Saleem ehsan

Saleem ehsan

Share

10/03/2026

سلیم میڈیا سروسز مینگورہ کی جانب سے رنگ لاکٹ، پین اور دیگر پروموشنل آئٹمز پر خوبصورت اور معیاری پرنٹنگ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اگر آپ اپنے ادارے، سکول، تنظیم یا کاروبار کے نام اور لوگو کو نمایاں انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں تو سلیم میڈیا سروسز آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ جدید پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر آئٹم کو دلکش اور پائیدار انداز میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ آپ کے برانڈ کی پہچان مزید مضبوط ہو۔ آرڈر اور معلومات کے لیے سلیم میڈیا سروسز مینگورہ سے رابطہ کریں اور اپنے ادارے کی تشہیر کو ایک نیا انداز دیں۔

03/03/2026

اے اللہ!
ہمیں بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما، اور ہماری زندگی کو اپنی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرما۔

27/01/2026

thank You Dear Scouts

12/01/2026

Jeena ha to pir Bahane dondoo kuch alag se

30/11/2025

سکاوٹنگ اور قدرت نظاروں سے محبت کا جنون ۔
ہر موسم سے محبت کا الگ ہی انداز ہونا چاہئے ۔ لیکن جب بات ہو دلگی کی تو وہ اپ پر منحصر ہے ۔ کہ اپ کس موسم سے کتنا ۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

13/11/2025

شمالی علاقہ جات میں سفر کے دوران بالائی علاقوں اور چراگاہوں میں اس طرح کی جھونپڑیاں نظر آتی ہیں۔ شہروں سے آئے سیاح جب اپنے ڈرائیور یا گائیڈ سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟
وہ آگے سے جواب دیتا ہے “یہ مسجد بھی ہو تا اور اس کے ساتھ چرواہوں/بکروال کی جھونپڑی ہے”
یہ مختصر جواب بظاہر ٹھیک لگتا ہے مگر یہ جواب اس جھونپڑی نما مسجد ہے جو جڑی ثقافت کو یکسر اوجھل کردیتا ہے۔
پہاڑوں میں خاص طور پر وادی کالام میں، یہ جھونپڑی نما مسجد لوک دانش، امن و سلامتی، خوشحالی، پیار محبت اور ایثار و قربانی کی علامت ہے۔
ہم اس کو کوہستانی زبان میں “ڈیکیر” اور چراگاہ کو “بنال” کہتے ہیں۔ جیسے آپ نے جگ بنال میڈو کا نام سنا ہوگا۔
پہاڑوں کی دامن میں واقع گاؤں دیہات میں دو ہی بڑے ذرائع آمدن ہیں۔ زراعت اور لائیو اسٹاک۔ سردیوں کے مسلسل چھ ماہ برف کے نیچے دبی زرخیز زمینیں بہار میں انگڑائی لینے لگتی ہیں تو کاشتکار فصل لگانے کی تیاری شروع کردیتے ہیں مگر ایک رکاوٹ سامنے آجاتی ہے۔
گاؤں کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی جانور، جیسے گائیں اور بھیڑ بکریاں لازمی موجود ہوتی ہیں جبکہ بعض لوگوں کے پاس جانور زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں جن کا سورس آف انکم ہی یہی ہوتا ہے۔
اب کاشتکار فصل لگاتے ہیں تو جانور صبح پہاڑ کی طرف جاتے اور شام کو گھر لوٹتے ہوئے راستے میں فصلوں کا نقصان کرتے ہیں۔
دوسری طرف وہ لوگ جن کے پاس بڑی تعداد میں جانور ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ عذاب بن جاتا ہے کہ سب کو گھر یا شیڈ میں کیسے پالیں، روز اتنا چارہ کہاں سے لایا جائے۔
یہاں معاملے کا حل نکل آتا ہے۔
جس کے پاس زیادہ جانور ہوتے ہیں وہ ان چراگاہوں میں اپنے نام کے ہٹس بناتے ہیں اور اپنے جانور لیکر مزید اوپر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ فیملیز بھی ہوتی ہیں۔
یہاں پہلی مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی سڑک نہیں جاتی۔ پھر پیدل چراگاہ تک پہنچنے میں پورا پورا دن لگ جاتا ہے۔ رستے کہیں ہموار کہیں چڑھائی، کہیں پتھر اور کبھی پانی۔ استعمال کی ہر چیز آپ نے پیٹ یا گدھے پر لاد کر پہنچانی ہے۔
اس طرح ایک گاؤں سے چند فیملیز، جن کی تعداد پانچ بھی ہوسکتی ہے اور بیس بھی۔ پھر ان فیملیز کے وہ عزیز و اقارب، جن کے ایک یا دو جانور ہوتے ہیں، وہ بھی لاکر پہاڑوں میں ان کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ وہ ان جانوروں پرصبح شام نظر ڈالتے ہیں۔ ان کا دودھ نکالتے ہیں اور ڈیری پروڈکٹس بناتے ہیں۔
پھر جس جس کے ایک دو جانور دودھ والے ہوتے ہیں، ان کو وہی ڈیری پروڈکٹس حصہ بقدر جثہ گفٹ کیے جاتے ہیں مگر بڑا حصہ اپنے پاس ہی رکھ لیتے ہیں کیوں کہ یہی ان کا ذریعہ معاش ہے اور وہ نہ صرف اپنے بلکہ دیگر بہت سارے لوگوں کے جانوروں کی دیکھ بھال بھی مفت میں کرتے ہیں۔
گاؤں کے لوگوں کا جب گھی مکھن کھانے کا دل کرتا ہے وہ چراگاہ میں مقیم اپنے کسی عزیز یا دوست کے پاس چلا جاتا ہے اور ان کے لیے تحفے کے طور پر ضروریات کی اشیا جیسے بنیادی ادویات، چائے چینی، آٹا اور ساتھ ہی اگر بچے ہیں تو ان کے لیے چیزیں، پھر اگر کوئی نشہ کرتا ہے تو اس کے لیے سگریٹ نسوار وغیرہ لے کر جاتے ہیں۔
لیکن یہ ساری چیزیں اتنی مقدار میں ہونی چاہئیں کہ آپ اٹھا کر پہاڑ چڑھ سکیں۔ ایسا نہیں کہ آپ آٹے کی بوری اٹھا کر چل پڑیں۔
چراگاہ میں رہنے والوں کے لیے آمد و رفت کے علاوہ دوسری بڑی مشکل پیغام رسانی کی ہوتی ہے۔ چراگاہ میں یا گاؤں میں کوئی ایمرجنسی ہے اور پیغام بھیجنا ہے اور آدھی رات ہورہی ہے، تب بھی آپ نے چل پڑنا ہے۔
چراگاہ میں کوئی زخمی یا زیادہ بیمار ہوجائے تو یہی چند جھونپڑی والے اس کو اٹھا کر گاؤں طرف چل پڑتے ہیں۔ اگر معاملہ ان کی طاقت کا نہ ہو تو گاؤں میں بندہ بھیج دیا جاتا ہے۔
خزاں کی آمد کے ساتھ جب گاؤں سے فصلیں اٹھ جائیں، پہاڑوں پر سبزہ ختم اور برف پڑجائے تو پھر یہ لوگ اٹھ کر واپس گاؤں میں آجاتے ہیں اور پھر کاشتکار ہوں یا ڈیری فارم، طویل سردی کی تیاری میں جت جاتے ہیں۔

Want your organization to be the top-listed Government Service in Swat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Swat
1929