Islamic World

Islamic World

Share

25/04/2026

بے شک

24/08/2025

میں نے خود کو چنا تو بہت سے رشتے ختم ہوگئے۔🌸🖤

24/08/2025

Everyday you didn't given up is the day you win....

24/07/2025

وہ ایک بلند و بالا خوبصورت، نیلے سرمئی شیشوں سے ڈھکی عمارت تھی۔ اس کے اوپر بڑا سا ستارہ اوراطراف میں چھوٹے ستارے بنے تھے۔ بڑے ستارے کے اوپر ’’Cevahir Mall‘‘ لکھا تھا، اور جہان ترکوں کی طرح ’’سی‘‘کو ’’جے ‘‘پڑھ رہا تھا۔

’’یہ جواہرمال ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا اور دنیا کا چھٹا بڑا شاپنگ مال۔‘‘ وہ فخر سے بولاتھا۔
جواہر اندر سے بھی اتنا ہی عالیشان تھا۔ سفید ٹائلوں سے چمکتے فرش ،اوپر تک نظر آتی پانچوں منزلوں کے برآمدے ، اورہر مال کی طرح وہ درمیان سے کھوکھلا تھا۔ عین وسط میں اونچے کھجورکے درخت ٹاورز کی طرح لگے تھے ، اور یہ روشنیوں و قمقموں سے مزین ٹاورز پانچویں منزل کی چھت تک جاتے تھے۔

وہ مسحور سی گردن اٹھائے اوپر پانچوں منزلوں کی بالکونیاں دیکھ رہی تھی، جہاں انسانوں کا ایک بے فکر، ہنستا مسکراتا ہجوم ہر سو بکھرا تھا۔رنگ، خوشبو، امارت، چمک ۔۔۔آہ۔۔۔وہ یورپ تھا۔

20/07/2025

جب بیوی کسی اور سے دل لگا بیٹھے یہ صرف غلطی نہیں اکثر ایک خاموش فریاد ہوتی ہے

رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ شوہر بستر پر کروٹیں بدل رہا تھا جبکہ بیوی اپنے موبائل کی روشنی میں بیٹھی ہنس رہی تھی۔ وہ ہنسی کچھ الگ سی تھی جیسے برسوں سے چھپی ہو۔ اسکرین پر ایک میسج چمک رہا تھا "تمہاری باتوں سے سکون آتا ہے۔"اگلے لمحے وہ چیٹ ڈیلیٹ کر دی گئی۔ شوہر کی آنکھیں بند تھیں، مگر شاید دل جاگ چکا تھا۔

کئی بار عورت کسی غیر مرد سے بات اس لیے نہیں کرتی کہ وہ شوہر سے بددل ہو گئی ہو بلکہ اس لیے کرتی ہے کہ وہ خود کو کھو چکی ہوتی ہے۔ وہ جذبات جو کبھی شریکِ حیات کے ساتھ ہوا کرتے تھے اب کسی اور کے ساتھ بانٹے جا رہے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام بات لگتی ہے کیونکہ نہ کوئی جسمانی تعلق ہے نہ کھلی بے وفائی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جذباتی حدود عبور ہو چکی ہوتی ہیں۔

جب عورت کسی غیر مرد سے acceptance، دلچسپی یا توجہ پاتی ہے تو دماغ میں dopamine خارج ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل خوشی اور نرمی کا احساس پیدا کرتا ہے جو ایک لت بن سکتا ہے۔ وہ لمحاتی خوشی جو کسی کے "تم خاص ہو" جیسے جملے سے حاصل ہو وہ اکثر بار بار دہرائی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔

اکثر عورتیں یہ باتیں خود کو درست ثابت کرنے کے لیے کہتی ہیں: "میں تو بس بات کر رہی ہوں"، "میرے شوہر کو پرواہ ہی کب ہے"یا "یہ صرف پرانا دوست ہے"۔ یہ جملے بظاہر بے ضرر ہوتے ہیں، مگر درحقیقت ضمیر کو سلانے کا ایک عمل ہوتے ہیں۔ اندر کہیں نہ کہیں وہ جانتی ہوتی ہے کہ یہ عمل شوہر کے اعتماد کے خلاف ہے، لیکن وہ جذباتی خلا کو بھرنے کے لیے خود کو بہلا رہی ہوتی ہے۔

یہ سوال کہ کیا یہ دھوکہ ہے اس کا جواب صرف جسمانی تعلق سے نہیں جُڑا۔ اگر کسی رشتے میں ایسی باتیں چھپائی جا رہی ہوں موبائل چیٹس ڈیلیٹ کی جا رہی ہوں اور دل میں کشش محسوس کی جا رہی ہو تو یہ مکمل طور پر جذباتی بے وفائی کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی بے وفائی جو اکثر جسمانی دھوکے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ رشتے کی بنیاد یعنی اعتماد کو توڑتی ہے۔

بیوی اگر کسی اور کے لفظوں میں راحت پانے لگے اور شوہر کی موجودگی خاموشی میں بدل جائے تو یہ ایک بہت بڑی علامت ہے کہ رشتہ صرف چل رہا ہے زندہ نہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ جذباتی سچائی کو تسلیم کیا جائے نہ کہ اسے وقتی خوشی کے پردے میں چھپایا جائے۔

حل کی طرف بڑھنا بھی ضروری ہے۔ سب سے پہلے عورت کو اپنے اندر کے خلا کو پہچاننا ہو گا۔ پھر ایمانداری سے یہ طے کرنا ہو گا کہ یہ خلا شوہر کے ساتھ بات چیت، قربت، اور رشتے کی مرمت سے بھر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر رشتہ واقعی زہریلا ہو چکا ہے تو دوغلے جذبات رکھنے کے بجائے سچائی اور boundaries کے ساتھ کوئی فیصلہ کرنا بہتر ہے۔

کبھی کسی اور کے "سن رہا ہوں" میں وہ سکون ملتا ہے جو اپنے شوہر کے "اب کیا مسئلہ ہے؟" میں کھو چکا ہوتا ہے۔ لیکن جو سکون چھپ کر ملے وہ روح کو سکون نہیں دیتا۔ وہ بےچینی پیدا کرتا ہے جو وقت کے ساتھ رشتے کو کھوکھلا اور انسان کو تنہا کر دیتا ہے۔

اگر آپ کے دل کی مسکراہٹ کسی اور کے لفظوں پر ہے تو لمحہ حاضر ہے کہ آئینہ دیکھا جائے۔ الزام دینے یا شرمندگی میں دبنے کے بجائے، ایمانداری سے یہ سوال پوچھنا چاہیے:
کیا میرا رشتہ مر چکا ہے؟
یا میں نے اسے زندہ رکھنے کی آخری کوشش چھوڑ دی ہے؟

اکثر بے وفائی ایک جرم نہیں ہوتی، بلکہ ایک چیخ ہوتی ہے — جو وقت پر سنی جائے تو رشتہ بچ سکتا ہے۔

ماہر نفسیات سعدیہ

17/07/2025
17/07/2025

میں نے ایک بار ایک بہت کامیاب خاتون سے ان کی کامیابی کا راز پوچھا۔ وہ مسکرائیں اور مجھ سے کہنے لگیں…
"میں نے اس وقت کامیاب ہونا شروع کیا جب میں نے چھوٹی لڑائیاں چھوٹے لوگوں کے لیے چھوڑ دیں۔
میں نے ان لوگوں سے لڑنا چھوڑ دیا جو میری غیبت کرتے تھے…
میں نے اپنے سسرال والوں سے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے توجہ کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے بے حس لوگوں سے اپنے حقوق کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے سب کو خوش کرنے کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے یہ ثابت کرنے کے لیے لڑنا چھوڑ دیا کہ وہ میرے بارے میں غلط تھے….
میں نے ایسی لڑائیاں ان لوگوں کے لیے چھوڑ دیں جن کے پاس لڑنے کے لیے اور کچھ نہیں…
اور میں نے اپنے وژن، اپنے خوابوں، اپنے خیالات اور اپنی تقدیر کے لیے لڑنا شروع کیا۔
جس دن میں نے چھوٹی لڑائیوں سے کنارہ کشی اختیار کی، وہ دن میری کامیابی اور سکون کا آغاز تھا۔"
کچھ لڑائیاں آپ کے وقت کے قابل نہیں ہوتیں…. سمجھداری سے انتخاب کریں کہ آپ کس کے لیے لڑیں۔❤️

15/07/2025

وہ شخص جو میں کبھی تھا، اب وجود نہیں رکھتا۔

15/07/2025

اکثر جب راستے دھندلا جائیں، جب خواب بکھرتے محسوس ہوں،
تو یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید ہم کھو گئے ہیں…
لیکن حقیقت یہ ہے کہ قدرت ہمیں اس جگہ سے ہٹا رہی ہوتی ہے جہاں ہمارا مقام نہیں۔

یہ گمراہی نہیں، رہنمائی کا آغاز ہوتا ہے۔

تمہارے قدموں کی لڑکھڑاہٹ دراصل تمہیں اُس راستے پر ڈال رہی ہے،
جہاں تمہاری اصل روشنی، اصل کامیابی، اور اصل سکون چھپا ہے۔
💫 اللہ جب کچھ چھینتا ہے، تو وہ اکثر وہ چیز دیتا ہے جس کا ہم نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوتا۔

14/07/2025

میں نے اپنی زندگی میں....!!🥀
وہ ساری باتیں تسلیم کی ہیں....!!
جن پر ماضی میں....!!
"میں نہیں مان سکتی" کا لیبل لگایا کرتی تھی....!!
میں نے زندگی میــــں بہت کچھ ایسا کھونے پر....!!
واویلا اور اودھم مچا کے دیکھا ھے....!!
جس کے بغیر "میں زندہ ہی نہیں رہ سکتی" کا دعویٰ کر چکی تھی....!!
میں نے ان بری خصلتوں کو بھی اپنایا جن کے متعلق "میں کبھی نہیں کروں گی" کا اعلان کر چکی تھی....!!
اور ان لوگوں کو بھی چھوڑ دیا جن پر "فار ایور" کا ٹیگ چسپاں کیا تھا....!!
غرض یہ کہ بحثیت انسان میں کچھ نہیں....!!
اور تقریباً ہم سب ایک نا ایک دن ضرور....!!
ان سب باتوں پر یقین لے آئیں گے....!!

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Riyadh