Islamic World

Islamic World

Share

23/06/2026

23/06/2026

*وہ ہر جمعہ رات گیارہ بجے اسپتال آتا تھا۔*

نہ اس کے جسم پر کوئی تازہ زخم ہوتا، نہ ہاتھ میں کوئی پرچی..

بس ایک ہی سوال:

“بیٹی، کچھ صاف پٹیاں مل جائیں گی؟” 💔💔

میرا نام حمیرا ہے۔

میں راولپنڈی کے ایک بڑے سرکاری اسپتال کے ہنگامی وارڈ میں رات کی نرس ہوں۔

رات کا اسپتال عجیب جگہ ہوتا ہے۔

دن میں لوگ علاج کے لیے آتے ہیں، رات میں اکثر لوگ ٹوٹ کر آتے ہیں۔ 😔

کبھی حادثے کا مریض، کبھی بخار میں جلتا بچہ، کبھی سانس کے لیے لڑتا بوڑھا، کبھی ایسی ماں جس کے چہرے پر نیند نہیں، صرف دعا ہوتی ہے۔

اسی رات کی دنیا میں رحمت بھی آیا کرتا تھا۔ 🌙

پہلی بار جب وہ آیا، میں نے اسے عام بے گھر آدمی سمجھا۔

پرانا کوٹ، پھٹے ہوئے جوتے، بکھری داڑھی، تھکی ہوئی آنکھیں۔

وہ کاؤنٹر کے پاس آ کر آہستہ سے بولا:

“کچھ صاف پٹیاں، روئی اور جراثیم کش دوا مل سکتی ہے؟” 🩹

میں نے پوچھا:

“چوٹ کہاں لگی ہے؟”

اس نے اپنے دونوں ہاتھ دکھائے۔

ہاتھ کھردرے تھے، پرانے نشان بھی تھے، مگر اس وقت کوئی نیا زخم نہیں تھا۔

“مجھے نہیں لگی، بیٹی۔”

“تو پھر کس کے لیے چاہیے؟”

اس نے کندھے پر پڑا تھیلا ذرا سا سنبھالا۔

“لوگوں کے لیے۔” ❤️

“کون لوگ؟”

“میرے جیسے۔ جو سڑک پر رہتے ہیں۔”

اس رات وارڈ میں بہت رش تھا۔

میرے پاس زیادہ سوال کرنے کا وقت نہیں تھا۔

میں نے اسے چند پٹیاں، تھوڑی روئی، مرہم اور جراثیم کش محلول کی چھوٹی بوتل دے دی۔ 🩹

وہ چیزیں اس نے ایسے احتیاط سے تھیلے میں رکھیں جیسے کوئی قیمتی امانت رکھتا ہے۔

“اللہ آسانی دے، بیٹی۔”

اور چلا گیا۔ 🤲

اگلے جمعہ وہ پھر آیا۔

پھر اس سے اگلے جمعہ۔

پھر ہر جمعہ۔

وقت بھی وہی۔

رات گیارہ بجے۔

سوال بھی وہی۔

“کچھ صاف پٹیاں مل جائیں گی؟” ⏰

آہستہ آہستہ مجھے اس کی عادت ہو گئی۔

میں جمعہ کی رات پہلے سے ایک چھوٹا سا لفافہ بنا کر رکھ دیتی۔

وہ آتا، سلام کرتا، لفافہ لیتا، دعا دیتا اور چلا جاتا۔ 😊

نہ زیادہ مانگتا۔

نہ اپنی کہانی سناتا۔

نہ کبھی کسی سے بحث کرتا۔

ایک رات میں نے پوچھ لیا:

“رحمت بابا، آپ واقعی یہ سامان دوسروں کے لیے لے جاتے ہیں؟” 🤔

اس نے اپنا نیلا تھیلا کھولا۔

اندر چھوٹی چھوٹی تھیلیاں رکھی تھیں۔

ہر تھیلی میں الگ پٹی، روئی، مرہم، کوئی صاف کپڑا۔

ایک تھیلی پر پنسل سے لکھا تھا:

“پل والا لڑکا” ✍️

دوسری پر:

“بس اڈے والی اماں”

تیسری پر:

“صفیہ”

میں نے حیرت سے پوچھا:

“یہ سب کون ہیں؟” 😳

وہ بولا:

“وہ لوگ جو اسپتال نہیں آتے۔ کبھی ڈر سے، کبھی شرم سے، کبھی کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے۔ کسی کے پاؤں میں کیل چبھ جاتی ہے، کسی کے ہاتھ میں شیشہ، کسی کا پرانا زخم دوبارہ کھل جاتا ہے۔ چھوٹی پٹی وقت پر مل جائے تو زخم بگڑتا نہیں۔”

میں نے اس دن پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔

وہ بے گھر تھا، مگر بے مقصد نہیں تھا۔ ❤️

پھر ایک دن انتظامیہ کو پتا چل گیا۔

صبح مجھے نرسنگ انچارج نے بلایا۔

“حمیرا، یہ جو تم رات کو ایک آدمی کو سامان دیتی ہو، یہ بند کرو۔”

میں نے کہا:

“وہ ضرورت مند لوگوں کے لیے لے جاتا ہے۔”

انہوں نے صاف جواب دیا:

“اسپتال کا سامان ایسے نہیں دیا جا سکتا۔ مریض ہو تو علاج ہو گا، مریض نہیں تو supplies نہیں ملیں گی۔” ⚖️

میں خاموش ہو گئی۔

نوکری میں ہر بات کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔

اگلے جمعہ رحمت بابا آئے تو میرے ہاتھ خالی تھے۔

انہوں نے حسب معمول کہا:

“بیٹی، کچھ پٹیاں مل جائیں گی؟”

میں نے شرمندگی سے کہا:

“بابا، اب نہیں دے سکتی۔ اوپر سے منع ہو گیا ہے۔ جب تک مریض خود زخمی نہ ہو، سامان نہیں مل سکتا۔” 💔

وہ کچھ لمحے خاموش رہے۔

پھر بہت آہستہ سے بولے:

“اچھا۔”

نہ شکوہ، نہ ناراضی۔

بس سر جھکا کر چلے گئے۔ 😞

مجھے لگا شاید اب وہ نہیں آئیں گے۔

مگر اگلے جمعہ میری چھٹی تھی۔

رات کو میری ساتھی نبیلہ کا پیغام آیا:

“وہی بابا آئے تھے۔ اس بار بازو پر تازہ کٹ تھا۔ میں نے پٹی کر دی۔ جاتے ہوئے کچھ اضافی پٹیاں بھی مانگیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ زخم بالکل نیا لگ رہا تھا۔” 📱

میں دیر تک فون دیکھتی رہی۔

دل کو جو بات سمجھ آ گئی تھی، دماغ اسے ماننا نہیں چاہتا تھا۔

اگلے ہفتے میں نے رحمت بابا کو اسپتال کے سامنے والی بند دکان کے پاس بیٹھا دیکھا۔

بازو پر پٹی بندھی تھی۔

چائے کا کپ ہاتھ میں تھا، مگر چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ ☕

میں اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

“بابا، یہ زخم کیسے لگا؟”

وہ نظریں چرانے لگے۔

میں نے سختی سے پوچھا:

“آپ نے خود کو کاٹا تھا؟”

وہ چپ رہے۔

کبھی کبھی خاموشی ہی جواب ہوتی ہے۔ 😔

میرے اندر غصہ بھی تھا اور دکھ بھی۔

“آپ نے ایسا کیوں کیا؟”

انہوں نے آہستہ سے کہا:

“تم نے کہا تھا زخمی ہو گا تو پٹیاں ملیں گی۔”

میرے پاس جواب نہیں تھا۔

وہ اپنے تھیلے کی طرف دیکھتے ہوئے بولے:

“بیٹی، میرا کٹ دو دن میں بھر جائے گا۔ مگر صفیہ کا زخم اگر خراب ہو گیا تو وہ چل نہیں پائے گی۔ بس اڈے والی اماں کے گھٹنے میں پیپ ہو جائے تو کون اسے اٹھا کر لائے گا؟ پل والے بچے کے پاؤں میں کیل چبھ جائے تو وہ مزدوری کیسے کرے گا؟” 💔

میں نے کہا:

“مگر اپنے آپ کو زخمی کرنا کوئی حل نہیں۔”

وہ بولا:

“مجھے بھی معلوم ہے۔ مگر جب راستہ بند ہو جائے تو آدمی غلط دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔”

اس جملے نے مجھے اندر تک کاٹ دیا۔ 🥹

اگلی صبح میں نرسنگ انچارج کے کمرے میں گئی۔

میں نے سب کچھ بتا دیا۔

رحمت بابا کا زخم۔

اس کا تھیلا۔

وہ لوگ جن کے نام کسی رجسٹر میں نہیں تھے مگر اس کے تھیلے میں لکھے ہوئے تھے۔ 📋

انچارج پہلے خاموش رہیں۔

پھر بولیں:

“حمیرا، اسپتال اصول سے چلتا ہے۔”

میں نے کہا:

“جی، مگر اگر اصول کی وجہ سے کوئی آدمی پٹیاں لینے کے لیے خود کو کاٹ لے تو پھر اصول میں کچھ کمی ہے۔” ⚖️

کمرے میں خاموشی ہو گئی۔

اس دن کوئی فوری فیصلہ نہیں ہوا۔

مگر بات رکی نہیں۔

دو دن بعد انتظامیہ نے سماجی بہبود والے شعبے سے بات کی۔

کاغذ بنے۔

اجازت لی گئی۔

اور پھر ایک چھوٹا سا طریقہ نکل آیا۔ 🤝

اب ہر جمعہ رات ایک چھوٹا امدادی تھیلا تیار ہوتا۔

اس میں صاف پٹیاں، روئی، مرہم، جراثیم کش کپڑے اور دستانے ہوتے۔

رجسٹر میں لکھا جاتا:

“سڑک پر رہنے والے افراد کے لیے ابتدائی امداد” 🩹

رحمت بابا آتے، انگوٹھا لگاتے، تھیلا لیتے اور چلے جاتے۔

اس بار زخمی ہوئے بغیر۔

پہلی رات جب میں نے وہ تھیلا ان کے سامنے رکھا تو وہ کافی دیر اسے دیکھتے رہے۔ ❤️

“یہ سب مجھے دے رہی ہو؟”

میں نے کہا:

“آپ کو نہیں، آپ کے لوگوں کو۔”

ان کی آنکھیں بھر آئیں، مگر انہوں نے آنسو پونچھ لیے۔

“اللہ تمہیں سلامت رکھے، بیٹی۔” 🤲

میں نے ان کا بازو دیکھا۔

“پہلے اپنی پٹی بدلوا لیں۔”

وہ بچے کی طرح خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئے۔ 😊

میں نے پرانی پٹی کھولی۔

زخم بھر رہا تھا، مگر نشان رہ جانا تھا۔

مجھے لگا یہ نشان صرف ان کے بازو پر نہیں، ہمارے نظام پر بھی ہے۔ 💭

اس کے بعد رحمت بابا ہر جمعہ آتے رہے۔

کبھی بتاتے:

“پل والے لڑکے کا پاؤں بہتر ہے۔”

کبھی کہتے:

“صفیہ اب زخم چھپاتی نہیں۔”

کبھی کسی کو ساتھ لے آتے:

“اسے ڈاکٹر کو دکھا دو، یہ پٹی سے ٹھیک نہیں ہو گا۔” 🏥

آہستہ آہستہ وارڈ کے لوگ بھی انہیں پہچاننے لگے۔

کوئی انہیں “رحمت بابا” کہتا، کوئی “پٹی والے بابا”۔

وہ ہر بار ہنس کر کہتے:

“نام سے کیا ہوتا ہے، بس زخم گندا نہ رہ جائے۔” ❤️

کچھ مہینوں بعد ایک فلاحی ادارے نے انہیں ایک چھوٹا سا کمرہ دلوا دیا۔

لوہے کا بستر، پنکھا، ایک کھڑکی، اور دروازہ جسے وہ اندر سے بند کر سکتے تھے۔

میں نے ایک دن کہا:

“بابا، اب تو آپ کو آرام کرنا چاہیے۔ چھت مل گئی ہے۔”

وہ مسکرائے۔

“چھت ملنے سے آدمی وہ سڑکیں نہیں بھولتا جہاں اس نے بارش کاٹی ہو۔” 🌧️

میں خاموش ہو گئی۔

کچھ جملے جواب کے لیے نہیں ہوتے۔

وہ دل میں رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ 🤍

آج بھی جمعہ کی رات اسپتال میں ایک چھوٹا تھیلا تیار ہوتا ہے۔

رحمت بابا اب پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔

کبھی خود آتے ہیں، کبھی کسی لڑکے کو بھیج دیتے ہیں۔

مگر تھیلا جاتا ضرور ہے۔ 🩹

اس تھیلے میں بہت قیمتی چیزیں نہیں ہوتیں۔

بس چند صاف پٹیاں، تھوڑی روئی، مرہم، دستانے۔

مگر سڑک پر یہ چھوٹی چیزیں کبھی بڑے زخم کو بگڑنے سے بچا لیتی ہیں۔ ❤️

میں نرس ہوں۔

میں نے بہت زخم دیکھے ہیں۔

حادثوں کے، بیماریوں کے، غربت کے، لاپروائی کے۔

مگر رحمت بابا نے مجھے ایک اور زخم دکھایا۔ 💔

وہ زخم جو تب بنتا ہے جب کسی ضرورت مند سے کہا جائے:

“پہلے ثابت کرو کہ تم واقعی زخمی ہو۔”

وہ ہر جمعہ پٹیاں لینے آتا تھا۔

ہم سمجھتے رہے وہ مانگنے آتا ہے۔

اصل میں وہ ہمیں یاد دلانے آتا تھا کہ رحم صرف بڑے کاموں کا نام نہیں۔ 🌹

کبھی کبھی رحم ایک صاف پٹی ہے۔

ایک چھوٹی سی مرہم ہے۔

ایک تھیلا ہے جو کسی ایسے آدمی کے ہاتھ میں دے دیا جائے جس کے پاس اپنا گھر نہیں، مگر دوسروں کے زخم یاد رکھنے کا حوصلہ ہے۔ 🤲

رحمت بابا نے ایک بار مجھ سے کہا تھا:

“بیٹی، زخم سب کے ہوتے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی کا زخم نظر آ جاتا ہے، کسی کا نہیں۔”

تب سے میں ہر جمعہ رات جب وہ تھیلا تیار کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے، میں صرف پٹیاں نہیں رکھ رہی۔ ❤️

میں انسانیت کا ایک چھوٹا سا حصہ تہہ کر کے رکھ رہی ہوں۔

تاکہ کسی رحمت کو دوبارہ یہ نہ سوچنا پڑے کہ دوسروں کے زخم بچانے کے لیے پہلے خود کو زخمی کرنا ضروری ہے۔

منقول

─────••●◎●••─

23/06/2026

بارش ہونے سے موسم اچھا ہوتا ہے
محمدؐ لکھنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔♥️

23/06/2026

"تمام کام چھوڑ کر
محمد ﷺ
لکھو دل سے

23/06/2026

I got over 100 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

23/06/2026

اگر اپ اللہ سے محبت
کرتے ہیں تو اللہ لکھیے۔

22/06/2026

نیا کی سب سے بہترین تصویر
#فوٹوگرافی کی تاریخ
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
اس نے دو اہم اصولوں کو دریافت کرکے شروع کیا: پہلا کیمرے کی ڈارک تصویر گرانا، اور دوسرا یہ کہ دریافت کرنا کہ روشنی کی نمائش کی وجہ سے کچھ مواد واضح طور پر تبدیل کردیا گیا ہے[2]۔ کوئی نمونے یا وضاحت اٹھارویں صدی سے پہلے کے ہلکے حساس مواد کی تصویر کشی کرنے کی کسی بھی کوشش کی نشاندہی نہیں کرتی ہے۔
لی گراسس 1826 یا 1827 کی کھڑکی سے منظر ، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم زندہ بچ جانے والی کیمرہ تصویر ہے۔ [1] اصل (بائیں) اور رنگین (دائیں) ری ڈائریکشن کی بہتری۔
1717 کے قریب، جوہان ہینرچ سکولزی نے ہلکی حساس مٹی کا استعمال کرتے ہوئے بوتل پر کٹ خطوط کی تصاویر کھینچیں۔ تاہم، اس نے ان نتائج کو مستقل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے. 1800 کے قریب ، تھامس ویڈگووڈ نے کیمرہ کی تصاویر کو مستقل شکل میں کیپچر کرنے کی ناکام کوشش کے باوجود پہلی قابل اعتماد دستاویز بنائی۔ ان کے تجربات میں تفصیلی تصاویر آئیں، لیکن ووڈ اور ان کے معاون ہمفری ڈیوی کو ان تصاویر کو درست کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ملا۔
1826 میں ، نیکپس نے سب سے پہلے کیمرے سے لی گئی تصویر کی مرمت کی ، لیکن کیمرے کی نمائش کے کم از کم آٹھ گھنٹے یا اس سے بھی کئی دن درکار تھے اور ابتدائی نتائج کافی خطرناک تھے۔ نپسی ایسوسی ایٹ لوئس ڈاگوری نے پہلا تجارتی طور پر اشتہار دیا فوٹو گرافی آپریشن ڈاگوریوٹائپ تیار کرنے کے لئے آگے بڑھا ہے۔ ڈگوریوٹی ماڈل نے کیمرے کی نمائش کے صرف چند منٹ لگے ، جس میں واضح اور درست نتائج سامنے آئے۔ 2 اگست 1839 کو ڈگویئر نے پیرس میں پیرس کے کمرے کے آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔ 19 اگست کو قصر المہد میں اکیڈمی آف سائنسز اور اکیڈمی آف فائن آرٹس کے اجلاس میں فنکارانہ تفصیلات شائع کی گئیں (عوام کو ایجادات کے حقوق دلانے کے لئے خنجر اور نیب کو سالانہ فراخ زندگی کا تحفہ دیا گیا) )[3][4][5] جب دھات کے پیٹرن کا عمل سرکاری طور پر عوام کو دکھایا گیا تو یہ حریف کا نقطہ نظر تھا

21/06/2026

یااللہ
د چا چی د عمری ارادہ وی
ارمان ئی پورا کی
آمین

21/06/2026

غلطیاں آپکو سمجھدار بناتی ہیں اور درد آپکو مضبوط بناتے ہیں۔ ❤️ 💯

20/06/2026

جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

King Abdul Aziz
Riyadh