Swad wow
ایک نئی غزل۔
جو موجِ درد مجھے دینے مات نکلی تھی
حیات ہی کی طرح بے ثبات نکلی تھی
نہ شہ ملے نہ ستمگر ہو بے دلی کا شکار
سو آہ دل سے بصد احتیاط نکلی تھی
کمالِ نور جتانے کو سحر پھوٹی ہے
جمال نور دکھانے کو رات نکلی تھی
میں لوٹ آیا وہ سورج کی لو میں ڈوب گئی
جو سحر, صبح مرے ساتھ ساتھ نکلی تھی
وہ اتنی رنگ برنگی قبا میں تھا ملفوف
تمام رنگ اتارے تو ذات نکلی تھی
کیا ہے شاہ سلامت نے حشر کا ساماں
کسی کے مونہہ سے قیامت کی بات نکلی تھی
خدا ہی جانے صبا اور کیا سخن میں ہو
دو حرفِ کُن سے نری کائنات نکلی تھی
08/20/2020
کہیں بھی اے دلِ بیزار آنا جانا نہیں
ٹھکانے ایسے لگے ہیں کوئی ٹھکانا نہیں
یہ کیا کہ ہاتھ جھٹک کر چلے گئے تم بھی
وہ پہلے جیسی مروت نہیں، بہانا نہیں
سفید پوشی میں اکثر گماں یہ رہتا ہے
کہ پارسائی میں ہم سا کوئی گھرانا نہیں
کرو قبول مری ارتقا کے ساتھ مجھے
گزر رہا ہوں میں، گزرا ہوا زمانہ نہیں
یہ تیرا طرزِ مساوات ماورائے دلیل
اے ناخدا یہ تساہل ہے کارنامہ نہیں
گرا جو پیڑ صبا سب زمیں پہ آئیں گے
بلندیوں میں بھی محفوظ آشیانہ نہیں
۔۔۔۔۔۔ صبا واسطی ۔۔۔۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.