Mehran Ali Shah
13/04/2026
Is Pakistan Responsible? The Truth behind the Afghanistan conflict | Discover With Mehran Shah Welcome to Discover with Mehran Shah.In this comprehensive and thought-provoking video, we explore one of the most debated and misunderstood questions in mod...
عبدالرزاق سُجرا (رہنما PMLN) اور مھران علی شاہ (چیئرمین پاکستان فشر فوک فورم) کی جانب سے رمضان المبارک کے موقع پر ابراہیم حیدری کے مستحق افراد میں راشن اور کپڑوں کی تقسیم۔ 🌙✨
"PPF Chairman shares Maheegir history & their struggle for rights."
08/03/2025
سندھ ماہی گیر خواتین دریائے سندھ میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کا مطالبہ کر رہی ہیں
کراچی (08 مارچ 2025): شہر کے مختلف علاقوں سے سیکڑوں خواتین ابراہیم حیدری میں جمع ہوئیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دریائے سندھ پر چھ نہروں کی تعمیر کے منصوبے کو منسوخ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ صرف زرعی زمینوں کی کاشت کا مسئلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔
عالمی یومِ خواتین کے موقع پر پاکستان فشر فوک فورم (PFF) نے سمندر کے قریب خواتین کے حقوق اور خود مختاری کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک سائیکل ریلی کا انعقاد کیا۔ درجنوں نوجوان لڑکیوں نے اس میں شرکت کی، ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے، اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں جاری پانی کی قلت کے خلاف نعرے لگائے۔ خواتین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے دریائے سندھ پر نئی نہریں بنانے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔
مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا، "پانی کو قدرتی طور پر بہنے دو!" ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قوم اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب اس کی خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ نے کہا، "پانی ہی ہماری زندگی ہے، دریائے سندھ ہی ہماری زندگی ہے۔ ماہی گیر پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔" انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ کو 1991 کے واٹر ایکارڈ کے مطابق اس کے حصے کا پانی دیا جائے۔
انہوں نے سندھ، خصوصاً ساحلی علاقوں میں پانی کی شدید قلت کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگ اپنے آبائی گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ "ہمارے لوگ خطرے میں ہیں، ہماری ثقافت خطرے میں ہے،" انہوں نے خبردار کیا۔ مہران علی شاہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بنائے گئے ڈیموں نے پہلے ہی سندھ کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، اور اب نہروں کا نیا منصوبہ بحران کو مزید شدید کر دے گا۔
07/03/2025
08 مارچ عالمی یوم خواتین
" خواتین کی طاقت کی آواز میں سندھو کی لہریں بنیں ، جو کبھی نہ رک پائیں
دعوت نامه
اسلام علیکم
دنیا بھر میں 8 مارچ عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے، تا کہ سماج میں موجود صنفی فرق کو ختم کیا جاسکے ۔ ایک ہی دن عالمی یوم خواتین منانے کا خیال 1910ء میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون " کلار از یکن " نے دیا تھا۔ 1975 ء جو کہ عالمی یوم خواتین کا سال تھا، اسی سال یو نائیٹڈ نیشن کی طرف سے 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے طور پر مناناشروع کیا گیا۔ یہ دن اس لیئے منایا جاتا ہے تا کہ جنسی مساوات کو قائم کیا جاسکے ، یعنی وہ حقوق جو مردوں کو با آسانی حاصل ہیں عورتوں کو بھی انہیں دلایا جاسکے۔
پاکستان فشر فوک فورم نے اپنے روز بنیاد سے 08 مارچ عالمی یوم خواتین منانے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے۔ اس سال 08 مارچ عالمی یوم خواتین " خواتین کی طاقت کی آواز میں سندھو کی لہریں ہیں ، جو کبھی نہ رک پائیں " کے زیر عنوان منا یا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان فشر فوک فورم کی طرف سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ایک پروگرام مارچ 08 ، 2025، صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ترتیب دیا جا جارہا رہا ہے، جس میں صبح 11 بجے خواتین سائیکل ریلی ہوگی، دریاء میں پھول ڈالے جائیں گے ، خواتین کے حقوق پر بات چیت ، وغیرہ شامل ہیں۔
اس سلسلے میں آپ سے ساتھیوں سمیت اس پروگرام میں بھر پور شرکت کی گزارش کی جاتی ہے۔
شکریہ
مهران علی شاہ
چیئر مین - پاکستان فشر فوک فورم
مچھیرے: سرحدوں کے قیدی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
مھران علی شاہ
کڑکتی دوپہر میں جب سمندر کی لہریں اپنی آواز بلند کرتی ہیں، تو پاکستان اور بھارت کے مچھیرے اپنی بقا کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے ایک پاکستانی کشتی پر دھاوا بول کر مچھیروں کو گرفتار کر لیا۔ ان مچھیروں پر الزام ہے کہ وہ بھارت کی سمندری حدود میں غیرقانونی طور پر داخل ہوئے، جبکہ مچھیروں کا اصرار ہے کہ رات کے اندھیرے اور سمندر کی بےرحم لہروں میں سرحدوں کا تعین ناممکن تھا۔
شام ڈھلتے ہی بھارتی بارڈر فورسز نے ہوائی فائرنگ کے ذریعے مچھیروں کی کشتیوں کو گھیر لیا۔ گرفتاری کے دوران ایک مچھیرے نے کہا، سمندر کے پانی میں نہ لکیریں ہیں نہ دیواریں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اسی سمندر کو وطن جانا ہے۔ تاہم، بھارتی میجر کے مطابق، یہ جاسوس ہیں اور سازش کر رہے تھے۔ مچھیروں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں وہ "قومی سلامتی" کے نام پر سالوں تک قید رہ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کی جیلوں میں اس وقت سیکڑوں مچھیرے بغیر کسی جرم کے قید ہیں۔ 1999 کے سائکلون کے دوران بھٹک کر بھارت پہنچنے والے چار پاکستانی مچھیروں کو جعلی اسلحہ کیس میں عمر قید دی گئی، جبکہ ایک کی موت کے بعد بھی تین کو رہا نہیں کیا گیا۔ یہ سلوک اقوام متحدہ کے کنونشن آن دی لاء آف دی سی(UNCLOS) کے آرٹیکل 73 کے برعکس ہے، جس کے تحت ماہی گیری کے دوران سرحد پار کرنے والوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک نے یہ کنونشن تو منظور کیا، لیکن عملاً اس کی خلاف ورزی جاری ہے۔
1947 سے پہلے یہ خطہ ایک تھا، مگر تقسیم کے بعد سرحدوں نے نہ صرف زمین بلکہ سمندر کو بھی بانٹ دیا۔ مچھیرے، جو کبھی مشترکہ ثقافت کا حصہ تھے، اب "قومی دشمن" بن گئے ہیں۔ دونوں طرف کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندری حدود کا تحفظ ضروری ہے، مگر اس کے نام پر مچھیروں کو تشدد، جبری مشقت اور قید کی صعوبتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ جیلوں میں قید مچھیرے نہ صرف اپنی آزادی بلکہ اپنی شناخت تک کھو دیتے ہیں۔ پاکستانی جیلوں میں 217 بھارتی، جبکہ بھارتی جیلوں میں 81 پاکستانی مچھیرے قید ہیں۔ ان میں معصوم بچے بھی شامل ہیں، جو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
انسانیت کے دامن پر لگے اس داغ کو مٹانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ UNCLOS کے آرٹیکل 73 کو نافذ کرنے پر زور دیں۔ مچھیروں کی بےگناہی اور سمندر کی بےقصور لہروں کو سیاست کے ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ آخرکار، جس سمندر میں مچھلیوں کے لیے کوئی سرحد نہیں، وہاں انسانیت کی سرحدیں کیوں؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the organization
Telephone
Address
Sindh