HASI FACTS
10/06/2026
کیا ماڈرن زمانہ تھا میرے نبیﷺ کا، جہاں عورتیں کاروبار کرتی تھیں، اپنی پسند کا اظہار کرتی تھیں، خود نکاح کا پیغام بھیجتی تھیں، اور شوہر سے کوئی مسئلہ ہوتا تو سیدھی نبیﷺ کی بارگاہ میں شکایت لے کر پہنچ جاتی تھیں۔ وہ ایک ایسا دور تھا جہاں طلاق گناہ نہیں تھی اور بیوگی کوئی جرم یا عیب نہیں تھی۔ کون کہتا ہے کہ اسلام ماڈرن دین نہیں ہے؟ ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو آج کی نام نہاد جدت پسندی بھی اس روشن خیالی کے سامنے پھیکی نظر آئے۔
لیکن افسوس، آج ہم نے اس دینِ فطرت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ آج وہ آزادی کہاں گئی جو چودہ سو سال پہلے عورت کو تحفے میں ملی تھی؟ اج کل تو حالت یہ ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اعتراض اٹھایا جاتا ہے، انہیں علم کے نور سے محروم رکھنے کے لیے مذہب کی من مانی تشریحات پیش کی جاتی ہیں۔ وہی دین جس کی پہلی وحی "اقرأ" (پڑھ) سے شروع ہوئی، آج اسی کے ماننے والے بیٹیوں کے کتابیں اٹھانے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔
سب سے بڑا تماشا تو وہاں قائم ہوتا ہے جہاں کسی بیٹی کی پسند کی شادی کی بات آئے۔ جیسے ہی کوئی لڑکی اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنا چاہے، تو معاشرے اور نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کی سوئی ہوئی "غیرت" اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ جس معاشرے میں نکاح کو آسان اور طلاق یا بیوگی کو ایک عام سماجی حقیقت تسلیم کیا گیا تھا، وہاں آج طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کو منحوس سمجھا جاتا ہے اور پسند کی شادی کرنے والی کو خاندان کی عزت کا قاتل قرار دے دیا جاتا ہے۔ محبت اور حلال رشتے پر کفر کے فتوے لگتے ہیں، لیکن ظلم اور جبر پر سب خاموش رہتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں، وہ اسلام کا راستہ نہیں بلکہ ہماری اپنی جاہلانہ رسومات اور انا پرستی ہے۔ ہم نے دین کو آسان بنانے کے بجائے اسے بیٹیوں کے لیے ایک قید خانہ بنا دیا ہے۔ اگر ہم واقعی دیندار بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں واپس اسی ماڈرن اور روشن دور کی طرف لوٹنا ہوگا جو میرے نبیﷺ نے قائم کیا تھا، جہاں عورت بوجھ یا گناہ کی علامت نہیں، بلکہ عزت، وقار اور فیصلے کا حق رکھنے والی ایک آزاد انسان تھی۔
09/06/2026
وقت کی بے رحم لہریں کسی کو نہیں چھوڑتیں۔ ایک زمانہ تھا جب سلمان خان کی ایک جھلک پر کروڑوں دل دھڑک اٹھتے تھے۔ ان کا جادو ایسا تھا کہ ہر کوئی ان جیسا بننے کا خواہشمند تھا۔ لیکن آج جب ہم ان کی بڑھاپے کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔
وہ چہرہ جو کبھی شادابی اور جوانی کا نمونہ تھا، اب اس پر عمر کے نشانات نمایاں ہیں۔ وہ آنکھیں جو کبھی شرارت اور شوخی سے بھری تھیں، اب ان میں ایک گہری خاموشی اور شاید پچھتاوا جھلکتا ہے۔ کیا یہ وہی سلمان خان ہیں جن کی شہرت کے قصے گلی گلی مشہور تھے؟
یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔ شہرت، دولت، حسن، جوانی — یہ سب ایک نہ ایک دن ختم ہو جانے والی چیزیں ہیں۔ ہم ان کے پیچھے بھاگتے ہیں، ان کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کر دیتے ہیں، لیکن آخر میں ہمیں خالی ہاتھ ہی جانا ہوتا ہے۔
یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور ہم سب یہاں ایک مختصر وقت کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں اس وقت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے، آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنی زندگی میں کیا بویا ہے، کیونکہ وہی ہم نے آخرت میں کاٹنا ہے۔
آخر میں، قبر کی خاموشی ہم سب کا انتظار کر رہی ہے۔ وہاں نہ شہرت کام آئے گی، نہ دولت، اور نہ ہی جوانی۔ وہاں صرف ہمارے نیک اعمال اور ہماری نیت ہی ہمارے ساتھ ہوں گی۔ ہمیں اس حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور ہمیشہ آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔
خدا ہم سب کو ہدایت دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.