AHM

AHM

Share

14/06/2026

یہ حسین شہید سہروردی کی نماز جنازہ کی تصویر ہے
‏سہروردی جلاوطنی ختم کرکے واپس آنا چاہتے تھے،ایوب خان کے دست راست بھٹو نے انہیں پیغام بھیجا کہ واپس آنے کی کوشش کی تو تمہیں دیکھ لوں گا
‏اسکے کچھ ہی عرصہ بعد سہروردی کی بیروت کے ہوٹل میں پراسرار موت کی خبر آئی

بنگالی اس واقعہ کو ایوبی کُلٹ کا کام سمجھتے تھے۔
‏پاکستان ویسے ہی نہیں ٹوٹا۔ اسے توڑنے کیلئے ایوب، بھٹو نے اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کیا تھا
‏(اصلی مطالعہ پاکستان جو دانشور اور صحافی کسی کو نہیں بتاتے)

بشکریہ وسیم گلُ

11/06/2026

جماعتِ اسلامی اور ہماری اجتماعی ضمیر کا بحران — حصہ دوم
پہلے حصے میں میں نے ایک بات لکھی تھی کہ شاید جماعتِ اسلامی کی سیاسی ناکامی صرف جماعت کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا عکس بھی ہے۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اتفاق کیا، بہت سوں نے اختلاف بھی کیا۔ لیکن چند سوال ایسے ہیں جو ابھی بھی میرے ذہن میں موجود ہیں۔
ہر الیکشن کے بعد ہم عموماً یہ پوچھتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی نے کیا غلطی کی؟ اس کی حکمتِ عملی میں کیا کمی تھی؟ وہ عوام تک اپنا پیغام کیوں نہ پہنچا سکی؟
یہ سوال یقیناً اہم ہیں، مگر ایک سوال ایسا بھی ہے جو شاید ہم خود سے کم ہی پوچھتے ہیں:
ہم نے کیا غلطی کی؟
ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہر ناکامی کی ذمہ داری کسی نہ کسی بیرونی قوت پر ڈال دیں۔ کبھی میڈیا کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، کبھی اسٹیبلشمنٹ کو، کبھی عالمی طاقتوں کو۔ لیکن اگر ایک جماعت کو لوگ دیانت دار، منظم اور خدمت گزار مانتے ہوں اور پھر بھی اسے ووٹ نہ دیں، تو کم از کم یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف جماعت میں ہے یا کہیں ہمارے رویّوں میں بھی؟
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم نے نیکی کو ایک ایسی چیز بنا دیا ہے جسے ہم دور سے دیکھ کر داد دیتے ہیں، مگر اس کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہیں۔
جب سیلاب آتا ہے، زلزلہ آتا ہے یا کوئی انسانی بحران پیدا ہوتا ہے تو جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی خدمات کی تعریف کی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ مخلص ہیں، محنت کرتے ہیں، دیانت دار ہیں۔ لیکن جب فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
شاید اس لیے کہ اچھی باتوں کی تعریف کرنا آسان ہے، مگر ان کی قیمت ادا کرنا مشکل۔
ایک اور بات جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ نظریاتی سیاست کا معاملہ ہے۔
پاکستان میں اکثر لوگ نظریات کی بات تو کرتے ہیں، مگر عملی سیاست میں شخصیات زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ نظریہ صرف حکمران کو نہیں بدلتا، وہ شہری سے بھی تقاضا کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تم اچھا نظام چاہتے ہو تو تمہیں بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
اس کے برعکس شخصیت پر مبنی سیاست امید تو دیتی ہے، مگر ذمہ داری کم مانگتی ہے۔ وہاں اکثر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک مضبوط لیڈر آئے گا اور سارے مسائل حل کر دے گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست بار بار افراد کے گرد گھومتی ہے اور ادارے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں اکثر ایک خاندان، ایک شخصیت یا ایک خاص چہرہ مرکزِ نگاہ ہوتا ہے۔ جماعتِ اسلامی اس لحاظ سے مختلف ہے۔ وہاں قیادت بدل جاتی ہے، لیکن جماعت کا بنیادی نظریہ وہی رہتا ہے۔
لیکن شاید ہماری سیاسی نفسیات ابھی تک شخصیات کے سحر سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکی۔
نوجوان نسل کے بارے میں بھی بہت امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نوجوان بھی اکثر اسی سیاسی ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں جو انہیں ورثے میں ملا ہوتا ہے۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں، لیکن بعض اوقات تبدیلی کو بھی کسی ایک شخصیت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔
یہ کوئی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری مجموعی سیاسی ثقافت کا مسئلہ ہے۔
آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا۔
یہ ضروری نہیں کہ جماعتِ اسلامی کے تمام دعوے درست ہوں یا اس کی تمام حکمتِ عملیاں کامیاب رہی ہوں۔ یقیناً اس سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ لیکن اگر ایک قوم مسلسل دیانت داری، خدمت اور کردار کی تعریف تو کرے مگر فیصلہ کرتے وقت دوسری ترجیحات اختیار کرے، تو کم از کم اسے اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ اور اس کے فیصلوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟
شاید قوموں کا اصل چہرہ ان کی تقریروں میں نہیں، ان کے انتخاب میں نظر آتا ہے۔
اور شاید ترقی کی شروعات بھی وہیں سے ہوتی ہیں جب ہم دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا سیکھ لیں۔
~AHM

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Mardan Road Swabi
Swabi
23430