Four Friends

Four Friends

Share

Photos from Four Friends's post 20/08/2025

مسجد المصبح – مدینہ منورہ میں پہلی نمازِ فجر کی یادگار

مدینہ منورہ کی بابرکت سرزمین پر ایک اور یادگار مسجد ہے جو تاریخ کے روشن اور ایمان افروز لمحوں کی گواہ ہے۔ یہ ہے مسجد المصبح، جسے مسجد بنی انیف بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد قباء سے صرف چند قدم کے فاصلے پر جنوب مغرب کی سمت واقع یہ مقام اس شرف کا حامل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ شریف میں پہلی نماز فجر اسی جگہ ادا فرمائی۔

یہ جگہ محض ایک مسجد نہیں بلکہ ایک تاریخی یادگار ہے۔ ہجرت کے ابتدائی دنوں میں نبی کریم ﷺ جب مدینہ کے قریب قیام فرما ہوئے تو یہاں پر فجر کی نماز ادا کی۔ بعد میں قبیلہ بنی انیف نے اس مقام کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ایک مسجد تعمیر کی۔ آج بھی پرانی مسجد اپنی اصل جگہ پر قائم ہے، جس کی دیواروں کو محفوظ بنانے کے لیے اردگرد نئی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں تاکہ یہ مقام رہتی دنیا تک باقی رہے۔

آج بھی زائرین جب مسجد قبا جاتے ہیں تو چند قدم آگے بڑھ کر اس مسجد میں نوافل ادا کرتے ہیں اور خاص طور پر فجر کی نماز کی پابندی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ بہت سے اہلِ دل اس مقام کو اپنی زندگی کے معمولات سنوارنے اور نماز فجر کو باقاعدگی سے ادا کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اکثر انسانوں کے لیے صبح کی نماز سب سے مشکل امتحان ہوتی ہے، اور یہی نماز اصل کامیابی اور برکت کی کنجی ہے۔

یہ مسجد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین صرف عبادت نہیں بلکہ محبت، ادب، قربانی اور مستقل مزاجی کا درس دیتا ہے۔ جس طرح حضرت طلحہؓ نے ادب اور محبت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا خیال رکھا، اسی طرح ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں حضور ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنا ہے۔

اے اللہ! ہمیں مسجد المصبح کی برکت سے حصہ عطا فرما، ہماری نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کی توفیق دے، خصوصاً نمازِ فجر کو ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بنا دے۔ ہمیں حضور ﷺ کے عشق اور ادب سے سرشار کر دے، اور ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرما۔ آمین یا رب العالمین۔


#مسجدِنبوی

18/08/2025

حضورﷺ دہر میں آسودگی نہیں ملتی۔
________________________
اے إمام برحق! اے أفضل الخلائق! ہم آپ کے احسانات کی قیمت میں سر پر سر اور جان پر جان دیے جائیں، دیے جائیں یہاں تک کہ سر نہ رہیں، تو بھی آپ کے حق کا عشر عشیر ادا نہیں ہوسکتا۔
آپ کے پروردگار کی قسم! آپ ہماری ہر محرومی کا ازالہ ہیں۔ہر سیاہ بختی کو خوش بختی کی خبر ہیں۔آپ بے اماں کو اماں ہیں۔آپ درماندگان کو عظمت و شوکت کا پیغام ہیں۔
اے حبیب الله و المومنین! آپ کے چشمِ مبارک سے روشن چراغ کبھی نہ دیکھے گئے۔آپ کی مسکراہٹ سے بڑھ کر کرب و الم شکن کچھ نہ ہوا۔آپ کی بعثت ہر رحمت کا سرچشمہ تھی۔آپ کے چہرے مبارک کی روشنی سے جہانِ رنگ و بو روشن ہوگئے۔
اے محمود و احمدﷺ! اب دردِ دل کہتا ہوں، اب آپ کی ملت کا حال کہتا ہوں۔اب آپ کے غم و فکر کے مرکز کا ذکر کرنا ہے۔اب آپ کی دعاؤں کے محور کی بے حرمتی عرض کرنا ہے۔
اے غمِ خوارِ امت ﷺ! آپ کے نام لیواؤں کی کوئی آبرو نہیں۔آپ کی بیان کی گئی حرمتِ مسلم کا کسی کو پاس نہیں۔کعبہ کے نگہبان کعبہ کے پاسبان نہیں۔آپ کے وارثین(ہونے کے دعویدار) طاغوت کے جنشِ چشم و ابرو کی مخلوق ہیں۔
امتِ مرحوم کے سینے میں کیسے کیسے خنجر اتارے گئے ہیں،کیسے کیسے تڑپائے گئے ہیں۔یہ بیان کی سہار سے باہر ہے۔
یا رسول الله ﷺ! ہماری جوانیاں آپ کی حرمت اور امت کے تقدس پر نثار ہوں۔حق حق پرستی کا ہم سے حق ادا کروا دیں!

ڈاکٹر طارق رمضان





#مسجدِنبوی
#

Photos from Four Friends's post 12/08/2025

مسجد عتبان بن مالکؓ – محبتِ رسول ﷺ اور سہولتِ امت کی علامت

مدینہ منورہ میں مسجد قبا کی سمت جاتے ہوئے راستے میں ایک نہایت باوقار اور تاریخ سے جڑا ہوا مقام آتا ہے—مسجد عتبان بن مالکؓ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی اکرم ﷺ نے ایک بدری صحابیؓ کی درخواست پر ان کے گھر میں نماز ادا فرمائی، اور اسی نسبت سے یہ جگہ ہمیشہ کے لیے بابرکت ہو گئی۔ بعد میں اسی مقام پر مسجد قائم کی گئی، جو آج تک قبا کے راستے میں آنے والے زائرین کے لیے عقیدت کا مرکز ہے۔

حضرت عتبانؓ بن مالک الانصاری، قبیلہ بنی سالم بن خزرج کے معزز صحابی، کمزور بصارت کے باعث بارش کے دنوں میں مسجد میں جماعت کے لیے آنا مشکل تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اُسے ہمیشہ کے لیے مُصلّیٰ بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ ان کے گھر آئے، حضرت عتبانؓ نے جگہ دکھائی، اور آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت ادا فرمائیں۔ وہ لمحہ صرف ایک نماز نہ تھا بلکہ ایک دل کی تسلی، ایک معذور صحابی کی سہولت اور دین کی وسعت کا عملی اظہار تھا۔

آج یہ مسجد مدینہ کے اُس تاریخی راستے کی بھی یاد دلاتی ہے، جس پر چلتے ہوئے زائرین مسجد نبوی ﷺ سے سنت کے مطابق پیدل مسجد قبا کی طرف جاتے ہیں۔ مسجد جمعہ سے قریب ہونے کے باعث یہ زیارت کے لیے ایک خاص ٹھہراؤ کا مقام ہے۔ اس کی فضا میں اُس دن کی خوشبو اب بھی باقی ہے، جب رسول رحمت ﷺ نے ایک چھوٹے سے گوشے کو اپنی نماز سے قیامت تک کے لیے بابرکت بنا دیا۔

یہ مسجد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین آسانی اور سہولت کا نام ہے۔ نبی ﷺ نے ایک معذور صحابی کے لیے خود چل کر ان کے گھر جانا پسند کیا، تاکہ وہ عبادت کو سہولت اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اور یہ بھی کہ جب عبادت اخلاص سے کی جائے تو جگہیں بھی بابرکت اور یادگار بن جاتی ہیں۔

دعا:

اے اللہ! ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے، ہمیں دین میں آسانی اور دوسروں کے لیے سہولت پیدا کرنے والا بنا۔ ہمارے گھروں کو بھی عبادت کا مرکز اور تیری رحمت کا نزول گاہ بنا۔ ہمیں ان مقامات کی برکت نصیب کر اور مدینہ کی گلیوں میں بار بار چلنے کا شرف عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔





#مسجدِنبوی

04/08/2025

اسطوانہ تہجد – راتوں کا وہ ستون جہاں عشق سجدہ کرتا تھا

مسجد نبوی ﷺ کی پرسکون فضا میں جب دن کی گہماگہمی تھم جاتی، چراغ مدھم ہو جاتے، اور دنیا نیند کی آغوش میں چلی جاتی—تب ایک گوشہ ایسا بھی تھا جو جاگتا رہتا تھا۔ وہ جگہ جہاں نیند نہیں، نور اُترتا تھا۔ وہ مقام جہاں دنیا سے کٹ کر آسمان سے جُڑنے کا راستہ کھلتا تھا۔ یہی ہے ’’اسطوانہ تہجد‘‘ جسے نبی مہربان ﷺ کے سجدوں کا مقام کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔

یہ ستون روضۂ رسول ﷺ کی پچھلی جالیوں کے قریب، حجرۂ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں وہ مبارک محراب ہے، جسے دیکھتے ہی دل گواہی دیتا ہے کہ اس مقام پر راتوں کے سجدے گواہ ہیں اُس عشق کے، جس میں محبوبِ خدا ﷺ اپنے رب کے حضور جھکتے، آنکھیں اشکبار ہوتیں، اور امت کے لیے دعائیں نکلتی تھیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ وہ سجدے صرف فرض کی ادائیگی نہ تھے، وہ سراپا محبت تھے، قربت کی پکار تھے، اور رب کی رضا کے لیے تنہائی میں بہنے والے آنسو تھے۔ یہاں وہ لمحے بیتے جب مسجد خاموش، فضا مہک رہی ہوتی اور ایک سجدہ، ایک آہ، ایک گریہ عرش تک جا پہنچتا۔

یہی مقام ’’اصحابِ صفہ‘‘ کے چبوترے کے قریب ہے—جنہوں نے دنیا کی چمک کو ترک کر کے مسجد نبوی کی چھاؤں کو اپنا گھر بنایا۔ یہی وہ سادہ مگر بلند روحیں تھیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے: "اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں…"
حضرت ابوذرؓ، سلمان فارسیؓ، بلالؓ، ابو ہریرہؓ، صہیبؓ، عمارؓ، اور بے شمار دیگر صحابہؓ اسی جگہ علم و عبادت میں مشغول رہتے، اور نبی کریم ﷺ ان سے محبت کرتے۔

آج، سنہری جالیوں کے آگے قرآنِ پاک کی الماریاں سجی ہیں، اور کورونا کے بعد یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، لیکن دل کا زائر جب بھی یہاں سے گزرتا ہے، نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور دل کی ایک دھیمی سی دعا آسمان کی طرف اڑان بھرتی ہے۔

یا اللہ! ہمیں بھی ان سجدوں کی لذت میں سے حصہ نصیب فرما جو تیرے محبوب ﷺ کو نصیب تھیں۔ ہمیں بھی تہجد کی وہ خلوت عطا فرما جہاں صرف تُو ہو، اور ہم تیرے سامنے روتے رہیں۔ ہمارے دلوں میں وہ تڑپ پیدا کر جو اصحابِ صفہ کو عطا ہوئی۔ ہمیں راتوں کا وہ ذوق دے جو نبی ﷺ کی سنت ہے، اور ہمیں قیامت کے دن اُن چہروں کے ساتھ کھڑا کر جو تیرے ذکر میں راتیں گزارا کرتے تھے۔ آمین یا رب العالمین، بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔




#اسطوانہ
#مسجدِنبوی

Telephone