Novels Collection

Novels Collection

Share

15/06/2026

Here is last episode of🎊🎊
Fitoor



دونوں حویلیوں میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں ۔
نمل کو قیس نے سمجھا بجھا کر چپ کروا دیا تھا اب اگر رمل ساری زندگی نہیں ملے گی تو کیا ملحان کنوارہ رہے گا
لیکن ملحان لالہ ایسے کیسے کر سکتے ہیں وہ تو محبت کرتے ہیں نہ آپو سے
اس کا مطلب اگر میں غائب ہو جاؤں تو آپ بھی دوسری شادی کر لیں گے
قیس نے شدت سے نمل کے بال اپنے ہاتھ میں جکڑے تھے
خان جان لے لے گا اگر ایسا سوچا بھی تو کرنا تو دور کی بات..
خان جی میں مزاق..
مزاق میں بھی مجھ سے دور جانے کی بات مت کرنا نمل۔
قیس نے شدت سے کہا ۔
ہاں تو جیسے اب تو مجھے گود میں بٹھایا ہوا ہے نہ اب تو جیسے بہت قریب ہیں ۔ نمل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
کر دوں گا یہ شکوہ بھی دور
جس دن سر سے لے کر پاؤں تک پور پور میرے لیے سجی سنوری دلہن بنی ادھر بیٹھی ہو گی
قیس نے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
قیس کی بات سنتے نمل کا دل زوروں سے دھڑکا تھا
تمہاری الماری میں ایک ڈریس پڑا ہے
جس دن خود کو میری شدتیں سہنے کے قابل سمجھو گے اس دن تیار ہو جانا
اسے ساکت چھوڑ کر قیس باہر کی جانب چلا گیا تھا
ودان کے رونے کی آواز سن کر نمل اس کی جانب بڑھی۔اور اس سے قیس کی شکایت کرنے لگی۔
آپ کے بابا بوڑھے ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک ان کا ٹھرک پن نہیں گیا
..❤️❤️❤️..
ررمل ہمیـــــــــں آپ سے ضروری بات کرنی ہے
جی مورے
رمل ہم سب بڑوں نے تمھاری شادی کا فیصلہ کیا ہے
مورے میں شادی شدہ ہوں
بس چپ
وہ نکاح جس میں کوئ گھر کا کوئ سائبان شامل نہ ہو ہم. بڑوں کی. نظر میں وہ نکاح نہیں ہوتا
ہم نے تمھارے لیے ایک رشتہ دیکھا ہے اگر تم سچ میں مجھے اپنی ماں مانتی ہو تو اس شادی سے انکار نہیں کرو گی لیکن مورے
لیکن وہ رمل کی کوئ بھی بات سنے بغیر باہر چلی گئیں۔
یا اللہ یہ کس عذاب میں پھنس گئ ہوں میں۔ میں اپنے بڑوں کی شفقت کے ساۓ میں رخصت ہوئی تھی لیکن...
یا اللّٰہ
وہ زاروقطار روتے بستر پر گری۔
حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا
قیس کی خواہش پر ملحان نے قیس کی حویلی سے دلہا بن کر آنا تھا
یہ بھی قیس کی ضد تھی جس پر سب نے ہامی بھری تھی۔
ملحان ساکت سا تھا جیسے اس کی نہیں کسی اور کی شادی ہو
اپنے بھائی کو وہ جیسے نظروں سے قتل کرنے کا اردہ رکھتا تھا
بدر اگر تم آج بھی انابیہ کو لے کر حویلی نا آۓ نا تو بہت جوتے لگنے ہیں تمہیں۔قیس نے بدر کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ۔
جی لالہ میں بس پہنچ گیا
اپنے پیچھے سے آواز سن کر قیس پلٹا
کیسی ہے میری بہن انا یہ کو دیکھتے قیس اس کی جانب بڑھا
لالہ یہ چول انسان مجھے بہت تنگ کرتا ہے انابیہ نے سوں سوں کرتے بدر کی شکایت لگائی اور بدر قیس کے جوتوں کے ڈر سے جلدی سے بھاگا تھا
شش میرا بیٹا میں اس کے کان کھینچوں گا۔قیس نے پیار سے انابیہ کو پچکارتے ہوئے سمجھایا ۔
لالہ کان نہیں کھینچنے پورے کو کھینچنا ہے بہت تنگ کرتے ہیں مجھے
ہاہاہاہا ٹھیک ہے بیٹا لیکن تھوڑی اسے عزت بھی دے دیا کرو
ہاں ہاں لالہ سمجھائیں اسے
بدر جو پلر کے پیچھے چھپا تھا منہ باہر نکال کر بولا تھا
قیس انابیہ کو چھوڑتے اس کی جانب بڑھا تھا
مورے بچائیں...
بدر چیختا ہوا اندر کو بھاگا تھا
شاہ ہاؤس کی جان تھا یہ لڑکا۔
..❤️❤️❤️..
رمل بیٹا مہندی لگوا لو اور جلدی سے تیار ہو جاؤ رسم کرنی ہے
رمل نے ایک شکایتی نظر ان پر ڈالی تھی لیکن وہ اگنور کر گئیں ۔
مجھے نہیں لگوانی مہندی
لیکن نہ نہ کرنے کے باوجود امامہ بیگم نے نا صرف رمل کے مہندی لگوائی تھی بلکہ اسے تیار بھی کیا تھا
ماشاءاللہ
چشم بدور
چاند اور سورج کی جوڑی ہو گی تم دونوں کی امامہ بیگم نے رمل کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔
لیکن رمل خاموش ساکت بیٹھی تھی
مہندی کی رسم خوش اسلوبی سے گزری تھی
دنیا کے پہلے دلہا دلہن تھے کہ دلہا دلہن کے گھر رسم کر رہا تھا اور دلہن دلہے کے گھر
(سمجھ گئے نہ ریڈرز لوگ😁😁🙈😉)...
بارات والے دن افراتفری مچی ہوئی تھی
خان جی پکڑیں اسے یہ مجھے تیار نہیں ہونے دے رہا نمل نے اپنا بیٹا قیس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا
ارے بابا کی جان مما کو تنگ کرتے ہو
کرنا بھی چاہیے آپ کی مما نے کونسا بابا کو کم تنگ کیا ہے
قیس کی بات پر نمل نے قیس کو
گھورا تھا
اوکے آپ تیار ہو جائیں۔ میں اسے مما کے پاس چھوڑ آتا ہوں
نمل نے کالے رنگ کی ساڑھی پر، بالوں کو ہلکے ہلکے کرل ڈال کر کھلا چھوڑ رکھا تھا
قیس روم میں داخل ہوا تو نمل کو دیکھتے ساکت رہ گیا۔
آج رمل نے پنک لپ اسٹک لگای ہوئی تھی ۔یہ وہی لباس تھا جو قیس نے اس دن نمل کو بتایا تھا
تو کیا
تو کیا نمل.... قیس کی شدتیں برداشت کرنے کے لیے تیار تھی
قیس بے خودی کے عالم میں نمل کی جانب بڑھا تھا
ماشاءاللہ ❤️
آج خان کی جان نکالنے کا ارادہ ہے کیا
جب نمل نے تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
خان جی اللہ آپ کو میری بھی عمر لگا دے
نمل کی بات سن کر قیس نے اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے
کیسی لگ رہی ہوں خان جی
نمل کے سوال پر قیس بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا
پتا لگ گیا یا اور بتاؤں
اس کے ہونٹوں پر شدت بھرا لمس چھوڑتے بولا
نمل نے شرما کر اس کے سینے میں منہ دیا اور سرخ اناری چہرے کے ساتھ بولی
آہ بہت بے شرم ہیں میں نے تو لفظی پوچھا تھا نمل نے شرماتے ہوئے کہا
اور میں نے عملن بتا دیا۔ قیس نے شرارت سے ایک آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا ۔
قیس نے الماری سے ایک پیارا سا ساڑھی سے میچنگ سٹولر نکال کر نمل کے بالوں کو کیچر کرتے حجاب بنا دیا۔اور اس کے سر پہ اپنے لب رکھتے ہوئے بولا
اب مکمل ہے میری جان
قیس کی نظر نمل کی پھیلی لپ سٹک پر گئی تو اس نے ٹشو سے پنک لپ اسٹک صاف کرتے نمل کے ہاتھوں میں ریڈ لپ سٹک پکڑائی اور لاڈ سے بولا۔
بلاشبہ ان حسین ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک ہی جان نکالتی ہے
کہتے وہ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا
پیچھے قیس کی بات کا مطلب سمجھتے نمل مسکرا دی تھی
قیس کی ناراضگی ختم ہو چکی تھی یہ بات ہی اسے سرشار کر گئی تھی
..❤️❤️..
بیہ یار ریڈی نہیں ہوئی ابھی
بیہ لایٹ پنک کلر کے ڈریس میں پنکی ہی لگ رہی تھی
اس کا بھرا بھرا وجود اسے مزید خوبصورت بنا رہا تھا
ماشاءاللہ
میری جانم آج تو قیامت ڈھا رہی ہے
انابیہ جو رونے کو تیار کھڑی تھی
بدر کو دیکھتے رو پڑی تھی
کیا ہوا ڈارلنگ
بدر دیکھو نہ وومٹ رک نہیں رہی
اب میں تیار ہو کر بار بار واش روم کی جانب بھاگوں
ارے میری جان یہ دیکھو آپ کے لیے ٹیبلٹ لینے گیا تھا اور رونا بند کرو ورنہ کاجل پھیل گیا تو بھوتنی لگو گی
بدررررر
ارے مذاق کر رہا تھا یہ لو ٹیبلٹ کھاؤ
اور جلدی کرو ورنہ ملحان لالہ نے اکیلے گھوڑی چڑھ جانا ہے
..❤️❤️❤️..
ملحان بلیک شروانی پہنے انتہا کا جوبصورت لگ رہا تھا
ماشاءاللہ
بہت پیارے لگ رہو میرے بھائی
قیس نے بے ساختہ ملحان کی تعریف کی تھی
ملحان مسکرا بھی نہ سکا تھا
قیس نے ملحان کی خاموشی دیکھتے ہوئے اس سے آنکھیں چرائی تھیں
چلو بیٹا دیر ہو رہی ہے
..❤️❤️❤️..
برات آ گئی برات آگئی کا شور ہر طرف اٹھا تھا ۔ساتھ ہی رمل کے دل سے درد بھی اٹھا تھا ۔سینے پر ہاتھ رکھتے اس نے پانی کا گلاس پیا تھا
ریڈ کلر کے ٹیل گاؤن لہنگے میں وہ آسمان سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی دیکھنے والا ساکت رہ جاتا تھا۔
چلو رمل بیٹا برات آگئی
رمل کا گھونگٹ نکال کر امامہ بیگم اس کا ہاتھ تھامے اسے سٹیج کی جانب لائیں جہاں دلہے میاں پہلے سے براجمان تھے نکاح آمنے سامنے ہونا تھا
سٹیج کے درمیان میں ایک سفید رنگ کا پردہ لٹک رہا تھا
جی مولوی صاحب نکاح شروع کریں آغا جان کی آواز پر مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا تھا ۔
رمل منور حسین شاہ آپ کا نکاح ملحان خان ولد حاتم خان سے 10 لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے۔کیا آپ کو یہ نکاح منظور ہے
رمل کو لگا اس کے کان بج رہے ہیں
اور دوسری طرف بیٹھے ملحان کو بھی لگا کہ اس نے دلہن کا نام غلط سنا ہے
رمل کی طرف سے خاموشی پر مولوی صاحب نے پھر دہرایا تھا
رمل منور حسین شاہ آپ کا نکاح ملحان خان ولد حاتم خان سے 10 لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح منظور ہے
اس بار رمل واقع حیران تھی
رمل جلدی سے اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی اور اپنا گھونگھٹ الٹتے وہ مردوں والی سائڈ پر گئی تھی اس نے جلدی سے ملحان کے منہ پر سے قلہ اتار کر پھنکا تھا
تم.... تم....... بے شرم انسان تم....تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ناٹک کرنے کی
ملحان بیچارہ جو خود کنفیوز کھڑا تھا؛
رمل کو سامنے دیکھ کر اسے لگا کہ جیسے جنت مل گئی ہو۔
قیس کو پتا تھا کہ کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے اس لیے اس نے صرف گھر کے لوگوں کو ہی اکٹھا کیا تھا
آغا جان، حاتم خان سب ملحان کی درگت بنتا دیکھ رہے تھے
رمل اس کے سینے پر مکوں کی برسات کرتے اسے مارنے کے در پر تھی
تم تم منحوس انسان
میں رخصتی کے بعد اپنے سسرال آگئ اور تمہیں پورا سال لگا اپنے گھر آنے میں کہاں تھے تم
رمل میں.. مجھے... وہ
ملحان سے تو کچھ بولا نہیں جا رہا تھا
جب سب کا مشترکہ قہقہہ گونجا تھا۔
رمل بیٹا آج تو میرے بیٹے کو معاف کر دو
اچھا تو یہ آپ سب کی ملی بھگت تھی
ہاں تو کیا رمل ہی سب کو سرپرائز کر سکتی ہے ہم لوگ نہیں قیس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
ملحان تو بس آنکھوں میں فتور لیے رمل کو تک رہا تھا
تبھی ملحان قیس کو غصے سے گھورتا آگے بڑھا تھا
دیکھ چھوٹے اب اگر کچھ کہا نہ تو پھر سے رمل کو غائب کر دوں گا
لالہ اس بار یہ نوبت نہیں آۓ گی
اس دفعہ میں خود رمل کو لے کر غائب ہو جاؤں گا
پہلے دلہن سے تو پوچھ لو جاۓ گی کہ نہیں ایک اواز حال میں گونجی ۔
میں اٹھا کر لے جاؤں گا
رمل نے سب کے سامنے ملحان کی اس حرکت پر سلام کیا تھا
پھر آغا جان بے اپنی سرپرستی میں نکاح دوبارہ کروایا
رمل کا ہاتھ پکڑتے ملحان نے خود سائن کرواۓ تھے سب کی گھوریوں کو نظر انداز کرتے وہ شوخا بنا ہوا تھا
نکاح ہوتے ہی سب کو کھانے کی پڑ گئ تھی جب کہ ملحان تو رمل کو دیکھے جا رہا تھا
رمل شاید پہلی بار ملحان کی نظروں سے پزل ہورہی تھی
اس کی ڈیپ ریڈ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ.. ملحان کو اپیل کر رہے تھے
ملحان ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا ۔
ابھی اور انتظار
افففففففففف
ملحان نے رمل کے کان میں سرگوشی کی تھی اور ساتھ ہی اس کی کان کی لو پر اپنے لب رکھے تھے
رمل بولڈ ہونے کے باوجود سب کی موجودگی میں کانپ گئی تھی
جانم ابھی سے کانپنا شروع کر دیا
ابھی تو عشق کے اور امتحان ہیں باقی
کھانے کے بعد رخصتی کا شور اٹھا اور ایسے سب کی دعاؤں کے سائے میں رمل کو سسرال رخصت کیا گیا ۔
۔۔❤️❤️۔۔
گھر آتے ہی امامہ بیگم نے بہت سی رسمیں کیں۔ملحان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ رمل کو اٹھا کر کمرے میں بھاگ جائے۔وہ اب اس سب سے بیزار سا ہو رہا تھا لیکن چہرے میں مسکراہٹ تھی بہت خوبصورت مسکراہٹ جیسے ہفتِ اقلیم پا لیا ہو
آخ کار سب کو ملحان پر رحم آ ہی گیا اور رمل کو کمرے میں لے جانے کی بات ہوئی ۔یہاں پہلی بار حاتم خان بولے ۔
بیٹا جی جب ہماری شادی ہوئی تھی ہم اپنی بیگم کو اٹھا کر کمرے میں لے کر گئے تھے اب آپ کی باری ہے آپ بھی رمل کو ایسے ہی لے کر جائیں گے۔
باپ کی بات پر ملحان اور رمل دونوں کا ہی منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔لیکن پھر چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے اس نے کسی گڑیا کی طرح رمل کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا۔اس کے ایسا کرتے ہی ہوٹنگ کا ایک طوفان ِبدتمیزی اٹھا لیکن ملحان کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر رمل کو لیے کمرے کی طرف بڑھا ۔ رمل نے شرم سے اپنا چہرہ ملحان کے سینے میں چھپا لیا۔
جیسے ہی سب ملحان کے کمرے کے باہر پہنچے سب نے یہاں ہی رمل کو کھڑا کرنے کا بولا کیوں کہ رمل کو یہاں سے خود کمرے میں جانا تھا ملحان کو بنا نیگ کے کمرے میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ ملحان کے نیچے اتارتے ہی رمل جلدی سے کمرے میں چلے گئی مبادہ کوئی نیا حکم نہ جاری ہو جائے۔
کمرے کو دیکھتے ہی رمل کی آنکھیں اور منہ دونوں ہی ایک ساتھ کھلے تھے۔
ملحان کے کمرے کو پھولوں اور لائٹوں سے قیس نے اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا
ملحان کا کمرہ خوبصورتی کی اعلی مثال لگ رہا تھا.
کمرے میں کھڑی رمل اپنے دلہناپے کا خیال کیے بغیر کمرے کو یک ٹک دیکھ رہی تھی
ہاہا آپو یہ خان جی نے کروایا ہے آپ لوگوں کے لیے. نمل نے مسکراتے ہوۓ کہا
آپو آپ کے ہاتھ کتنے ٹھنڈے ہو رہے ہیں.آج نمل بھی پورا تنگ کرنے کے موڈ میں تھی۔ اس لیے موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی۔
نہیں نہیں کچھ نہیں ۔رمل جلدی سے بولی۔
آپو ادھر بیٹھ جائیں اور جیجو کے آنے تک چینج بلکل نہیں کرنا ۔نمل نے رمل کو بیڈ پر بیٹھاتے اس کا لہنگے سائڈو پر پھیلا دیا۔ رمل چہرے پر گھونگھٹ لیے سر جھکائے راویتی دلہنوں کی طرح بیٹھی ہوئ تھی
جب باہر سے شور کی آواز پر اس کے دل کی دھڑکن ساکت ہوئی تھی
ملحان لالہ
پورے 1 لاکھ چاہیں
اور 1 لاکھ مجھے
انابیہ اور نمل ملحان کو اندر نہیں انے دے رہی تھی
یہ لو میرا. Atm کارڈ اور پلیز مجھ ترسے ہوۓ کو اندر جانے دو۔ملحان نے جلدی سے ان کے ہاتھ میں کارڈ تھمایا اور کچھ بھی سمجھنے کا موقہ دیئے بنا کمرے میں گھس کر دروازہ بند کر لیا۔
پیچھے سب کا جاندار قہقہہ گونجا تھا۔
نمل نے کچھ کہنا چاہا لیکن قیس نے اچانک اسے اپنی بانہوں میں بھرا اور اسے لے کر اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا پیچھے بدر نے بھی یہی عمل دہرایا تھا
شکر ہے
ملحان ٹھنڈا سانس بھرتے آگے بڑھنے لگا
لیکن وہ حیران سا دروازے میں ہی رک گیا کیونکہ سامنے دلہن بنی رمل جاۓ نماز پر بیٹھی تھی وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں چلتا رمل کی ایک سائڈ پر بیٹھ گیا۔
ریڈ اور گولڈن کلر کا لہنگا جس پر پرل کا کام تھا... ملحان کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا ۔سر پر گولڈن کلر کا حجاب بناۓ ماتھے پر ٹیکا لگائے وہ پردے میں بھی ایک مکمل دلہن لگ رہی تھیاور ہونٹوں پر جھکی نتھلی نے مزید قیامت برپا کی ہوئی تھی
رمل آنکھیں بند کیۓ اپنے اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی
ملحان نے دھیرے سے اس کی گود میں سر رکھا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا
رمل نے بے ساختہ جھکتے ملحان کو دیکھا تھا جو رمل کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا
رمل کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر ملحان کے ہونٹوں پر گرے تھے
ملحان جلدی سے اٹھ کر بیٹھا اور پریشان ہوتا ہوا رمل سے پوچھنے لگا۔
رمل شش کیوں رو رہی ہو اب تو جدائی کا موسم ٹل گیا اب تو ہجر کی رات ختم ہو گئ اب تو وصل کا موسم ہے پھر بھی
یہ آنسو؟
یہ تو خوشی کے آنسو ہے حان آپ کو پا لینے کے آنسو۔رمل نے نم آنکھوں سے ملحان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
شش رونا بند کرو ملحان نے رمل کا ہاتھ پکڑتے اسے بیڈ پر بٹھایا اور جاۓ نماز اٹھا کر الماری میں رکھا تھا
رمل آنکھوں میں آنسو لیے ملحان کو یک ٹک دیکھ رہی تھی
ملحان چلتا ہوا رمل کے قریب آیا تھا
اور رمل کے قدموں کے پاس نیچے بیٹھ گیا ۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا نمل بولی۔
حان آئی ایم سوری...
مجھے آپ پر یقین کرنا چاہیے تھا۔
شش کچھ مت بولنا بس مجھے ان لمحوں کو محسوس کرنے دو... مجھے یقین دلانے دو کے میری رمل میرے پاس ہے مجھے کوئی گلہ نہیں تم سے
آج تمہیں اس مکمل روپ میں اپنے سامنے دیکھ کر میری تمام خواہشات پوری ہو گئ رمل.... ملحان نے اس کے مومی لبوں پر انگلی رکھتے اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔
پھر ملحان نے اپنی پاکٹ سے ایک پائل نکال کر رمل کے پاؤں کی زینت بنائ
پھر بازو میں کنگن پہناتے ان پر اپنے لب رکھے
رمل تو بس مسکراتے ہوئے ملحان کو دیکھ رہی تھی
ملحان نے دھیرے سے رمل کے حجاب کی پنز نکالی تھی
ملحان کے ہاتھوں کی حرکت پر رمل کا دل زوروں سے دھڑکا تھا
حان
شش
آج کچھ مت بولنا آج میں بولو گا اور تم سنو گی مجھے عشق سے تمہاری ان آنکھوں سے ملحان نے رمل کی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا تھا
ملحان کی گرم سانسیں رمل کو بے خود کر رہی تھی
حجاب اتارتے ہی رمل کے جوڑے میں بندھے بال اس کی پشت پر بکھر گئے
ملحان تو بالوں کی لمبائی اور خوبصورتی دیکھ کر حیران تھا
تبھی حیرت سے بولا تھا رمل وگ تو بہت اچھی ہے
رمل تو جذبات میں بہتی پتا نہیں کہاں پہنچی ہوئی تھی
ملحان کی آواز پر ہوش میں آئی ۔
حان یہ میرے اصلی بال ہیں. وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی
اور ملحان بیچارہ حیرت میں اپنے سامنے کھڑی رمل کو دیکھ رہا تھا
جو کھلے بالوں میں بلکل نمل لگ رہی تھی
میں.. میں.. ملحان سے کچھ بولا نہیں گیا تھا
کیا ہوا حان
رمل میں کیسے پہچانوں گا کہ کونسی آپ ہو اب تو آپ بلکل بھابھی جیسی ہو گئی ہو
ملحان کی بات سن کر رمل کا قہقہہ بے ساختہ تھا.
حان آپ ہمیشہ اتنے معصوم رہیں گے
رمل کہتے ڈریسنگ کے سامنے اپنی جیولری اتارنے لگی تھی
لیکن اس سے پہلے ملحان اس کی جانب بڑھتا اسے گود میں اٹھا چکا تھا
رمل کی آنکھوں میں دیکھتے وہ اسے بیڈ پر لے آیا تھا
ملحان جتنا بھی معصوم ہے لیکن اتنا معصوم ہر گز نہیں ہے کہ اپنی بیوی سے دور رہے کہتے ساتھ وہ رمل پر جھکا تھا رمل کے سرخ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ اسے پاگل کر رہے تھے ۔اسے اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔اس کا دل ان گلاب پنکھڑیوں کو چھونے کا تھا اس سے پہلے کہ وہ دل بات پر عمل کرتا رمل کی ہلکی سی آواز گونجی۔
حان... پلیز لائٹ....
رمل نے دھڑکتے دل کو سنھالتے ہوئے کہا تھا
ملحان نے لایٹ آف کرتے سائڈ لیمپ روشن کر دیا تھا اور اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے رمل کے ہونٹوں پر شدت سے جھکا تھا۔کمرے میں پھیلی معنی خیز سی خاموشی اور ان دونوں کی چلتی سانسیں ان دونوں کے مکمل ہونے کی گواہی دے رہی تھی
..❤️❤️❤️❤️..
قیس جیسے روم میں داخل ہوا تو
حیران رہ گیا ۔
روم کی لایٹ آف تھی اور پورے روم میں چھوٹے چھوٹے دیے جل رہے تھے
اور ان کے اردگرد گلاب کے پھولوں کی پتیاں خواب ناک سا ماحول بنا رہی تھیں۔ بیڈ کے درمیان میں نمل کو گھونگھٹ اوڑھے بیٹھا دیکھ کر قیس کی دھڑکنیں بڑھی تھی
تو وہ حسین لمحہ آ چکا تھا
جس کا قیس کو بے صبری سے انتظار تھا ۔دھیرے سے چلتا وہ نمل کے نزدیک بیڈ پر بیٹھا تھا اور شوخ ہوتے ہوئے بولا۔
مجھے نہیں پتا تھا کہ آج اتنا اچھا سرپرائز ملے گا ورنہ کب کا کمرے میں آ جاتا ۔قیس نے نمل کا گھونگھٹ اٹھاتے سرگوشی میں کہا تھا
کسی کی خواہش تھی مجھے اس روپ میں دیکھنے کی پھر کیسے نہ پوری کرتی۔ نمل نے اپنے خان کا مان رکھتے ہوئے کہا تھا۔
صدقے جاؤں بہت شکریہ جناب قیس مزید شوخ ہوا۔
میرا رونمائی کا تحفہ۔نمل نے قیس سے کہا۔
یہ پورے کا پورا خان آپ کا ہے میری جان ابھی بھی تحفہ چاہیے
الحمدللہ کہ یہ خان میرا ہے۔نمل نے آگے بڑھتے قیس کے ماتھے پر لب رکھے تھے۔
اجازت ہےقیس نے دھیرے سے نمل کی طرف جھکتے اجازت لی تھی
نمل نے مسکراتے اس کے سینے میں چہرہ چھپایا تھا.قیس نے اسے سیدھا کرتے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے پھر آہستہ آہستہ چہرے کے ہر نقش کو چھوتے لب نمل کے لبوں پر رکھے۔آج قیس کے لمس میں شدت نہیں بلکہ پیار ہی پیار تھا۔
دور چاند ان سب کے ملن پر دل سے مسکرایہ تھا.......

🙈🙈
Kesi lgi🙈

15/06/2026

last episode 🥳🥳🥳🥳🥳🥳🥳🥳🥳🥳🥳🥳

Fitoor


‍سب ڈائنگ ہال میں بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی سفید لہنگا پہنے فل برائیڈل لک کے ساتھ ان کے ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی۔سب نے حیران نظروں سے اس کی جانب دیکھا
۔
ہال میں داخل ہوتے ہی اس لڑکی نے سلام کرتے گردن جھکا دی۔
سب حیران نظروں سے اس دلہن کو دیکھ رہے تھے جو گردن جھکا کر کھڑی تھی۔

مومنہ شاہ رمل کو پہچانتے جلدی سے اس کی جانب بڑھیں اور حیران ہوتے رمل کو بازوؤں سے پکڑ کر بولی
رمل بیٹا

لیکن رمل ان کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی روتے ہوئے ان کے سینے سے لگی۔
رمل کے سچائی بتانے پر ہر طرف سکوت چھا گیا۔ ان کی کوئ غلطی نہیں میں نے زبردستی ان سے نکاح کیا۔

رمل نے صرف اپنی سچائی بتائی ملحان کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا۔
رمل کو زاروقطار روتا دیکھ حاتم خان جلدی سے رمل کی طرف بڑھے اور اسے سینے سے لگاتے دلاسا دیتے ہوئے کہا

بیٹا آپ رویۓ مت آنے دیں اس نہجار کو
اس کا علاج میں کرتا ہوں
نہیں بابا آپ انہیں کچھ نہیں کہیں گے

اور آپ انہیں میرے یہاں ہونے کا بھی نہیں بتائیں گے۔ رمل نے روتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا جیسے آپ کی مرضی
مومنہ آپ انہیں روم میں لے جائیں

بابا خان سے میں خود بات کر لوں گا۔
حاتم خان نے رمل کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے مومنہ بیگم سے کہا۔
جی ٹھیک ہے ۔
..⭐⭐⭐..
رمل بیٹا کب ہوا یہ سب آپ نے مجھے بھی نہیں بتایا.مومنہ بیگم نے کمرے میں جاتے رمل سے پوچھا ۔
مورے وہ بس

رمل نے شرمندگی سے سر جھکا دیا.
کوئ بات نہیں بیٹا .وہ نالائق کدھر ہے

مورے وہ تو ادھر حویلی میں ہی ہیں۔
بہت اچھا کیا جو آپ اسے چھوڑ کر آ گئیں ۔مومنہ بیگم نے تھوڑا غصے میں کہا ۔گھر آۓ اس کی عقل ٹھکانے لگاؤں گی۔ مورے پلیز آپ انہیں مت بتلائیے گا۔رمل نے ان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے التجا کی

لیکن بیٹا وہ پاگل ہو جائے گا آپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے
مورے یہ ان کی سزا ہے
ٹھیک ہے بیٹا

لیکن ایک بار سوچ لو
سوچ کر آئی ہوں مورے
ٹھیک ہے ویسے بھی وہ اس حویلی بہت کم آتا ہے ۔وہ زیادہ تو اپنے فلیٹ پر ہوتا ہے .اس کی جوب کی نوعیت ہی ایسی ہے
جی مورے

رمل یہاں بہت گبھراتے ہوئے آئی تھی لیکن سب کا پیار دیکھ کر اسے اپنا فیصلہ سہی لگا تھا
ملحان کا وہ معصوم... اور آخری حد تک معصوم ہونا وہ سب فراڈ تھا
رمل کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا ایسے جیسے سب مر گیا ہو ۔کوئی خواہش باقی نہیں رہی تھی ۔اور نا ہی ملحان کے لیے کوئی جذبات باقی تھے
اس کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح بہہ رہے تھے۔ رمل کو اپنا اپ ٹکڑوں میں بٹا ہوا لگ رہا تھا ۔

اس نے شاور لیتے چینج کیا اور وضو کرتے نماز کے لیے کھڑی ہو گئ.
وضو کرتے اسے ملحان کی یاد آئی لیکن
پھر سر جھٹکتے نماز کی طرف دھیان کر گئی۔
بہت مشکل کے ساتھ آنسو بہاتے
کانپتے ہوئے اس نے نماز ادا کی تھی۔

یا اللہ میں نے تو بس ایک جھوٹ بولا تھا اور وہ انسان سر سے پاؤں تک جھوٹا تھا ۔یا اللہ مجھے صبر دے.... اے میرے رب وہ زاروقطار روتے اللہ سے فریاد کر رہی تھی اور روتے روتے جاۓ نماز پر ہی سو گئی۔ مومنہ خان اس کے لیے کھانا لے کر آئی تو اسے جائے نماز پر سوئے دیکھ کر دکھی ہوئیں۔ اور خود سے سوچا ۔
اللہ جانے کیا کہا ہے ملحان نے اس معصوم سے جو اس طرح تڑپ رہی ہے۔آگے بڑھتے انہوں نے رمل کو اٹھانا چاہا۔

رمل بیٹا
لیکن رمل تو جیسے صدیوں بعد آج سوئی تھی
انہوں نے رمل کو سہارا دیتے بیڈ پر لٹایا اور کمبل سہی کر کے کھانا واپس لے گئیں۔
...💔💔💔...
اگلی صبح انابیہ اور بدر کے لیے روشن صبح تھی۔بدر نے آنکھیں کھولتے ہی انابیہ کا چہرہ دیکھا جو سکون سے سب بھلائے سو رہی تھی۔سارے جہان کی معصومیت اس وقت اس کے چہرے پر رقصاں تھی۔بدر اپنی متاع ِ جان کو ایسے سکون سے سوئے اور اپنے پاس دیکھ کر مطمئن ہوا ۔اسے ایسے پورے حق سے دیکھنا بدر کو زندگی کی ایک نئی امید دے رہا تھا۔وقت کا خیال کرتے اس نے انابیہ کو اٹھایا۔

بیو اٹھ جاؤ نماز لیٹ ہو رہی ہے
بدر سونے دو مجھے ابھی میری آنکھ لگی ہے پھر اٹھا رہے ہیں آپ۔انابیہ نے بند آنکھوں سے ہی جواب دیا۔
اچھا تو تم اسے نہیں اٹھو گی

بدر نے جب گستاخیاں شروع کی تو انابیہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی۔
لیکن اپنا حلیہ دیکھ کر دوبارہ کمبل میں گھس گئی۔شرم سے پانی پانی ہوتے اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ بدر کی طرف دیکھ سکے۔اس پر بدر کی معنی خیز باتوں سے انابیہ کا چہرہ سرخ قندھاری ہو رہا تھا۔
بیگم اب کیا فائدہ چھپنے کا اب تو ہم نے آپ کو جی بھر کر دیکھ لیا
بے شرم ہٹو مجھے واش روم جانا ہے
انابیہ نے بدر کو دھکا دیتے ہوئے کہا ۔
ہاہاہا اچھا جی کیوں ہٹوں
بدر پلیز
نو
اوکے بتاؤ کیسے مانو گے انابیہ نے ہار مانتے پوچھا ۔
میری شرٹ واپس کرو ابھی کے ابھی بدر نے شرارت سے ایک آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا ۔
بدر😳 انابیہ کی آنکھیں باہر کو آگئ تھی

ہاہاہا
اچھا مزاق کر رہا تھا
ادھر اپنے ان پیارے پیارے ہونٹوں سے کچھ نشانیاں دے جاؤ
اپنی رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے بدر بولا
انابیہ نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے بدر کو گھورا اور بولی ۔
کل سے تمھارے کچھ زیادہ پر نہیں نکل آۓ
اتنا حق تو بنتا ہے میرا بے وفا لڑکی۔
پوری رات تمھارے کہنے پر تمہیں پیار کر کر کے میرا منہ دکھنے لگا ہے۔

بدر روک انابیہ شوکڈ😏😏😏
بدررررررر
انابیہ کی چیخ بے ساختہ تھی
اور بدر کا قہقہہ
بدر کی شوخیاں عروج پر تھیں
ادھر آؤ ایسی نشانی دوں گی بھولو گے نہیں ۔انابیہ نے کہتے بدر کو گریبان سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور اس کی رخسار پر بہت زور کی بائٹ کی۔
بائٹ واقعی زور کی تھی ۔بدر کی ہلکی سی چیخ نکلی اور رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

میری جنگلی بلی روکو تمہیں تو میں بتاتا ہوں۔
لیکن انابیہ جلدی سے چکمہ دے کر واش روم میں گم ہو گئی۔
انابیہ کی بچی
بدر نے دانت پستے ہوئے اسے پیچھے سے آواز لگائی ۔
ابھی بچی آنے میں کافی وقت ہے
انابیہ سے کام چلا لو...
...💞💞💞...

1 سال بعد

گزرا ایک سال
انابیہ اور بدر کے لیے خوشیوں کی برسات لایا تھا
حرم شریف دیکھنے کے علاوہ وہ دونوں بہت سے ممالک گھوم آۓ تھے
اور شاید گھومتے رہتے اگر انابیہ کی طبیعت خراب نہ ہوتی
انابیہ کی پریگننسی کی رپورٹ پر بدر خوشی سے پاگل ہو رہا تھا
انابیہ تھوڑا ڈر رہی تھی لیکن بدر نے اسے بھی سنبھال لیا تھا
قیس اور نمل کو اللہ نے ایک پیارے سے بیٹے سے نوازہ تھا جو بلکل اپنے باپ پر گیا تھا اور نمل کو یہ غم کھاۓ جا رہا تھا کہ خان جی اب اس سے پیار نہیں کرتے
نمل کا بیٹا 4 ماہ کا تھا ۔نمل نے محسوس کیا قیس کا رویا بےبی کے بعد نمل سے سرد سا تھا۔پہلے تو شاید بےبی کی وجہ سے وہ اس کی کیر کرتا تھا لیکن اب اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ نمل کہاں ہے
وہ ہر وقت اپنے بےبی کے گرد پایا جاتا تھا۔

قیس نے اپنے بیٹے کا نام ودان خان رکھا جو سب کو بہت پسند آیا تھا
قیس کے رویے پر نمل کڑھتی تھی لیکن زبان سے کچھ نہ بولتی تھی...
ملحان نے رمل کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن ہر کوشش ناکام ٹھہری تھی۔اسے اس وقت پر پچھتاوا ہو رہا تھا جب اس نے قیس لالہ کے کہنے پر سب ڈرامہ کیا تھا۔

جی ہاں! سہی سمجھے آپ ملحان کوئی آفیسر نہیں .اس نے یہ سب قیس کے کہنے پر کیا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ رمل اس حد تک بد گمان ہو جائے گی۔اس نے خود اپنے پاؤں پر کلھاڑی ماری تھی۔اسے یاد تھا آج بھی وہ دن۔۔

قیس لالہ میں کبھی اتنا سب گھر والوں کے سامنے نہیں بول سکتا سب سچائی آپ کو ہی بتانی ہو گی۔
بدر قیس سے کسی بات پر بحث کر رہا تھا
ارے کیا باتیں ہو رہی ہے مجھے بھی بتاؤ
ملحان کو دیکھتے بدر کی آنکھیں چمکی تھی۔وہ جھٹ سے بولا۔

ارے لالہ یہ ملحان ہے نہ یہ کر لے گا سب ہینڈل ۔
ہاں ہاں بتاؤ اب میں اتنا تو کر ہی سکتا ہوں ۔ملحان بھی شوخی میں سب مان گیا۔
قیس نے بہت کہا تھا کہ ملحان آپ رہنے دو رمل غصہ ہو گی لیکن ملحان ایڈونچر کے شوق میں مارا گیا

پھر قیس نے تھپڑ کے بعد بھی کہا کہ رمل کو بتا دو لیکن وہ بس اپنی فرسٹ نائٹ کا انتظار کر رہا تھا اور سب بگڑ گیا۔اور چپ چاپ اپنے شہر والے فلیٹ میں شفٹ ہو گیا۔ کبھی کبھار مورے سے ملنے چلا جاتا لیکن فوری واپس آجاتا۔

آج پھر سے رمل کی یاد اسے بےبس کر رہی تھی اس کے سر میں شدید درد تھا
اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر سو جاۓ اس لیے وہ حویلی چلا آیا اور سیدھا اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہوا ۔
رمل بخار سے ہوش گنوائے مومنہ بیگم کے کمرے میں سوئی ہوئی تھی ۔

مومنہ بیگم نے ملحان کو دیکھ کر ایک دفعہ آنکھیں پھیری تھیں کہ کہیں اسے رمل کا پتا نہ چل جائے لیکن رمل سر منہ لپیٹے کمبل میں لیٹی ہوئی تھی۔
ملحان نے بستر پر چڑھتے ہی اپنی ماں کی گود میں سر رکھ دیا۔
مورے بہت درد ہے سر میں پلیز بالوں میں انگلیاں چلا دیں ۔کس بات کی ٹینشن ہے میرے شہزادے کو ؟کیوں ہے سر میں درد؟

مومنہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا ۔
کچھ نہیں مورے بس تھکاوٹ ہے

کچھ ہی دیر میں ملحان بھی نیند میں گم تھا۔ مورے اس کا سر بستر پر رکھتے باہر نکل گئیں۔ اللہ پاک ان دونوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے ۔مومنہ بیگم کے دل سے بے ساختہ دعا نکلی۔
ایک دوسرے سے دور رہ کر دونوں بے سکون ہیں ۔
۔۔۔❤️❤️❤️۔۔۔
ملحان نے نیند میں کروٹ بدلتے اپنا بازو رمل کے اوپر رکھا۔اسے لگا شاید وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔اس نے رمل کو زور سے اپنے سینے میں بھینچا تھا
رمل کو جب اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے جلدی سے اپنی مندی مندی آنکھیں کھولیں ۔لیکن خود کو کسی کی بانہوں کے حصار میں پا کر اس کی نیند بھک سے اڑی تھی اس نے جھٹکے سے اپنا سر اوپر اٹھایا۔اس کے ریشمی بال سامنے والے کے منہ پر سایا کر گئے۔ اپنے بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے اس نے سامنے والے کا چہرہ دیکھنا چاہا۔ لیکن ملحان کو سامنے دیکھتے اس پر جیسے سکتا چھا گیا۔

حان ادھر۔
خواب کی کیفیت میں اس نے اپنے لب ملحان کے ماتھے پر رکھے۔بار بار اور کئی بار یہ عمل دہراتے وہ اپنے سے کیا ہر عہد بھول چکی تھی۔ اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ اس کے سامنے اس کا عشق،اس کا جنون،اس کا فتور ہے۔ جسے حاصل کرنے کے لیے اس نے سب کچھ بھلا دیا۔جس سے ایک سال کی دوری نے اسے پاگل کر دیا تھا۔

ملحان کے چہرے پر اپنی محبت کے پھول کھلاتے وہ کسی اور ہی دنیا میں چلی گئی تھی۔

ملحان کی آنکھوں میں ہلکی سی جنبش پر وہ پیچھے ہٹی اور اپنا دوپٹہ اٹھانا چاہا جو ملحان کے نیچے دبا ہوا تھا
لیکن ملحان کو آنکھیں کھولتے دیکھ وہ دوپٹہ وہی چھوڑے باہر کو بھاگی تھی اور جلدی سے ساتھ والے کمرے میں گم ہو گئی۔

ملحان کی نیند میں خلل خود پر بوجھ محسوس کرتے ہوا تھا لیکن وہ اپنا وہم سمجھتے سویا رہا۔لیکن جب اسے اپنے پیچھے کھنچاؤ محسوس ہوا تو
اس نے جلدی سے آنکھیں کھولی۔
آنکھیں کھولتے اس نے کسی لمبے بالوں والی لڑکی کو باہر بھاگتے دیکھا۔
وہ جلدی سے دوپٹہ ہاتھ میں لیتا باہر نکلا اور مومنہ بیگم کو آوازیں دینے لگا
مورے مورے
کیا ہوا بیٹا

مورے آپ کے روم میں لڑکی کون تھی
بیٹا وہ میری دوست کی بیٹی ہے
مومنہ بیگم نے بہت مشکل سے بہانا بنایا
اللہ جی
مورے آپ مجھے بتا دیتیں نا میں آپ کے بیڈ پر نہ لیٹتا۔میں کیسے کسی نا محرم کے ساتھ ایک بستر پر لیٹ گیا
ملحان کی بات سنتے کمرے میں موجود رمل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے ہلکی سی چھب دکھلائی۔ اور مورے بھی مسکرا دیں۔
کچھ نہیں ہوتا بیٹا آپ کونسا جان بوجھ کر لیٹے تھے بس میرے بھی دھیان سے نکل گیا
مورے یہ اس کا ڈوپٹہ دے دیں اسے۔

ہممم لاؤ
مومنہ بیگم نے ملحان کے ہاتھ سے دوپٹہ پکڑ لیا۔
خوشبو جو ملحان کے ہاتھوں سے آ رہی تھی ہاتھ کو ناک کے قریب کرتے اس کے ہونٹ ہلکی سی سرگوشی میں ھلے تھے
رمل

جو دروازے کی اوٹ میں سے رمل نے بخوبی سنا تھا
رمل کا دل کیا ابھی کے ابھی جا کر
ملحان کے سینے سے لگ جائے
لیکن وہ اپنے دل پر پتھر رکھتے ملحان کو خود سے دور جاتا دیکھتی رہی ۔
..❤️❤️❤️..
ملحان کے گھر جاتے ہی رمل مورے کی جانب بڑھی۔
کیسا ہے میرا بیٹا بخار اترا۔مومنہ بیگم نے فکر مندی سے پوچھا ۔
جی مورے پہلے سے بہتر ہوں
مورے آپ نے اچھا نہیں کیا
ہاہاہا
آپ کو تو مورے کا شکر ادا کرنا چاہیے
ایک ملاقات کروا دی
اور اگر میں پکڑی جاتی تو؟
ارے میرا معصوم بیٹا
دیکھو تو کیسے میری بات کو سچ مان گیا
ہمممم بہت معصوم
رمل بھی تنزیہ بولی تھی
ہاں جی اب کب تک میرے بیٹے کو سزا دینے کا ارادہ ہے۔دیکھا ہے وہ پہلے سے کتنا کمزور ہو گیا ہے۔
مورے آپ پھر یہی بات لے کر بیٹھ گئیں
ہاں تو کیا کروں ۔مجھ سے نہیں دیکھا جاتا وہ ایسے ۔تم نے ایک سال کا وقت مانگا تھا میں نے دے دیا۔ایک ہفتہ ہے تمھارے پاس۔ اس ایک ہفتے میں مجھے جواب دے دو ۔ورنہ پھر جو میں کروں گی آپ یاد رکھیں گی۔مومنہ بیگم نے دھمکی بھرے انداز میں کہا۔
مورے....
رمل احتجاجاً بولی تھی
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی حاتم خان کیچن میں آۓ تھے
میرے بیٹے کا بخار اترا۔
جی بابا جان
کیا باتیں ہو رہیں تھی ساس بہو میں
بابا مورے مجھے ڈانٹ رہی ہیں۔رمل نے معصوم سا منہ بناتے ہوئے مومنہ بیگم کی شکایت لگائی۔
کیوں بھئ مومنہ کیا کر دیا میری بیٹی نے ۔
آپ کی بیٹی جو میرے بیٹے کو جدائی کے انتظار میں سوکھا رہی ہے نہ...
آپ پھر سے یہی بات لے کر بیٹھ گئ مومنہ بیگم
ہممم میں نہیں بولتی کچھ
وہ منہ بنا کر بولی تھی
تبھی رمل اور حاتم خان کا قہقہہ گانجا تھا
رمل اس دوران حویلی والوں کی آنکھ کا تارا بن گئ تھی ۔سب کی دلاری بن چکی تھی رمل نے مورے سے تیل، دہی انڈہ اور جڑی بوٹیاں لگوا کر بال لمبے کر لیے تھے شاید اسی لیے ملحان بھی اسے پہچان نہیں پایا تھا۔
گزرتے وقت کے ساتھ رمل کی شخصیت میں بہت فرق آیا تھا۔5 وقت کی نماز کے ساتھ وہ تہجد گزار بن چکی تھی
مورے نے اس کے لیے گلی کا ایک چھوٹا بچہ جو قرآن حفظ کرنے جاتا تھا وہ بھی لگوا دیا تھا۔اب اسے بہت سی صورتیں حفظ تھیں ۔
پردے کا خاص خیال رکھتی تھی
..💞💞💞..

1 ہفتے بعد

آج نمل نے بہت خوبصورت نائٹ ڈریس پہن کر خود کو خان کے لیے تیار کیا تھا
آج اس نے آر یا پار کا سوچ لیا تھا
کیونکہ وہ اس آنکھ مچولی سے تنگ آ گئی تھی ۔خان جیسے کمرے میں داخل ہوا ۔کاٹ سے ودان غائب تھا۔
نمل ودان کہاں ہے؟
اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز سنتے وہ پیچھے موڑا تھا
جہاں نمل خوبصورت ترین سرخ رنگ کی نائٹی پہنے تیار کھڑی تھی
خان نے آنکھیں چراتے ودان کا پوچھا تھا۔
وہ مما کے پاس ہے
اس نے خان کے گلے میں بازو ڈالتے بولا تھا
میں لے کر آتا ہوں
نہیں وہ آج مما کے پاس رہے گا
میں فیڈر بھی دے آئی ہوں
نمل نے کہتے خان کی گردن میں منہ دیا تھا جس وقت سے خان بچ رہا تھا۔نمل وہ پھر قریب لا رہی تھی
قیس نے نمل کو بازو سے پکڑتے دور کیا اور سرد انداز میں بولا۔
مجھے نیند آ رہی ہے
قیس کی بات سن کر نمل کو غصہ آیا۔
ہاں ابھی جب اپنے بیٹے کو لینے جا رہے تھے تب تو آپ کو نیند نہیں آ رہی تھی
ننید آپ کو پچھلے ایک سال سے بہت آ رہی ہے خان جی مجھے سب سمجھ آ رہا ہے دل بھر گیا نا اب آپ کا مجھ سے اچھی نہیں لگتی نہ اب میں آپ کو یا کسی اور کے چکر میں ہیں؟
کیا بکواس کر رہی ہو مجھے ایسا سمجھتی ہو؟
پھر کیوں کر رہے آپ ایسا؟
نمل نے قیس کو بری طرح غصہ دلا دیا تھا قیس نے نمل کو بازوؤں سے کھینچ کر اپنے قریب کیا اور اس کے کان کے قریب غرایا۔
ہاں کر رہا ہوں ایسا
کیونکہ جب میں تمھارے ان خوبصورت زہریلے ہونٹوں کی طرف دیکھتا ہوں نہ تو مجھے وہ پل یاد آ جاتے ہیں
جب ان ہونٹوں کا جام چکھ کر میں بستر مرگ پر پڑا تھا ۔جب کسی نے میرے اعتبار کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ جب میری محبت اتنی اندھی ہو گئی تھی کہ میں سب کچھ جان بوجھ کر بھی صرف ان ہونٹوں کا جام چکھنے کے لیے پہلی بار اپنی طرف بڑھی اپنی بیوی کو جھٹلا نہ سکا۔ نمل تم نے رستہ اختیار کیا بھی تو کونسا؟
تمہیں پتا تھا کہ میں تمھارا خود کے قریب آنا جھٹلا نہیں پاؤں گا۔اس لیے تم نے اپنے ان حسین ہونٹوں کا زہر مجھے چکھایا۔ مر گیا تھا تمھارا خان اسی دن
اس دن ہوسپٹل سے واپس ایک عاشق ایک شوہر نہیں ایک باپ لوٹا تھا جسے صرف اپنے بچے کی فکر تھی
قیس تو نمل کی باتیں سنتے پھٹ پڑا تھااور نمل ساکت سی قیس کی جانب یک ٹک دیکھتے پیچھے کو ہو رہی تھی اس کے زہن میں قیس کی باتیں گونج رہی تھیں ۔ اتنی نفرت قیس کے الفاظوں کے نشتر اس کی برداشت سے باہر تھے۔اور ایک دم ہواس کھوتے وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔..قیس نمل کو روتا چھوڑ کر کمرے سے باہر جانے لگا ‍اس سے پہلے کے قیس باہر کی جانب بڑھتا نمل نے اس کا بازو پکڑتے اپنے سامنے کیا اور آخری امید کے تحت بولی۔
خان جی آپ ابھی تک اسی بات پر ہیں م ج ھ.. مجھے لگا آپ وہ سب بھول گئے نمل نے کپکپاتی آواز میں کہا تھا
ہاں میں بھول جاتا اگر تم محبت میں میرے قریب آتی پر میں کیا کروں نمل میں کیا کروں تم نے مجھے جیتے جی مار دیا جب مجھے یاد آتا ہے نہ کہ تمھارا وہ میرے قریب آنا شدت دکھانا ایک دھوکا تھا اس کے سوا کچھ بھی نہیں میری بیوی جو اپنی شرم و حیا کی وجہ سے خود کبھی میری طرف بڑھتی نہیں تھی وہ بدلے کی آگ میں اتنی آندھی ہو گئ کہ وہ اپنے وقار سے نیچے آگئی
قیس کی باتیں سن کر نمل کا دل کر رہا تھا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے
خان جی
نمل نے بھیگی آواز میں پکارا تھا
مر گیا تمھارا خان جی
تمھارے ان خوبصورت ہونٹوں کے نشے سے۔
سب مسلہ ان ہونٹوں کا ہیں نہ تو
اب دیکھیں میں کیا کرتی ہوں
نمل نے آگے بڑھتے جلدی سے فروٹ کے پاس چھری پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر کٹ لگایا تھا ۔خون کی ایک تیز دھار اس کے ہونٹوں سے نکلی تھی سرخ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ خون سے بھر چکے تھے
قیس چیختے ہوۓ اس کی جانب بڑھا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ پھر سے وہی عمل دہراتی قیس نے آگے بڑھتے جلدی سے چھری اس کے ہاتھ سے کھینچی تھی۔
ہاؤ ڈیر یو پاگل ہو گئی ہو۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی ۔بتاؤ مجھے کیوں کیا ایسا
قیس نے اسے کندھوں سے جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔لیکن اس کے ہونٹوں سے نکلتا خون قیس کو بے بس کر رہا تھا
قیس نے جلدی سے اسے بیڈ پر بٹھاتے
دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور زخم صاف کرتے اس پر سپرٹ لگایا تھا
نمل کی چیخ نکلی تھی
قیس نے اسے جن نظروں سے گھورا تھا وہ سر جھکا گئی۔پٹی کرتے قیس نے نمل کو کندھوں سے پکڑا اور پھر سے اس سے وہی سوال کیا ۔
ہمت کیسے ہوئ تمھاری خود کو نقصان پہنچانے کی بولو جواب دو۔
میں کہہ رہا ہوں بولو۔ نمل کی خاموشی نے قیس کے غصے کو مزید بھڑکایا۔اور وہ غصے سے پھنکارا۔
خان جی
نمل نے کپکپاتے ہونٹوں سے ہلکے سے لب ہلاۓ تھے
قیس نے جب نمل کو زاروقطار روتے دیکھا تو کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا
سب غلط کرتی ہو پھر ناراض بھی نہیں ہونے دیتی ہو جیسے قیس کا تو کوئی حق نہیں ہے نہ اپنی لیلیٰ پر۔
خان جی لیلی مت کہیں۔ یہ لیلی اپنے قیس سے دوری برداشت نہیں کر پاۓ گی
کبھی معاف نہیں کروں گا کبھی نہیں اس غلطی کے لیے خود کو تکلیف پہنچا کر مجھے جو اذیت دی نہ کبھی معاف نہیں کروں گا۔ قیس نے اس کے پٹی لگے ہونٹوں پر اپنے لب رکھتے دھیرے سے کہا تھا۔
نمل نے بے ساختہ اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔نمل کی نم آنکھیں دیکھ کر قیس کا دل کیا خود کو ختم کر لے جس کی وجہ سے نمل اس حال کو پہنچی تھی۔
نمل سو جاؤ چپ کر کہ ورنہ میں اٹھ کر باہر چلا جاؤں گا۔
قیس کی بات سنتے نمل نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں
قیس کا سال سے چھپا غصہ نکل چکا تھا اب شاید وہ کچھ ٹھنڈا ہو جائے
...💔💔💔...
انابیہ کو مسلسل وومٹ کرتے دیکھ کر بدر پریشان ہو گیا تھا۔انابیہ اور بدر ٹور کے بعد قیس اور بدر کی شہر والی حویلی میں قیام پذیر تھے ۔انابیہ نڈھال سی واش روم سے باہر آئی ۔جب ہنستہ مسکراتا بدر کمرے میں داخل ہوا لیکن انابیہ کی بری حالت دیکھتے اس کی جانب بڑھا تھا۔
بیو میری جان کیا ہوا اس نے جیسے ہی انابیہ کا ہاتھ پکڑا انابیہ نے اسے زور کا دھکا دیا۔
تم تم کمینے انسان یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا....
اماں.....
خود پوری رات مزے لے لے کر سوتے ہو.... اور تو اور صبح کے کہاں دفعہ ہو گۓ تھے۔ آنے دو قیس لالہ کو تمھارے جو نٹ ڈھیلے ہیں نہ میں کسواتی ہوں
انابیہ اسے دھمکی دیتے زاروقطار رونے لگی تھی
بدر تو اس اچانک افتاد ہر بوکھلا گیا۔
بیہ میری جان کیا ہو گیا میرے شونے مونے کو ادھر آو ادھر بیٹھو۔
اچھا نہ میری جان سوری نہ
لالہ نے کام سے بھیجا تھا اسی میں دیر ہو گئ آئی پرومس اب ایسا نہیں کروں گا
آپ کو پتا ہے نہ صبح اگر آپ کو نہ دیکھوں تو میرا دن اچھا نہیں گزرتا
اور آپ مجھے چھوڑ کر چلے گۓ ناشتہ بھی نہیں کروایا۔ سب پتا ہے مجھے اب دل بھر گیا نہ آپ کا مجھ سے۔اب چھوڑنا چاہتے ہو نہ
بیہ...
بدر حیرت سے بیہ کو دیکھ رہا تھا
کیا بیہ
اچھا میلا شونا مونا رونا تو بند کرو نہ
انابیہ نے سوں سوں کرتے بدر کی شرٹ سے ناک صاف کیا تھا
بدر تو ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا تھا
بدر نے جھکتے ہوئے انابیہ کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔ پھر رخسار پر اور پھر اس کی ٹھوڑی پر
انابیہ بلکل ساکت کھڑی اس کے لمس کی حدت اور شدت محسوس کر رہی تھی اور پر سکون ہوتی جا رہی تھی ۔
یہ شخص اس قدر اسے اپنا عادی بنا گیا تھا کہ اس کا نا نظر آنا انابیہ کے لیے سوہان روح بن جاتا تھا۔ وہ غصے سے بھڑک اٹھتی تھی۔
میرا بےبی کیسا ہے
بدر کی بات سنتے انابیہ نے بدر کو نم آنکھوں سے دیکھا تھا
شش میری جان رونا نہیں
اب اگر لالہ مجھے کوئی کام کہیں گے نہ تو میں نے کہنا ہے میری بیوی سے اجازت لے لیں بدر بے آنکھ مارت انابیہ سے کہا تھا۔
سب پتا ہے مجھے جو تم بیوی کے مرید ہو نا۔
آہ میری تو خواہش ہی رہے گی کہ میری بیوی مجھے آپ کہے گی
کیوں بھئی چھوٹے ہو تم مجھ سے بھول جاؤ کہ میں آپ کہوں گی
بدر نے بیہ کو آنکھیں دکھائی تھی
لیکن بیہ اسے ٹھینگا دکھاتی باہر کو بڑھ گئی۔
ناشتہ کرواؤ آ کر مجھے ایک نیا حکم صادر ہوا تھا۔
بدر تو حیرانی سے اس کے انداز دیکھ رہا تھا لیکن پھر خود ہی مسکرا دیا تھا یہ اسی کی محبت کا اعزاز تھا جو وہ اس سے اس قدر لاڈ اٹھواتی تھی
..💞💞💞..
رمل مومنہ خان سے سر میں تیل لگوا رہی تھی جب کوئ آندھی طوفان بنا گھر میں داخل ہوا تھا۔
مورے بابا کہاں ہیں
ملحان نے مومنہ بیگم کی کمر کو دیکھتے سوال کیا تھا
وہ اپنے کمرے میں ہیں۔
کیا ہوا بیٹا اتنی جلدی میں کیوں ہو
آکر بات کرتا ہوں مورے
رمل ملحان کی آواز سنتے اپنے منہ پر دوپٹہ کر چکی تھی
ملحان کو تو اس وقت آگ لگی ہوئی تھی وہ جلدی سے اپنے باپ کے روم کی جانب بڑھا۔
بابا کیا ہے یہ سب ہاتھ میں پکڑا کارڈ اپنے باپ کے سامنے کر کے اس نے پوچھا تھا
حاتم خان کو اندازہ تھا کہ کچھ ایسا ہونے والا ہے
کیا ہے یہ وہ مسکراہٹ چھپا کر بولے تھے
بابا یہ شادی کا کارڈ....
آپ کیسے کر سکتے ہیں ایسا وہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ بابا
ملحان تلخ لہجے میں بولا تھا
کیا ہو گیا یار تمھاری شادی ہی تو کر ریا ہوں میں کونسا اپنے لاڈلے سپوت کو جھیل بھیجھ رہا ہوں جو اتنا بھڑک رہے ہو
اس سے اچھا تھا کہ آپ مجھے جھیل بھیجھ دیتے وہ منظور ہے مجھے
نہ پتر میں نے تو تمہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے تم جھیل کی بات کرتے ہو
بابا پلیز سمجھنے کی کوشش کریں میں نہیں کر سکتا یہ شادی...
اوکے جیسے تمھاری مرضی شادی کے کارڈز بٹ چکے ہیں نہیں کرنا چاہتے تو تمھاری مرضی ہے بیٹا
زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا تمھارے باپ کی انسلٹ ہو جائے گی ٹینشن سے ان کا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔
بابا
ملحان نے تڑپ کر انہیں پکارا تھا
ٹھیک ہے تیار ہوں میں یہ شادی کرنے کے لیے لیکن میں کبھی معاف نہیں کروں گا آپ کو اس کے لیے
کہتے وہ روم سے باہر نکل گیا۔
رمل جو ملحان کے روم میں جاتے ہی اٹھنے لگی تھی
مورے کی قسم پر اپنے جگہ ساکت رہ گئی لیکن منہ سے ڈوپٹہ نہیں ہٹایا تھا
تبھی اندر روم سے آنے والی آوازیں رمل کو ساکت کر گئیں۔
ملحان کا اپنے باپ سے شادی کی حامی بھرنا اس کی جان نکال گیا تھا
تبھی وہ جھٹکے سے باہر آیا تھا
مورے آپ دیکھ لیں بابا سائیں کے کام
وہ چلتا ہوا رمل کے قریب نیچے صوفے ہر بیٹھ کر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ چکا تھا
رمل جلدی سے پیچھے ہوئی منہ پر ریشمی دوپٹہ ہونے کی وجہ سے ملحان تو اسے دیکھ نہیں پایا تھا
لیکن رمل باخوبی ملحان کی آنکھوں میں چھائی نمی دیکھ رہی تھی
اس کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا
مورے سمجھائیں نہ بابا کو ملحان مر جائے گا مورے اپنی رمل کے بغیر...
نہیں جی سکتا میں اس کے بغیر... آج ایک سال 1 ہفتہ 8 گھنٹے اور پتا نہیں کتنے منٹ ہو گئے ہیں مجھے اس سے بچھڑے ہوئے ماں
میری کیا خطا تھی.. مجھے لگا پوری دنیا میرے خلاف ہو جائے لیکن میری رمل مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گی لیکن مورے وہ مجھے چھوڑ گئی اکیلا کر گئ
قیس لالہ نے مجھے بہت کہا کہ میں رمل کو بتا دوں وہ سب ڈرامہ تھا سب قیس لالہ نے کیا تھا میں تو بس اپنا نام لے کر وہاں ہیرو بن رہا تھا تا کہ رمل کے بابا میری اور رمل کی شادی میں کوئی روکاٹ نہ ڈالیں لیکن مورے سب بگڑ گیا
کیا کہا تم نے قیس لالہ کہاں ملے تم قیس سے بتاؤ مجھے ملحان۔
مورے.. لالہ کافی بار ملحان بن کر آپ سے ملنے آچکے ہیں
بہت بار...
میں جب جب کہیں آپ سے دور ہوتا تو لالہ ہی گھر آتے آپ سے لاڈ اٹھوتے لیکن انہوں نے کبھی آپ کو شک نہیں ہونے دیا مورے آپ کی جدائی میں قیس لالہ بہت تڑپے ہیں مورے۔ پھر مجھ سے ملنے کے بعد وہ اکثر یہاں آنے لگے

کیا میرا قیس یہاں آتا رہا مجھے بتایا کیوں نہیں ماں صدقے جائے
رمل تو یہ سن کر کہ ملحان نے وہ سب ہیرو بننے کے لیے کیا وہ ساکت تھی ۔

مطلب اس نے ملحان کو دوری کا عذاب چھکا کر اچھا نہیں کیا تھا تو جلدی سے اٹھتے اپنا دوپٹہ منہ سے اتارتے بھاگی تھی ۔ملحان نے جب تک مڑ کر دیکھا وہ غائب ہو گئی تھی۔

اس کے قد کاٹھ سے ملحان کو لگا کہ وہ رمل ہے لیکن بال...
ملحان نے سر جھٹکا تھا
مورے میں آپ کو قیس لالہ سے ملواتا ہوں۔

اہ بس بابا سے کہیں مجھے رمل کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرنی
کمرے میں جاتے رمل بیڈ پر گرتے زاروقطار روئی تھی اس کی ایک غلط فہمی نے دوریاں بڑ ھا دی تھیں
آئی ایم سوری حان

آئی ایم سوری
آزان کی آواز سنتے اس نے جلدی سے دوپٹہ سر پر اوڑھا تھا
آذان کے ہر ایک فقرے کا دل سے جواب دیتے وہ آنکھیں بند کر گئی

آزان کے بعد کی دعا پڑھ کر درود پاک پڑھنا اس کا معمول تھا
معمول کے مطابق اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے اور آج سال بعد اپنا اور ملحان کا ساتھ مانگا تھا

ملحان بیٹا آپ پریشان نہ ہو میں بابا سے بات کرتی ہوں اور آج آپ کہیں نہیں جا رہے آپ اب سے گھر ہی رہو گے
کچھ سوچتے ہوۓ انہوں نے فیصلہ کیا تھا
........

Want your business to be the top-listed Shop in Dubai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Dubai