی کا بہت ناز ہے اور وہ چچا کو غریب اور کمتر سمجھنے لگی ہے۔ ۔ معاملے کی تسلی کرکے ایک روز دوپہر کے وقت اس نوجوان نے ٹریکٹر سٹارٹ کیا اور حویلی یعنی دو بھائیوں کو علیحدہ کرنے والی دیوار گرا دی ، اس نوجوان نے پھر ٹریکٹر اس دیوار والی جگہ پر کھڑا کیا اور کہا ، چچا: یہ ٹریکٹر آپ کا اور ہمارا سانجھا ہے جب کام کے لیے لے جانا ہو لے جائیں اور واپس اسی جگہ لا کر کھڑا کریں ، جب مجھےیا میرے والد کو ضرورت ہو گی ہم بھی ضرورت پوری کرکے یہیں کھڑا کریں گے ، جب آپ کا بیٹا بڑا ہو جائے گا اور میں اسے اپنے ساتھ باہر لے جاؤنگا اور وہ کمانا شروع کردے گا تو پھر چاہے آپ دیوار کھڑی کر لیجیے گا ، ابھی میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرا وہ چچا آنکھوں سے اوجھل ہو جو مجھے کندھوں پر بٹھا کر کھیتوں میں لے جاتا تھا اور ٹریکٹر پر ساتھ بٹھا کر ہل چلاتا تھا، میرے چچا کے بیٹے اور بیٹیوں کو میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔اگر کسی کو میرا یہ فیصلہ قبول نہیں تو پھر اب کا گیا میں دوبارہ اس دیوار والی حویلی میں کبھی واپس نہیں آؤنگا ، کہ جہاں رشتوں کی قدر نہ ہو وہ گھر گھر نہیں مکان ہوتا ہے اور مکان تو ادھر پردیس میں بہت ہیں۔ ایسی سوچ پر آپ کیا کہوگے؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Dubai
Dubai
46500