Muhammad Shahjahan Leghari

Muhammad Shahjahan Leghari

Share

12/08/2025

بابری مسجد — ایک مختصر تاریخ 🔥
بات ہے سنہ ۱۵۲۸ء کی، جب ہمارے ملک ہندوستان میں مغلیہ سلطنت ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں فیض آباد کے علاقے میں ایودھیا نامی ایک شہر تھا، جسے آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ وہاں مسلمان اچھی تعداد میں رہتے تھے، اسی بنا پر اُس وقت کی حکومت نے اس شہر میں ایک جامع مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ مسلمانوں کو عبادت کے لیے دور دراز علاقوں میں نہ جانا پڑے۔ چنانچہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے سپہ سالار میر باقی نے ایودھیا میں ایک جامع مسجد تعمیر کروائی، جو بابری مسجد کے نام سے مشہور ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ ۱۵۲۸ء سے ۱۸۵۷ء تک تقریباً تین سو سال یہ مسجد مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضے میں رہی۔ لیکن جب برطانوی حکومت نے ہندوستان پر قبضہ جمایا تو حالات تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔ تاریخ دانوں کے مطابق برطانوی دور سے قبل اس مسجد کے سلسلے میں کوئی قابلِ ذکر جھگڑا نہیں ملتا۔
سنہ ۱۸۵۹ء میں انگریزوں نے مسجد کے صحن کو ہندوؤں کے لیے اور اندرونی حصہ مسلمانوں کے لیے مختص کر دیا۔ بظاہر یہ فیصلہ انتشار روکنے کے لیے تھا، مگر حقیقت میں یہی اختلافات کی بنیاد بن گیا۔ پھر ۲۲ یا ۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ء کی رات مسجد کے اندرونی حصے میں مورتیوں کو رکھ دیا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی اور شدید کشیدگی اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومتِ ہند نے مسجد پر تالہ لگا دیا، کیونکہ اب یہ معاملہ ایک بڑے مذہبی تنازعے میں تبدیل ہوچکا تھا، اور اگر اسے نہ روکا جاتا تو بے شمار جانوں کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔

سنہ ۱۹۵۰ء سے اس معاملے میں مختلف مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ۱۹۸۶ء میں عدالت نے ہندو فریق کے حق میں فیصلہ دے کر مسجد کا تالا کھلوا دیا، تاہم مسلمان فریق نے اسے غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز بلند رکھی۔ بالآخر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کا وہ المناک دن آیا جب شدت پسند ہندو تنظیموں نے دوپہر کے وقت بابری مسجد کو منہدم کردیا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں شدید فسادات پھوٹ پڑے اور ہندو مسلم تعلقات پر گہرا اثر پڑا۔

بعد ازاں مقدمہ الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچا، اور سنہ ۲۰۱۰ء میں عدالت نے جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا:
۱. رام للا — جو اس جگہ کو رام کی جائے پیدائش مانتے تھے۔
۲. نرموہی اکھاڑا — جو خود کو اس مقام کا منتظم اور متولی قرار دیتے تھے۔
۳. سنی وقف بورڈ — جو اس جگہ کو مسجد اور ہمیشہ سے مسلمانوں کی ملکیت مانتے آئے تھے۔

تمام فریق اس فیصلے سے مطمئن نہ ہوئے اور معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔ ۹ نومبر ۲۰۱۹ء کو سپریم کورٹ نے مکمل زمین ہندو فریق کے حوالے کر دی اور مسلمانوں کو متبادل کے طور پر پانچ ایکڑ زمین مسجد کی تعمیر کے لیے دینے کا حکم دیا۔ اسی فیصلے کے تحت اس جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔

یہ ایک طویل تاریخی سفر تھا، جس میں کئی آزمائشیں اور فیصلے سامنے آئے۔
اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہماری مساجد، معابد، مکاتب اور مدارس کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Seattle?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Seattle, WA