Syed Hassan Raza
تھم سی گئی تھی وقت کی دھڑکن بھی اس گھڑی
جب ہم نے تین بار کہا تھا" قبول ہے "
سید وحدان حسن
ضبط کے دائروں میں رہنا ہے
چلنا کانٹوں پہ پا برہنا ہے
ہے مخالف سمے کی طغیانی
اور الٹی دشا میں بہنا ہے
اس سے طے ہو گا امتیازی سلوک
کس نے کیسا لباس پہنا ہے
کر نہ پاؤ گے تم تصور بھی
جس اذیت کو ہم نے سہنا ہے
رہنماؤں نے کی ہے یہ تنبیہ
سچ چھپانا ہے جھوٹ کہنا ہے
حق پہ ہو تو جچیں گی بیڑیاں بھی
طوق قیدی کے تن کا گہنا ہے
سید وحدان حسن
نجانے گردشوں میں کیوں ستارہ رہ گیا ہے
ازل کے فاصلے پر اک کنارہ رہ گیا ہے
کہ ہر اک یاد سے خالی ہے زنبیل_گزشتہ
مگر وجدان میں وہ اک نظارہ رہ گیا ہے
وہ جس کی خود پرستی رابطوں سے ماورا تھی
انا کے راستوں پر بے سہارا رہ گیا ہے
کیا تھا ابن_آدم نے اکٹھا مال و اسباب
عدم جاتے ہوئے سارے کا سارا رہ گیا ہے
ہمیں دے تو دیے اس نے زمیں کے اختیارات
ہماری ذات پر اس کا اجارا رہ گیا ہے
سید وحدان حسن
کوئی تھامے اسی خواہش میں ہم لوگ
ازل سے ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں
سید وحدان حسن
Click here to claim your Sponsored Listing.