Muhammad Sail Anwar

Muhammad Sail Anwar

Share

07/05/2023

خوب وينم عالمه که ئې څوک راکړی معنا
پروت يم سر مې اېښې د خپل يار په زنګانه

خوب وينم چې پورته په هوا لکه د باز شومه
کيناستم په بام د محمود سترګې د اياز شومه
پورته د خاموش زړګى نه خوږ د مينې ساز شومه
خرڅه مې په حورو کړه د ډمو زمانه

خوب وينم چې ناست يم د جيندى په يخه غاړه
شا مې سويلو کښې لکه سره شمع ولاړه
سرې شونډې مسکئ شوې راته ئې وې چې ژاړا ژاړه
څکه دې د زړه وينې دا شراب دی مستانه
خوب وينم عالمه که ئې څوک راکړى معنا

خوب وينم چې باغ دې د ګلونو او ماښام دې
سرې سترګې ساقى د ساقى سرو ګوټو کښې جام دې
لاس په ستار پروت ليونې مست لکه خيام دې
اړئ پرې نرئ نرئ د مينې افسانه
خوب وينم عالمه که ئې څوک راکړى معنا

خوب وينم چې سپينه سپوږمئ پاس په خندا راغله
ماله محبوبه په شرم شرم خندا راغله
شونډو کښې شراب او په کوکئ کښې قضا راغله
سُر خمار ئې راکه پيمانه په پيمانه
خوب وينم عالمه که ئې څوک راکړى معنا

خوب وينم چې پټ شوم په نسيم کښې بهر لاړمه
خوا له د جانان لکه د مينې نظر لاړمه
سترګو د دلدار له لکه خوب د صحرا لاړمه
يو شړڼګ کښې مې لوټ کړه د عمرونو خزانه
خوب وينم عالمه که ئې څوک راکړى معنا

خوب وينم چې زه لکه لولکه په سيل اووتم
پورته د نرګس نه شوم په خوا د رامبېل اووتم
تاؤ د سپينې غاړې د ليلا په امېل اووتم
پټ مې ورته ووې سلامونه جانانه
خوب وينم عالمه که ئې څوک راکړى معنا

خوب وينم چې پورته لکه چغه د منصور شومه
يا يو موټې خاؤره وم يا لوې درياب د نور شومه
خو بانګ د سحر اوشو زه راویښ شومہ حضور شومه
خوب يوړه خوبونه را ژوندئ شوه زمانه
وې پريوزه ليوانيه تيراوه دې جيلخانه
غني خان
حیدرآباد جیل ۱۹۴۸

07/01/2023

لکھنو کے انگریز ڈی سی کے سامنے ایک امیدوار کسی معمولی اسامی پر بھرتی ہونے کی انٹرویو کیلئے بیٹھا ہے ۰ امیدوار میرٹ پر پوار اترتا ہے مگر ہے مسلمان ۰اور 1857 جنگ کی تناظر میں برٹش سرکار مسلمانوں کی بھرتی میں کافی محتاط۰

صاحب بہادر نے امیدوار سے سوال کیا:

کیا بطور ریفرنس اپ کا برٹش سرکار سے وابستہ کسی شخص سے تعلق ہے؟

امیدوار : جی سر ، سر سید کا رشتہ دار ہوں!

سر سید کی عظمت اور حیثیت کی پیش نظر اس جواب کا اثر واضح تھا۰ صاحب بہادر چونکا کے کہنے لگا:

تم سر سید کے رشتہ ہو! اوکے میں سر سید کو لکھتا ہوں وہ کنفرم کریں تو تم اس عہدے کیلئے سلیکٹ ہوئے۰

اس کے بعد سر سید کو فورا لکھا کہ سر، فلاں ابن فلاں ، اس اسامی پر بھرتی ہونے کیلئے امیدوار ہے ۰ ریفرنس مانگا تو کہتا ہے اپ کا رشتہ دار ہے۰ اپ تصدیق کریں تو ہم سلیکٹ کرتے ہیں۰

سر سید نے جواب دیا: جی بلکل میرا رشتہ دار ہے اور قابل اعتماد ہے۰ سفارش بھی کی جاتی ہے۰

صاحب بہادر نے امیدوار کو اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری کی۰

زمانہ گزرا۰ ڈی سی صاحب کمشنر یا لیفٹننٹ گورنر بن گئے ہوں گے۰
۰۰۰۰کتابی حوالے بھول جاتا ہوں۰ واقعے کی تفصیل میں پس و پیش اور کم و کاست لازمی ہے۰ مراد اباد یا علی گڑھ یا جہاں کہیں سر سید مقیم تھے اتفاق سے صاحب بہادر کو وہاں جانا پڑا۰ حسب روایات سر سید کے سلام کیلئے تشریف لائے۰ دوران گفتگو سرسید کو اوبلائج کرنے کی غرض سے اسی مسلمان امیدوار کا ذکر کیا۰ سرسید کی ذہن سے بات مکمل نکل چکی تھی۰ صاحب بہادر کو حیرت میں کہا کہ میرے تو لکھنو میں کوئی رشتہ دار نہیں ۰ صاحب بہادر نے فورا کہا: سر، پھر اپ نے مجھے جھوٹ بولا تھا!

سرسید نے تفصیل دریافت کی ۰ صاحب بہادر بولے کہ ایک مسلمان امیدوار نے انٹرویو میں بطور ریفرنس اپ کے رشتہ دار ہونے کا دعوی کیا۰ ہم نے اپ کو باضابطہ مراسلہ لکھ کر تصدیق مانگی۰ اپ نے جواب دیا نہ صرف میرا رشتہ دار ہے بلکہ اسی کو بھرتی کیا جائے۰ ہم نے بھرتی کیا۰ اب اپ کہتے میرا لکھنو میں کوئی رشتہ دار ہے ہی نہیں۰

سرسید نے جواب میں فرمایا:

“ میرے جھوٹ بولنے سے کسی مسلمان کو نوکری ملے تو میں ہزار بار ایسا جھوٹ بولوں گا۰ اور اپ نے کرنا ہوگا!”

سر ولیم موئر کے “لائف اف محمد” کے جواب میں “خطبات احمدیہ” کیلئے تحقیق کی سلسلے میں لندن میں تھے۰ پیسوں کی ضرورت ہوئی تو تار گھر جا کے نواب وقار الملک کو تار کیا کہ میری ماں اور دادی کے فلاں فلاں زیور فروخت کرکے مجھے پیسے بھیج دیں کہ سیرت محمد پر یہ ریسرچ پوری ہو۰ تار گھر سے واپسی پر ایک انڈین نوجوان نے روکا کہا سر سر ھندوستان سے ہوں، یہاں سٹڈی کرتا ہوں۰ پیسے ختم ۰بھوکوں مر رہا ہوں کچھ مدد کیجئے۰ جواب دیا ابھی گھر تار بھیجا۰ کوشش کرتا ہوں تم اپنا ایڈریس دو۰ کچھ بندوبست کرتا ہوں۰ کچھ آگے گئے۰ ایک انگریز خاتون نے آواز دی ۰ روکے۰ خاتون نے کہا میں ہدایتکار ہوں۰ میری تھیٹر میں ڈرامے کیلئے ایک لمبی ڈاڑھی والا کردار چاہئے۰ تم کرسکتے ہو تو بڑا معاوضہ دوں گا۰ فورا وہ ہم وطن غریب طالب علم ذہن میں ایا۰ خاتون کے ساتھ گئے۰ ایکٹنگ کی۰ ڈانس کی۰ پیسے ملے تو طالب علم کی ایڈریس جیب سے نکال کر دیکھی۰ سیدھے وہاں جاکر وہ پیس حوالہ کئے اور قلبی مسرت کے ساتھ واپس قیام گاہ لوٹے!

یہ تھے سرسید ! دہائیاں گزر گئے۰ مولوی، سیاسی، لبرل، نیشنلسٹ ان پر کیچڑ اچھالتے اچھالتے تھک گئے مگر ان کی عظمت میں کمی نہیں ائی۰ کیونکہ ان کی عظمت عمل، خلوص، اور دیانت پر مبنی تھے۰

جوزیف سٹالن نے ایک جگہ کہا تھا Nationality is a state of mind,change it and your nationality changes ۰
کوئی درست سمجھے یا غلط میں خود کو ایک پراؤڈ کیبکر Quebecker سمجھتا ہوں۰ کیبک Quebec میرا adopted mother ہے۰ کیبک امیگریشن ، کینیڈین امیگریشن سے الگ اور کافی سخت ہے۰ جس دن میں کیبک ایا کیبک حکومت کے چار اہلکار جہاز ٹیوب تک استقبال کیلئے ائے۰ دوسری دن ڈپٹی منسٹر فرانسسائیزیشن اینڈ انٹیگریشن سے ملاقات تھی۰ اور ان کی پہلی بات اب تک میرے دل پر نقش ہے ۰ کہا :

Rashid, reserve a place for yourself in the cemetery. You have to live here and die here. You were Québécois, born outside Quebec.
کیبک ایک ایتھیسٹ ریاست ہے جس کی بنیاد صرف انسانی اقدار پر ہے۰ اس نے مجھے عزت نفس ، شناخت، نئی زندگی ، ازادی، سیکورٹی سب کچھ دیا ۰ اس نے میرے سارے خواب حقیقت میں بدل دئیے۰ تاہم میں جتنا بھی فرار کروں ہزاروں میل دور اس خوبصورت مگر بدقسمت زمین، اور اس خوبصورت ترین مگر مظلوم ترین اور بدقسمت ترین قوم کیساتھ فطری تعلق سے خود کو الگ نہیں کرسکتا۰ مجھے یا میرے خاندان کو وہاں کوئی ضرورت نہیں ۰ لیکن میرٹ دشمن سیاسی و سرکاری کلچر کی بنا پر روزانہ کسی نہ کسی نادار اور بے آسرا نوجوان کیلئے کسی موجود صاحب بہادر سے منت سماجت کرنی ہوتی ہے۰ میں اس پر شرماتا نہیں، نہ پشیمان ہوں۰ یہ میری سرمایہ حیات ہے۰ یہ مجھے انسانیت سے اپنے حسین رشتے کا احساس دلاتی ہے ۰ لیکن بعض فرعون بے سامان صاحب بہادروں کا رویہ ایک اذیت کی باعث ہوتی ہے۰ گزشتہ دنوں ایک صاحب بہادر سے ایک صاحب فراش ماں اور چار معصوم بہنوں جن میں ایک معذور ہے کے بھائی ایک بے اسرا نوجوان کیلئے سفارش کی۰ صاحب بہادر نے مروت اور اخلاق کے تمام اصولوں کو مات دے کر جواب دیا:

“ملک ایسے غریبوں سے بھری ہے۰ میں نے اسکے باپ کو پانچ بچے لانے کا نہیں کہا تھا۰ خدا نے پیدا کیا ہے تو خدا جانے!”

کل پرسوں اس داعی و مدعی لبرلزم صاحب بہادر نے وہی اسامی اٹھ لاکھ میں بھر دی۰ آج اس صاحب نے مولانا طارق جمیل صاحب بارے ایک طنزیہ پوسٹ لگائی ہے۰۔ قارئین کے علم میں ہوگا میں نے کبھی مولانا بارے طنز و تعریض کا اظہار نہیں کیا ۰ اولا ایک تو ان سے ذاتی تعلق اور مجھ پر ان کی شفقت۰ دوم مشت نمونہ از خروار ایک واقعہ ۰ اسی طرح ایک بے آسرا نوجوان کی بھرتی کیلئے مولنا سے سفارش کی۰ نوجوان مولانا سے ملے تو منہ سے نکل گیا کہ جو صاحب بھرتی کر رہے ہیں وہ دس لاکھ مانگتے ہیں۰ مولانا نے فورا چیک مانگ کر دس لاکھ دئے۰ کہا اس سے اپنا کام نکال۰ کام ہوجائے تو رشید جان کو بتانا بس مولانا نے سفارش کی ۰
زمانہ بعد اس نوجوان نے مجھے حقیقت حال سے اگاہ کیا تو میں نے مولانا کا شکریہ ادا کرنے کیساتھ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا۰ کہنے لگے کسی غریب کا کام نکل جائے یہ ھدف ہے۰ طریقہ کار نام اور کام سے غرض نہیں۰

و کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ سو جو نہ مانیں ان کی سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں۰ ہاں مولانا کے نزدیک رہنے والے ان جیسے بے شمار واقعات کی تصدیق کرسکتے ہیں۰

اور یہ تنہا مثال نہیں۰ جب بھی کسی ضرورت مند کیلئے کسی کو ہاتھ پھیلایا لبرل ، لفٹسٹ ، سوشلسٹ ، کمیونسٹ، مارکسسٹ ، ہینومنسٹ ، روشن خیال سب عذر معذرت کرکے جان چھڑا لیتے ہیں۰ میں خود دھریت مائل متشکک ۰ یہ نہیں کہتا کہ دل و دست کے فیاض لبرل و لفٹسٹ نہیں ہوگے۰ لیکن انسان اپنے تجربے اور مشاہدے کا مکلف ہے اور میرے مشاہدے میں ایسا کوئی لبرل و لفٹسٹ برائے مثال بھی نہیں ایا ۰ ہمیشہ معمولی صدا دینے پر یہی تنگ نظر ،مذہبی، متعصب ہر قسم انسانی کیلئے دوڑتے آتے ہیں ۰ عرصہ قبل پشاور یونیورسٹی کے ایک ضرورت مند طالب علم کیلئے ایک سرمایہ کار مارکسسٹ سے رابطہ کیا۰ کامریڈ صاب نے طبقاتی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام پر الزام لگا کر معذرت کی۰ فون بند کرکے ایک مولوی دوست سے بات کی ۰ انہوں نے طالب علم کا نمبر مانگا۰ جاکر اس کو گاڑی میں بٹھا کر مدرسے لائے۰ کھانا کھلایا اور تمام ضرورت پوری کرکے ہاسٹل پہنچایا۰ ماضی میں دوکٹر مذہبی آرمی افسران سے قلبی تعلق رہی۰ سرجن جنرل آرمی میڈیکل کور لیفٹننٹ جنرل حافظ مشتاق احمد بیگ شہید اور بریگیڈئیر ڈاکٹر سکندر ملک شہید انتہائی مشفق بزرگ تھے۰ روزانہ ان کو کسی نہ کسی ضرورت مند کی سفارش کرتا۰ رات کو فارغ ہوکر کھانا کھانے آتے فون ملاتے اور جو پیش رفت ہوتی تفصیل سے بتاتے ۰ حافظ سعید دنیا کے لئے جو ہیں ، جیسے بھی ہیں میرا اس سے سروکار نہیں۰ میں بھی ان کی سیاسی طرز عمل کا شدید ناقد و مخالف ہوں۰ تاہم ماضی میں ان سے مختلف حاجت مندوں کیلئے رابطہ کیا۰ منٹوں بعد ان کے بہنوئی اور خارجی امور کے انچارج حافظ عبدالرحمن مکی صاب رابطہ کرتے کہ متعلقہ شخص تک رسائی کی گئی ہے۰ جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ایم این اے سید بختیار معانی Bakhtiar Maani Maani یہاں موجود ہیں ۰ پی ٹی ایم دھرنوں میں افطار پہنچانے سے لیکر ہر ہفتہ ان سے کسی نہ کسی کیلئے امداد کی زحمت دیتا ہوں۰ کبھی ما تھے پر شکن نہ ائی۰ جبکہ سیاست کی منڈی سے کروڑو کمانے والے نیشنلسٹ و لفٹسٹ لیڈرز پھر فون تک نہیں اٹھاتے۰۰۰

مکرر عرض ہے کہ مجھے ان شخصیات کی سیاست سے اختلاف ہے اور رہے گی۰ ان کا انسانی ہمدردی کیلئے ہمہ تن اور کھلے دل سے عملی مظاہرہ میرے لئے آئیڈیل اور باعث مسرت ہیں۰ مجھے ان کئ دوستی پر ناز ہے۰۰۰۰اپ مجھے ملا زادہ ہونے اور ملا پرستی اور تضاد و مصلحت کا شکار ہونے کی طعنے دیں ، ان کو بھی جہادی و اسٹبلشمنٹ مہرے ہونے کی گالیاں دیں مگر اپ کی انسانیت اور لبرلزم کیلئے اپ کا عملی کردار کافی ہیں ۰۰۰ہمارے لئے ایسے متعصب ، شدت پسند ، مذہبی و مولانا بس ہیں ، آپ کے لئے اپ کا لبرلزم و نیشنلزم ۰ ان کی ہاں عمل ہے۰۰۰۰ آپ کی مثال فرنچ فلسفی مشل فوکو Mitchel Foucault کے Walking Lies کی ہے۰ اپ کے ہاں نرے دعوے، مجرد لیکچرز، ہوائی باتیں اور خالی خولی فلسفے ۰۰۰۰۰لکم دینکم ولی دین۰

رشید یوسفزئی

Photos from Muhammad Sail Anwar's post 02/01/2023

آہ میرے اندلس 💔
۲ جنوری ۱۴۹۲ - یوم سقوطِ غرناطہ

وہ کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ الحمراء کی چابیاں بادشاہ کو دیتے وقت کہنے لگے:
"یہ چابیاں اندلس میں عربوں کی حکمرانی کی آخری نشانی ہے ، آپ انہیں لے لیجئے کیونکہ خدا کی مشیت کے مطابق ہمارا ملک ، مال اور جانیں سب آپکی ملکیت میں ہیں"۔

یہ کہتے ہوئے وہ چابیاں اس سے گر گئی ، اٹھانے کے لئے جب جھکے تو بادشاہ نے اسکا کندھا پکڑا اور کہا:
"الحمراء ایسی دولت ہے جسکے لئے ہم تمھارے قدموں میں جھکنے کے لئے تیار ہے"،
اور اسکےساتھ ہی وہ بھی جھکے اور اس کے قدموں سے وہ چابیاں وصول کی۔

یہ کسی ڈرامے کا سسپنس منظر نہیں بلکہ ایک قوم کے طلوع ہونے اور ایک دوسرے قوم کے غروب ہونے کی وہ سچی داستان ہے جو آج ہی کے دن دو جنوری 1492 کو وقوع پذیر ہوئی تھی جسکے ہر باب پر آنسووں اور خون کےدریا ہیں،
یہ مسلم اسپین یا ہسپانیہ کے زوال کی کہانی ہے، اس فاتح بادشاہ کا نام فرڈینینڈ تھا اور مفتوح بادشاہ کا نام ابو عبداللہ تھا، الحمراء کی چابیاں دیتے وقت اسپین اور پرتگال پر مسلمانوں کی سات سو سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہو گیا ، ابو عبداللہ غرناطہ سے نکلا اور دور پہاڑی پر سستانے کے لئے بیٹھ گیا اور پیچھے غرناطہ کی طرف دیکھا تو زور زور سے رونے لگا جس پر اسکی ماں نے یہ تاریخی جملہ کہا:
"اگر مردوں کی طرح جنگ نہ کر سکے تو عورتوں کی طرح آنسو بہانے کی ضرورت نہیں"۔

جس جگہ ابو عبداللہ نے آنسووں بہائے تھے آجکل وہاں پر ایک گاوں ہے جسکا نام suspiro dil moro ہے، سپینش زبان میں suspiro کا مطلب ہے لمبی آہیں اور moro کا مطلب ہے مسلمان یعنی اس جگہ کا نام ہے مسلمانوں کی آہیں۔
آج یوم سقوط اندلس یا یوم سقوط غرناطہ ہے ، وہ دن جسکے بعد مسلمانوں نے ہسپانیہ اور غرناطہ کھو دیا۔

اقبال رح نے جب غرناطہ دیکھا توپکار اٹھے تھے:

غرناطہ بھی دیکھا میرے آنکھوں نے ولیکن،
تسکین مسافر نہ سفر میں نہ حضر میں،
کیونکر خس وخاشاک سے دب جائے مسلمان،
مانا کہ تب وتاب نہیں اس کے شرر میں

Want your business to be the top-listed Media Company in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Riyadh