Knowledge is power

Knowledge is power

Share

06/09/2025

معشوق کا عاشق کو نظر انداز کرنا کئی پیچیدہ وجوہات پر مبنی ہو سکتا ہے، جن میں جذباتی دوری، تعلقات میں مسائل، بدلتی ہوئی ترجیحات، یا جذباتی دوری اور کنٹرول قائم کرنے کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں۔
جذباتی اور نفسیاتی وجوہات:
ذہنی دوری یا ناراضگی:
معشوق ممکنہ طور پر عاشق سے جذباتی طور پر دور ہو رہا ہو، یا کسی بات پر ناراض ہو جس کی وجہ سے وہ نظر انداز کر رہا ہے۔
خود کی حفاظت:
بعض اوقات لوگ جذباتی طور پر شدید تعلقات سے بچنے کے لیے نظر انداز کرتے ہیں تاکہ خود کو جذباتی تکلیف سے بچا سکیں۔
کنٹرول حاصل کرنا:
نظر اندازی ایک قسم کا کنٹرول حاصل کرنے کا حربہ ہو سکتا ہے، جہاں معشوق عاشق کے ردعمل کو دیکھ کر یا اس کے جذبات پر اثر انداز ہو کر خود کو بہتر پوزیشن میں محسوس کرتا ہے۔

تعلق کا ختم ہونا:
ہو سکتا ہے کہ معشوق اب تعلق میں دلچسپی نہ رکھتا ہو اور نظر اندازی کے ذریعے تعلق ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
ذاتی مسائل:
معشوق اپنی زندگی میں کسی پیچیدہ صورتحال یا ذاتی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جذباتی طور پر مصروف ہو اور عاشق کی طرف توجہ نہ دے سکے۔
توجہ کا عدم توازن:
اگر عاشق کی طرف سے بہت زیادہ توجہ یا مطالبے کیے جا رہے ہوں، تو معشوق اپنی جذباتی توانائی بچانے کے لیے نظر انداز کر سکتا ہے۔

29/08/2025

انسان کو مثبت سوچنا چاہیے کیونکہ مثبت سوچ سے انسان کی دل ودماغ ترتازا رہتا ہے

28/12/2024

ایک دن بسلسلہ امتحان لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ جون کی دو تاریخ تھی گرمی کی شدت اور حبس بھی انتہا کی تھی۔ واپسی پہ رستے سے میں نے ایک جگہ رک کر ٹھنڈی سردائی پی اور رکشہ لے کر جب نجی بس ٹرمینل پہ پہنچا تو ٹکٹ سنٹر پہ بیٹھے ملازم سے سیالکوٹ جانے کے لیے ٹکٹ مانگا تو اس نے بتایا کہ آپ کی گاڑی تین گھنٹے کے بعد ٹرمینل پہ آئے گی تو اس بابت آپ کو تین ساڑھے تین گھنٹے متعلقہ گاڑی کا انتظار کرنا ہو گا۔ یہ سنتے ہی ایک لمحہ تو پریشانی ہوئی کہ اتنا وقت انتظار تو بہت مشکل ہے اسی دوران میں سوچا کہ کسی اور بس سٹیشن سے پتا کر لوں کہ اگر کوئی گاڑی اسی لمحہ نکل رہی تو میں اس میں چلا جاؤں لیکن بے سود۔

انتظار کے علاوہ اور کوئی آپشن نہ بچا تھا کیوں کہ یہی بس تھی جو مجھے سب سے پہلے مل سکتی تھی۔ تو پھر اسی بس کے انتظار میں پہلے تو میں نے بیٹھنے کے لیے اک مناسب جگہ ڈھونڈنا چاہی لیکن بے سود۔ کیونکہ اس وقت ٹرمینل مسافروں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا کہیں کوئی جگہ نہ مل سکی کچھ دیر تو میں کھڑا انتظار کرتا رہا اور اپنے ارد گرد اور ٹرمینل کے اندر اور باہر آتے جاتے مسافروں کو دیکھتا رہا۔ کچھ دیر تقریباً آدھا گھنٹا ایسے ہی کھڑے کھڑے انتظار کرنے کے بعد بالآخر ایک سیٹ خالی ہوتی نظر آئی۔

میں جلد از جلد وہاں براجمان ہونے کے لیے تیزی سے اس جانب بڑا اور اس سیٹ کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔ ابھی اتنے میں تین گھنٹے بس کی آمد میں باقی تھے۔ جب میں گاڑی کی آمد کا انتظار کر رہا تھا تو مشاہدے میں آیا کہ ہر شخص کسی دوسرے مرد و عورت کو مختلف زاویہ سے دیکھ رہا تھا اور بقدر بساط منفی یا مثبت رائے دے رہا تھا یا کوئی خاندان اپنی ہی باتوں میں مشغول تھا۔ انہی بے چین ہستیوں کے درمیان میں نے ایک ننھی سی گڑیا کو دیکھا جو کہ ارد گرد سے قطعی لاتعلق، اپنے آپ میں ہی مگن تھی۔

اس کو کوئی فکر نہ تھی کہ کون آ رہا کون جا رہا کوئی کیا کر رہا یا کیسا دک رہا ہے۔ اس کی اس درجہ بے نیازی نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ وہ کون سی ایسی قوت ہے جس نے اس کو ہر چیز سے دور رکھا ہوا ہے کہ جس نے باقی سب کو پریشان کر رکھا ہے، وہ کیوں نہیں ارد گرد آتے لوگوں کو دیکھ رہی اتنا ابھی سوچا ہی تھا کہ اس کے ہاتھ میں مجھے اک چیز نظر آئی جس میں وہ کھوئی ہوئی تھی۔ وہ تھا لالی پاپ۔ جس نے اسے اپنے آپ میں اتنا مشغول کر دیا تھا کہ اس کے سامنے دنیا کی ہر چیز ہر رنگینی ماند پڑ گئی۔ وہ ارد گرد ساری چیزیں اس کے لیے بے مول تھیں۔

اس ایک لمحے نے زندگی کا فلسفہ سمجھا دیا اور بندگی کا حق بھی سکھا دیا کہ اگر بچے کو اپنی من پسند چیز مل جائے تو اس کے لیے باقی ماندہ تمام اجزاء میں دلچسپی ماند پڑھ جاتی ہیں۔ پھر جو اس کی من پسند چیز اس کے پاس ہوتی ہے تو وہی اس کے لیے سب کچھ ہوتا!

کاش کہ قناعت پسندی اور ارتکاز کا یہ مقام ہم بڑے بھی پا سکیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Riyadh
RIYADH